5 لہٰذا فریسیوں اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ ہے آپ کے شاگرد بُزرگوں کی روایت پر عَمل نہیں کرتے اَور ناپاک ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں؟“
6 آپ نے اُنہیں جَواب دیا، ”حضرت یَشعیاہ نبی نے تُم ریاکاروں کے بارے میں کیا خُوب نبُوّت کی ہے؛ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے:
9 پھر یہ کہا، ”تُم اَپنی روایت کو قائِم رکھنے کے لیٔے خُدا کے حُکم کو کیسی خُوبی کے ساتھ باطِل کر دیتے ہو! 10 مثلاً حضرت مَوشہ نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا،‘[b] اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘[c] 11 مگر تُم یہ کہتے ہو کہ جو چاہے اَپنے ضروُرت مند باپ یا ماں سے کہہ سَکتا ہے کہ میری جِس چیز سے تُجھے فائدہ پہُنچ سَکتا تھا وہ تو قُربان (یعنی، خُدا کی نذر) ہو چُکی 12 تُم اُسے اَپنے ماں باپ کی کُچھ بھی مدد نہیں کرنے دیتے۔ 13 یُوں تُم اَپنی روایت سے جو تُم نے جاری کی ہے کہ خُدا کے کلام کو باطِل کر دیتے ہو۔ تُم اِس قَسم کے اَور بھی کیٔی کام کرتے ہو۔“
14 پھر یِسوعؔ نے ہُجوم کو اَپنے پاس بُلاکر فرمایا، ”تُم سَب، میری بات سُنو، اَور اِسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ 15 جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے۔ وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی۔ بَلکہ، جو چیز اُس کے اَندر سے باہر نکلتی ہے وُہی اُسے ناپاک کرتی ہے۔ 16 جِس کے پاس سُننے والے کان ہیں وہ سُن لے۔“[d]
17 جَب وہ ہُجوم کے پاس سے گھر میں داخل ہُوئے، تو اُن کے شاگردوں نے اِس تمثیل کا مطلب پُوچھا۔ 18 اُنہُوں نے اُن سے کہا؟ ”کیا تُم بھی اَیسے ناسمجھ ہو؟ اِتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی؟ 19 اِس لیٔے کہ وہ اُس کے دِل میں نہیں بَلکہ پیٹ میں، جاتی ہے اَور آخِرکار بَدن سے خارج ہوکر باہر نکل جاتی ہے۔“ (یہ کہہ کر، حُضُور نے تمام کھانے کی چیزوں کو پاک ٹھہرایا۔)
20 پھر اُنہُوں نے کہا: ”اصل میں جو کُچھ اِنسان کے دِل سے باہر نکلتا ہے وُہی اُسے ناپاک کرتا ہے۔ 21 کیونکہ اَندر سے یعنی اُس کے دِل سے، بُرے خیال باہر آتے ہیں جَیسے، جنسی بدفعلی، چوری، خُونریزی 22 زنا، لالچ، بدکاری، مَکر و فریب، شہوت پرستی، بدنظری، کُفر، تکبُّر اَور حماقت۔ 23 یہ سَب بُرائیاں اِنسان کے اَندر سے نکلتی ہیں اَور اُسے ناپاک کردیتی ہیں۔“
27 یِسوعؔ نے اُس خاتُون سے کہا، ”پہلے بچّوں کو پیٹ بھر کھالینے دے، کیونکہ بچّوں کی روٹی لے کر کُتّوں کو ڈال دینا مُناسب نہیں ہے۔“
28 لیکن خاتُون نے اُنہیں جَواب دیا، ”جی ہاں آقا، مگر کُتّے بھی بچّوں کی میز سے نیچے گرائے ہویٔے ٹُکڑوں میں سے کھاتے ہیں۔“
29 اِس پر یِسوعؔ نے خاتُون سے کہا، ”اگر یہ بات ہے، تو گھر جاؤ؛ بدرُوح تیری بیٹی میں سے نکل گئی ہے۔“
30 جَب وہ گھر پہُنچی تو دیکھا کہ لڑکی چارپائی پر لیٹی ہویٔی ہے، اَور بدرُوح اُس میں سے نکل چُکی ہے۔
33 یِسوعؔ اُس آدمی کو بھیڑ سے، الگ لے گیٔے، اَور اَپنی اُنگلیاں اُس کے کانوں میں ڈالیں۔ اَور تھُوک سے اُس کی زبان چھُوئی۔ 34 اَور آسمان کی طرف نظر اُٹھاکر آہ بھری اَور فرمایا، ”اِفّاتَح!“ (یعنی ”کھُل جاؤ!“)۔ 35 اُسی وقت، اُس آدمی کے کان کُھل گیٔے، اَور زبان ٹھیک ہو گئی اَور وہ صَاف طور سے بولنے لگا۔
36 یِسوعؔ نے لوگوں سے کہا کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ لیکن وہ جِتنا منع کرتا تھے، لوگ اُتنا ہی زِیادہ چَرچا کرتے تھے۔ 37 لوگ سُن کر حیران ہوتے تھے اَور کہتے تھے۔ ”وہ جو بھی کرتے ہیں اَچھّا کرتے ہیں، بہروں کو سُننے اَور گُونگوں کو بولنے کی طاقت بخشتے ہیں۔“
<- مرقُس 6مرقُس 8 ->
Languages