3 اَور یِسوعؔ نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور فرمایا، ”میں چاہتا ہُوں کہ تُو پاک صَاف ہو جا!“ اَور فوراً وہ کوڑھ سے پاک صَاف ہو گیا۔ 4 تَب یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”خبردار کسی سے نہ کہنا۔ لیکن جا کر اَپنے آپ کو کاہِنؔ کو دِکھا اَورجو نذر حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہے اُسے اَدا کر تاکہ سَب لوگوں کے لیٔے گواہی ہو۔“
7 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”میں آکر اُسے شفا دُوں گا۔“
8 لیکن رُومی افسر نے کہا، ”اَے خُداوؔند، میں اِس لائق نہیں ہُوں کہ آپ میری چھت کے نیچے آئیں۔ لیکن اگر آپ صِرف زبان سے کہہ دیں تو میرا خادِم شفا پا جائے گا۔ 9 کیونکہ مَیں خُود بھی کسی کے اِختیار میں ہُوں، اَور سپاہی میرے اِختیار میں ہیں۔ جَب مَیں ایک سے کہتا ہُوں ’جا،‘ تو وہ چلا جاتا ہے؛ اَور دُوسرے سے ’آ،‘ تو وہ آ جاتا ہے اَور کسی خادِم سے کُچھ کرنے کو کہُوں تو وہ کرتا ہے۔“
10 یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُس ہُجوم پر تعجُّب کیا اَور اَپنے پیچھے آنے والے لوگوں سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، مَیں نے اِسرائیلؔ میں بھی اِتنا بڑا ایمان نہیں پایا۔ 11 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہت سے لوگ مشرق اَور مغرب سے آکر حضرت اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ آسمان کی بادشاہی کی ضیافت میں شریک ہوں گے۔ 12 مگر بادشاہی کے اصل وارثین کو باہر اَندھیرے میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ روتے اَور دانت پیستے رہیں گے۔“
13 یِسوعؔ نے اُس افسر سے فرمایا، ”جا جَیسا تیرا ایمان ہے، تیرے لیٔے وَیسا ہی ہوگا۔“ اَور اُسی گھڑی اُس کے خادِم نے شفا پائی۔
16 جَب شام ہُوئی تو لوگ کیٔی مَریضوں کو جِن میں بدرُوحیں تھیں، حُضُور کے پاس لانے لگے، اَور یِسوعؔ نے صِرف حُکم دے کر بدرُوحوں کو نکال دیا اَور سَب مَریضوں کو شفا بخشی۔ 17 تاکہ یَشعیاہ نبی کی مَعرفت کہی گئی یہ بات پُوری ہو جائے:
20 یِسوعؔ نے سے جَواب دیا، ”لومڑیوں کے بھی بھٹ اَور ہَوا کے پرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں، لیکن اِبن آدمؔ کے لیٔے کویٔی جگہ نہیں جہاں وہ اَپنا سَر بھی رکھ سکے۔“
21 ایک اَور شاگرد نے حُضُور سے کہا، ”اَے خُداوؔند، پہلے مُجھے اِجازت دیں کہ میں جا کر اَپنے باپ کو دفن کرلُوں۔“
22 لیکن یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”تُو میرے پیچھے چل، اَور مُردوں کو اَپنے مُردے دفن کرنے دے۔“
26 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے کم ایمان والو! تُم خوفزدہ کیوں ہو؟“ تَب حُضُور نے اُٹھ کر طُوفان اَور لہروں کو ڈانٹا اَور بڑا اَمن ہو گیا۔
27 اَور لوگ تعجُّب کرکے کہنے لگے، ”یہ کِس طرح کا آدمی ہے کہ طُوفان اَور لہریں بھی اِن کا حُکم مانتی ہیں!“
30 اُن سے کُچھ دُور بہت سے سُؤروں کا ایک بڑا غول چَر رہاتھا۔ 31 پس بدرُوحوں نے حُضُور سے مِنّت کرکے کہا، ”اگر آپ ہمیں نکالتے ہیں تو ہمیں سُؤروں کے غول میں بھیج دیجئے۔“
32 لہٰذا یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”جاؤ!“ اَور وہ نکل کر سُؤروں میں داخل ہو گئیں اَور سُؤروں کا سارا غول اُونچی ڈھلان سے لپکا اَور جھیل میں جا گرا اَور ڈُوب مَرا۔ 33 سُؤر چَرانے والے بھاگ کھڑے ہویٔے اَور شہر میں جا کر لوگوں سے سارا ماجرا اَور بدرُوحوں سے پریشان آدمیوں کا حال بَیان کیا۔ 34 تَب شہر کے سَب لوگ یِسوعؔ سے مِلنے کو نکلے اَور حُضُور کو دیکھتے ہی مِنّت کرنے لگے کہ آپ ہماری سرحد سے باہر چلے جایٔیں۔
<- متّی 7متّی 9 ->
Languages