3 اِس پر بعض عُلمائے شَریعت اَپنے دِل میں کہنے لگے، ”یہ تو کُفر بَکتا ہے۔“
4 یِسوعؔ نے اُن کے خیالات جانتے ہُوئے فرمایا، ”تُم اَپنے دِلوں میں بُری باتیں کیوں سوچتے ہو؟ 5 یہ کہنا زِیادہ آسان ہے: ’تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے،‘ یا ’یہ کہنا کہ اُٹھ اَور چل پھر‘؟ 6 لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ حُضُور نے مفلُوج سے کہا، ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“ 7 تَب وہ اُٹھا اَور اَپنے گھر چلا گیا۔ 8 جَب لوگوں نے یہ ہُجوم دیکھا، تو خوفزدہ ہو گئے؛ اَور خُدا کی تمجید کرنے لگے، جِس نے اِنسان کو اَیسا اِختیار بخشا ہے۔
10 جَب یِسوعؔ حضرت متّی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھے تو کیٔی محصُول لینے والے اَور گُنہگار آکر یِسوعؔ اَور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔ 11 جَب فریسیوں نے یہ دیکھا تو یِسوعؔ کے شاگردوں سے پُوچھا، ”تمہارا اُستاد محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“
12 یِسوعؔ نے یہ سُن کر جَواب دیا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔ 13 مگر تُم جا کر اِس بات کا مطلب دریافت کرو: ’میں قُربانی سے زِیادہ رحم دِلی کو پسند کرتا ہُوں۔‘[a] کیونکہ مَیں راستبازوں کو نہیں، لیکن گُنہگاروں کو اَپنا پیروکار ہونے کے واسطے بُلانے آیا ہُوں۔“
15 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا براتی دُلہا کی مَوجُودگی میں ماتم کر سکتے ہیں؟ لیکن وہ وقت بھی آئے گا جَب دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا؛ تَب وہ روزہ رکھیں گے۔
16 ”پُرانی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند کویٔی نہیں لگاتا کیونکہ نیا کپڑا اُس پُرانی پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لیتا ہے اَور پوشاک زِیادہ پھٹ جاتی ہے۔ 17 اِسی طرح نئے انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں نہیں بھرتا ورنہ مَشکیں پھٹ جایٔیں گی اَور انگوری شِیرے کے ساتھ مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ لہٰذا نئے انگوری شِیرے کو نئی مَشکوں ہی میں بھرنا چاہئے تاکہ دونوں سلامت رہیں۔“
20 اَور اَیسا ہُوا کہ ایک خاتُون نے جسے بَارہ بَرس سے خُون بہنے کی اَندرونی بیماری تھی، اُس نے یِسوعؔ کے پیچھے سے آکر یِسوعؔ کی پوشاک کا کنارہ چھُوا۔ 21 کیونکہ وہ اَپنے دِل میں یہ کہتی تھی، ”اگر مَیں صِرف یِسوعؔ کی پوشاک کا کنارہ ہی چھُو لُوں گی تو شفا پا جاؤں گی۔“
22 یِسوعؔ نے مُڑ کر اُسے دیکھا اَور فرمایا، ”بیٹی! اِطمینان رکھ، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔“ اَور وہ خاتُون اُسی گھڑی اَچھّی ہو گئی۔
23 اَور جَب یِسوعؔ عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے تو لوگوں کے ہُجوم کو بانسری بجاتے اَور ماتم کرتے دیکھا۔ 24 یِسوعؔ نے فرمایا، ”ہٹ جاؤ! لڑکی مَری نہیں لیکن سو رہی ہے۔“ لیکن وہ حُضُور پر ہنسنے لگے۔ 25 مگر جَب ہُجوم کو وہاں سے نکال دیا گیا تو یِسوعؔ نے اَندر جا کر لڑکی کا ہاتھ پکڑکر جگایا اَور وہ اُٹھ بیٹھی۔ 26 اَور اِس بات کی خبر اُس تمام علاقہ میں پھیل گئی۔
28 اَور جَب یِسوعؔ گھر میں داخل ہویٔے تو وہ اَندھے بھی اُن کے پاس آئے اَور یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُمہیں یقین ہے کہ میں تُمہیں شفا دے سَکتا ہُوں؟“
29 تَب یِسوعؔ نے اُن کی آنکھوں کو چھُوا اَور فرمایا، ”تمہارے ایمان کے مُطابق تُمہیں شفا ملے۔“ 30 اَور اُن کی آنکھوں میں رَوشنی آ گئی۔ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکیداً خبردار کرتے ہویٔے فرمایا، ”دیکھو یہ بات کسی کو مَعلُوم نہ ہونے پایٔے۔“ 31 لیکن اُنہُوں نے باہر نکل کر اُس تمام علاقہ میں حُضُور کی شہرت پھیلا دی۔
32 جَب وہ باہر جا رہے تھے تو لوگ ایک گُونگے کو جِس میں بدرُوح کا سایہ تھا، یِسوعؔ کے پاس لایٔے۔ 33 جَب بدرُوح اُس میں سے نکال دی گئی تو گُونگا بولنے لگا۔ یہ دیکھ کر ہُجوم کو بڑا تعجُّب ہُوا اَور وہ کہنے لگے، ”اَیسا واقعہ تو اِسرائیلؔ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔“
34 لیکن فریسیوں نے کہا، ”یہ تو بدرُوحوں کے رہنما کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہے۔“
- a ہوش 6:6
Languages