4 اُن کے شاگردوں نے اُنہیں جَواب دیا، ”یہاں اِس بیابان میں اِتنی روٹیاں اِتنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیٔے کویٔی کہاں سے لایٔے گا؟“
5 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“
6 یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا کہ سَب زمین پر بیٹھ جایٔیں۔ اَور حُضُور نے وہ سات روٹیاں لے کر خُدا کا شُکر اَدا کیا، اَور اُن کے ٹکڑے کیٔے اَور اُنہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کے لیٔے اَپنے شاگردوں کو دینے لگے۔ 7 اُن کے پاس کُچھ چُھوٹی چُھوٹی مچھلیاں بھی تھیں؛ یِسوعؔ نے اُن پر بھی برکت دی اَور شاگردوں سے فرمایا کہ اِنہیں بھی لوگوں کے درمیان تقسیم کر دو۔ 8 لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اَور جَب بچے ہویٔے ٹکڑے جمع کیٔے گیٔے تو سات ٹوکریاں بھر گئیں۔ 9 حالانکہ کھانے والے لوگوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی۔ اِس کے بعد یِسوعؔ نے اُنہیں رخصت کر دیا، 10 اَور خُود اَپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوکر فوراً دَلمَنُوتؔھا کے علاقہ کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
11 بعض فرِیسی یِسوعؔ کے پاس آکر بحث کرنے لگے۔ اَور اُنہیں آزمانے کی غرض سے اُن سے کویٔی آسمانی نِشان دِکھانے کا مطالبہ کیا۔ 12 یِسوعؔ نے اَپنی رُوح میں بڑی گہری آہ بھری اَور فرمایا، ”اِس زمانہ کے لوگ نِشان کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، اِس زمانہ کے لوگوں کو کویٔی نِشان نہیں دِکھایا جائے گا۔“ 13 تَب وہ اُنہیں چھوڑکر پھر سے کشتی میں جا بیٹھے اَور جھیل کے پار چلےگئے۔
16 اُنہُوں نے ایک دُوسرے سے اِس پر تبادلہ خیال کیا اَور وہ کہنے لگے، ”دیکھا ہم اَپنے ساتھ روٹیاں لانا بھُول گیٔے۔“
17 یِسوعؔ کو مَعلُوم ہُوا، تو اُنہُوں نے اُن سے پُوچھا: ”تُم کیوں تکرار کرتے ہو کہ ہمارے پاس روٹیاں نہیں ہیں؟ کیا تُم ابھی تک نہیں جانتے اَور سمجھتے ہو؟ کیا تمہارے دِل سخت ہو چُکے ہیں؟ 18 تمہاری آنکھیں ہونے پر بھی دیکھ نہیں پا رہے ہو، اَور کان ہونے پر بھی کچھ نہیں سُنتے ہو؟ کیا تُمہیں کچھ یاد نہیں رہا؟ 19 جِس وقت مَیں نے پانچ ہزار آدمیوں کے لیٔے، پانچ روٹیوں کے ٹکڑے کیٔے تھے تو تُم نے بچے ہویٔے ٹُکڑوں کی کتنی ٹوکریاں اُٹھائی تھیں؟“
20 ”اَور جَب مَیں نے چار ہزار آدمیوں کے لیٔے، اُن سات روٹیوں کو دیا تو تُم نے باقی بچے ٹُکڑوں سے کتنی ٹوکریاں بھری تھیں؟“
21 تَب یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تمہاری سمجھ میں ابھی بھی کُچھ نہیں آیا؟“
24 اُس آدمی نے نگاہ اُوپر اُٹھاکر کہا، ”میں لوگوں کو دیکھتا ہُوں؛ لیکن وہ چلتے درختوں کی طرح دکھتے ہیں۔“
25 یِسوعؔ نے پھر اَپنے ہاتھ اُس آدمی کی آنکھوں پر رکھے۔ اَور جَب اُس نے نظر اُٹھائی، آنکھیں کھُل گئیں، اَور اُسے ہر چیز صَاف دِکھائی دینے لگی۔ 26 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”اِس گاؤں میں کسی کو یہ بات بتائے بغیر سیدھے اَپنے گھر چلے جاؤ۔“
28 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”بعض آپ کو حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا کہتے ہیں؛ بعض ایلیّاہ؛ اَور بعض کہتے ہیں، نبیوں میں سے کویٔی نبی ہیں۔“
29 تَب آپ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ مَیں کون ہُوں؟“
30 یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ میرے بارے میں کسی سے یہ نہ کہنا۔
33 مگر آپ نے مُڑ کر اَپنے دُوسرے شاگردوں کو دیکھا، اَور پطرس کو ملامت کرتے ہویٔے کہا، ”اَے شیطان! میرے سامنے سے دُورہو جا! کیونکہ تیرا دِل خُدا کی باتوں میں نہیں، لیکن آدمیوں کی باتوں میں لگا ہے۔“
Languages