6 جَب بدرُوح نے دُور سے یِسوعؔ کو دیکھا، تو دَوڑکر آپ کے پاس پہُنچی اَور آپ کے سامنے سَجدہ میں گِر کر 7 چِلّا چِلّاکر کہا، ”اَے یِسوعؔ خُداتعالیٰ کے بیٹے، آپ کو مُجھ سے کیا کام، آپ کو خُدا کی قَسم؟ مُجھے عذاب میں نہ ڈالیں!“ 8 بات دراصل یہ تھی کہ آپ نے اُس سے کہاتھا، ”اَے بدرُوح، اِس آدمی میں سے باہر نکل آ!“
9 آپ نے بدرُوح سے پُوچھا، ”تیرا نام کیا ہے؟“
11 وہیں پہاڑی کے پاس سُؤروں کا ایک بڑا غول چَر رہاتھا۔ 12 بدرُوحیں آپ سے مِنّت کرنے لگیں، ”ہمیں اُن سُؤروں، میں بھیج دیجئے؛ تاکہ ہم اُن میں داخل ہو جایٔیں۔“ 13 چنانچہ آپ کی اِجازت سے، بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سُؤروں میں داخل ہو گئیں۔ اَور اُس غول، کے سارے سُؤر جِن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی، ڈھلان سے جھیل کی طرف لپکے اَور پانی میں گِر کر ڈُوب مَرے۔
14 سُؤر چَرانے والے وہاں سے بھاگ کھڑے ہویٔے اَور اُنہُوں نے شہر اَور دیہات میں، اِس بات کی خبر پہُنچائی لوگ یہ ماجرا دیکھنے کے لیٔے دَوڑے چلے آئے۔ 15 جَب لوگ یِسوعؔ کے پاس پہُنچے اَور اُس آدمی کو جِس میں بدرُوحوں کا لشکر تھا، اُسے کپڑے پہنے ہویٔے، ہوش کی حالت میں؛ بیٹھے دیکھا تو بہت خوفزدہ ہویٔے۔ 16 جنہوں نے یہ واقعہ دیکھا تھا اُنہُوں نے بدرُوحوں والے آدمی کا حال اَور سُؤروں کا تمام ماجرا اُن سے بَیان کیا۔ 17 لوگ یِسوعؔ کی مِنّت کرنے لگے کہ آپ ہمارے علاقہ سے باہر چلے جایٔیں۔
18 آپ کشتی میں، سوار ہونے لگے تو وہ آدمی جو پہلے بدرُوحوں کے قبضہ میں تھا، یِسوعؔ سے مِنّت کی کہ مُجھے بھی اَپنے ساتھ لے چلئے۔ 19 آپ نے اُسے اِجازت نہ دی، بَلکہ اُس سے کہا، ”گھرجاکر اَپنے لوگوں کو بتاؤ کہ خُداوؔند نے تمہارے لیٔے اِتنے بڑے کام کیٔے، اَور تُم پر رحم کیا ہے۔“ 20 پس وہ آدمی گیا اَور دِکَپُلِسؔ[b] میں اِس بات کا چَرچا کرنے لگا یِسوعؔ نے اُس کے لیٔے کیسے بڑے کام کیٔے اَور سَب لوگ تعجُّب کرتے تھے۔
30 یِسوعؔ نے فوراً جان لیا کہ اُن میں سے قُوّت نکلی ہے۔ لہٰذا آپ ہُجوم کی طرف مُڑے اَور پُوچھنے لگے، ”کِس نے میری پوشاک کو چھُوا ہے؟“
31 شاگردوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہُجوم کِس طرح آپ پر گرا پڑ رہاہے، اَور پھر بھی آپ پُوچھتے ہیں، ’کِس نے مُجھے چھُوا ہے؟‘ “
32 لیکن آپ نے چاروں طرف نظر دَوڑائی تاکہ دیکھیں کہ کِس نے اَیسا کیا ہے۔ 33 لیکن وہ خاتُون، یہ جانتے ہویٔے اُس پر کیا اثر ہُواہے، خوفزدہ سِی اَور کانپتی ہویٔی آئی اَور آپ کے قدموں میں گِر کر، آپ کو ساری حقیقت بَیان کی۔ 34 آپ نے اُس سے کہا، ”بیٹی، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو اَور اَپنی پریشانیوں سے نَجات پاؤ۔“
35 آپ ابھی وعظ دے ہی رہے تھے، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کُچھ لوگ آ پہُنچے، رہنما نے خبر دی۔ ”آپ کی بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیجئے؟“
36 یِسوعؔ نے یہ سُن کر، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما سے کہا، ”خوف نہ کرو؛ صِرف ایمان رکھو۔“
37 آپ نے پطرس، یعقوب اَور یعقوب کے بھایٔی یُوحنّا کے علاوہ کسی اَور کو اَپنے ساتھ نہ آنے دیا۔ 38 جِس وقت وہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے، تو آپ نے دیکھا، وہاں بڑا کہرام مچا ہُواہے اَور لوگ بہت رو پیٹ رہے ہیں۔ 39 جَب وہ اَندر پہُنچے تو اُن سے کہا، ”تُم لوگوں نے کیوں اِس قدر رونا پیٹنا مچا رکھا ہے؟ بچّی مَری نہیں بَلکہ سو رہی ہے۔“ 40 اِس پر وہ آپ کی ہنسی اُڑانے لگے۔
Languages