4 چنانچہ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”نبی کی بےقدری اُس کے اَپنے شہر، رشتہ داروں اَور گھر والوں میں ہی ہوتی ہے اَور کہیں نہیں۔“ 5 اَور آپ چند بیماریوں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں شفا دینے، کے سِوا کویٔی بڑا معجزہ وہاں نہ دِکھا سکے۔ 6 یِسوعؔ نے وہاں کے لوگوں کی بےاِعتقادی پر تعجُّب کیا۔
8 اُنہیں یہ بھی ہدایت دی، ”اَپنے سفر کے لیٔے سِوائے لاٹھی کے اَور کُچھ نہ لینا، نہ روٹی نہ تھیلا، نہ کمربند میں پیسے۔ 9 جُوتے تو پہننا مگر دو دو کُرتے نہیں۔ 10 یِسوعؔ نے اُن سے کہا کہ جہاں بھی تُم کسی گھر میں داخل ہو، تو اُس شہر سے رخصت ہونے تک اُسی گھر میں ٹھہرے رہنا۔ 11 اگر کسی جگہ لوگ تُمہیں قبُول نہ کریں اَور کلام سُننا نہ چاہیں تو وہاں سے رخصت ہوتے وقت اَپنے پاؤں کی گرد بھی وہاں سے جھاڑ دینا تاکہ وہ اُن کے خِلاف گواہی دے۔“
12 چنانچہ وہ روانہ ہویٔے اَور مُنادی کرنے لگے کہ تَوبہ کرو۔ 13 اُنہُوں نے بہت سِی بدرُوحوں کو نکالا اَور بہت سے بیماریوں کو تیل مَل کر شفا بخشی۔
15 مگر بعض کہتے تھے، ”وہ ایلیّاہ ہیں۔“
16 جَب ہیرودیسؔ نے یہ سُنا، تو اُس نے کہا، ”یُوحنّا پاک غُسل دینے والا جِس کا مَیں نے سَر قلم کروا دیا تھا، پھر سے جی اُٹھا ہے!“
17 اصل میں ہیرودیسؔ نے حضرت یُوحنّا کو پکڑواکر قَیدخانہ میں ڈال دیا تھا، وجہ یہ تھی کہ ہیرودیسؔ، نے اَپنے بھایٔی فِلِپُّسؔ کی بیوی، ہیرودِیاسؔ سے بیاہ کر لیا تھا۔ 18 اَور حضرت یُوحنّا ہیرودیسؔ سے کہہ رہے تھے، ”تُجھے اَپنے بھایٔی کی بیوی اَپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے۔“ 19 ہیرودِیاسؔ بھی حضرت یُوحنّا سے دُشمنی رکھتی تھی اَور اُنہیں قتل کروانا چاہتی تھی۔ لیکن موقع نہیں ملتا تھا، 20 اِس لیٔے کہ حضرت یُوحنّا، ہیرودیسؔ بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اَور مُقدّس آدمی تھے۔ وہ اُن کا بڑا اِحترام کیا کرتا تھا اَور اُن کی حِفاظت کرنا اَپنا فرض سمجھتا تھا، وہ حضرت یُوحنّا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضروُر ہوتا تھا؛ لیکن سُنتا شوق سے تھا۔
21 لیکن ہیرودِیاسؔ کو ایک دِن موقع مِل ہی گیا۔ جَب ہیرودیسؔ نے اَپنی سال گِرہ کی خُوشی میں اَپنے اُمرائے دربار اَور فَوجی افسران اَور صُوبہ گلِیل کے رئیسوں کی دعوت کی۔ 22 اِس موقع پر ہیرودِیاسؔ کی بیٹی نے محفل میں آکر رقص کیا، اَور ہیرودیسؔ بادشاہ اَور اُس کے مہمانوں کو اِس قدر خُوش کر دیا کہ بادشاہ اُس سے مُخاطِب ہوکر کہنے لگا۔
24 لڑکی نے باہر جا کر اَپنی ماں، سے پُوچھا، ”میں کیا مانگوں؟“
25 لڑکی فوراً بادشاہ کے پاس واپس آئی اَور عرض کرنے لگی: ”مُجھے ابھی ایک تھال میں یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر چاہیے۔“
26 بادشاہ کو بےحد افسوس ہُوا، لیکن وہ مہمانوں کے سامنے قَسم دے چُکاتھا، اِس لیٔے بادشاہ لڑکی سے اِنکار نہ کر سَکا۔ 27 چنانچہ بادشاہ نے اُسی وقت حِفاظتی دستے کے ایک سپاہی کو حُکم دیا کہ وہ جائے، اَور یُوحنّا کا سَر لے آئے۔ سپاہی نے قَیدخانہ میں جا کر، حضرت یُوحنّا کا سَر تن سے جُدا کیا، 28 اَور اُسے ایک تھال میں رکھ کر لایا اَور لڑکی کے حوالہ کر دیا، اَور لڑکی نے اُسے لے جا کر اَپنی ماں کُودے دیا۔ 29 جَب حضرت یُوحنّا کے شاگردوں نے یہ خبر سنی تو وہ آئے اَور اُن کی لاش اُٹھاکر لے گیٔے اَور اُنہیں ایک قبر میں دفن کر دیا۔
32 تَب یِسوعؔ کشتی میں بیٹھ کر دُور ایک ویران جگہ کی طرف روانہ ہویٔے۔ 33 لوگوں نے اُنہیں جاتے دیکھ لیا اَور پہچان لیا۔ اَور تمام شہروں کے لوگ اِکٹھّے ہوکر پیدل ہی دَوڑے اَور آپ سے پہلے وہاں پہُنچ گیٔے۔ 34 جَب یِسوعؔ کشتی سے کنارے پر اُترے تو آپ نے ایک بڑے ہُجوم کو دیکھا، اَور آپ کو اُن پر بڑا ترس آیا، کیونکہ وہ لوگ اُن بھیڑوں کی مانِند تھے جِن کا کویٔی گلّہ بان نہ ہو۔ لہٰذا وہ اُنہیں بہت سِی باتیں سِکھانے لگے۔
35 اِسی دَوران شام ہو گئی، اَور شاگردوں نے اُن کے پاس آکر کہا، ”یہ جگہ ویران ہے اَور دِن ڈھل چُکاہے۔ 36 اِن لوگوں کو رخصت کر دیجئے تاکہ وہ آس پاس کی بستیوں اَور گاؤں میں چلے جایٔیں اَور خرید کر کُچھ کھا پی لیں۔“
37 لیکن یِسوعؔ نے جَواب میں کہا، ”تُم ہی اِنہیں کھانے کو دو۔“
38 اُنہُوں نے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟ جاؤ اَور دیکھو۔“
39 تَب یِسوعؔ نے لوگوں کو چُھوٹی چُھوٹی قطاریں بنا کر سبز گھاس پر بیٹھ جانے کا حُکم دیا۔ 40 اَور وہ سَو سَو اَور پچاس پچاس کی قطاریں بنا کر بیٹھ گیٔے۔ 41 یِسوعؔ نے وہ پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لیں اَور آسمان، کی طرف نظر اُٹھاکر اُن پر برکت مانگی۔ پھر آپ نے اُن روٹیوں کے ٹکڑے توڑ کر شاگردوں کو دئیے اَور کہا کہ اِنہیں لوگوں کے سامنے رکھتے جایٔیں۔ اِسی طرح خُداوؔند نے دو مچھلیاں بھی اُن سَب لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ 42 سَب لوگ کھا کر سیر ہو گئے، 43 روٹیوں اَور مچھلیوں کے ٹُکڑوں کی بَارہ ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی گئیں۔ 44 جِن لوگوں نے وہ روٹیاں کھائی تھیں اُن میں مَرد ہی پانچ ہزار تھے۔
47 رات کے آخِر میں، کشتی جھیل کے درمیانی حِصّہ میں پہُنچ چُکی تھی، اَور وہ کنارے پر تنہا تھے۔ 48 یِسوعؔ نے جَب دیکھا کہ ہَوا مُخالف ہونے کی وجہ سے شاگردوں کو کشتی کو کھینے میں بڑی مُشکل پیش آ رہی ہے۔ لہٰذا وہ رات کے چوتھے پہر[c] کے قریب جھیل پر چلتے ہویٔے اُن کے پاس پہُنچے، اَور چاہتے تھے کہ اُن سے آگے نکل جایٔیں، 49 لیکن شاگردوں نے اُنہیں پانی پر چلتے، دیکھا تو آپ کو بھُوت سمجھ کر۔ شاگرد خُوب چِلّانے لگے، 50 کیونکہ سَب اُنہیں دیکھ کر بہت ہی زِیادہ خوفزدہ ہو گئے تھے۔
53 وہ جھیل کو پار کرنے کے بعد، وہ گنیسرتؔ کے علاقہ میں پہُنچے اَور کشتی کو کنارے سے لگا دیا۔ 54 جَب وہ کشتی سے اُترے تو لوگوں نے یِسوعؔ کو ایک دَم پہچان لیا۔ 55 پس لوگ اُن کی مَوجُودگی کی خبر سُن کر ہر طرف سے دَوڑ پڑے اَور بیماریوں کو بچھونوں پر ڈال کر اُن کے پاس لانے لگے۔ 56 اَور یِسوعؔ گاؤں یا شہروں یا بستیوں میں جہاں کہیں جاتے تھے لوگ بیماریوں کو بازاروں میں راستوں پر رکھ دیتے تھے۔ اَور اُن کی مِنّت کرتے تھے کہ اُنہیں صِرف اَپنی پوشاک، کا کنارہ چھُو لینے دیں اَور جتنے یِسوعؔ کو چھُو لیتے تھے۔ شفا پاجاتے تھے۔
<- مرقُس 5مرقُس 7 ->
Languages