4 ”دوستوں، میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُن سے مت ڈرو جو بَدن کو تو ہلاک کر سکتے ہیں اَور اُس کے بعد اَور کُچھ نہیں کر سکتے۔ 5 لیکن مَیں تُمہیں جتائے دیتا ہُوں کہ کس سے ڈرنا چاہئے: اُس سے، جسے بَدن کو ہلاک کرنے، کے بعد اُسے جہنّم میں ڈال دینے کا اِختیار ہے۔ ہاں، میں تُم سے کہتا ہُوں، اُسی سے ڈرو۔ 6 اگرچہ دو سِکّوں میں پانچ گوریّاں نہیں بکتیں لیکن خُدا اُن میں سے کسی کو بھی فراموش نہیں کرتا۔ 7 یقیناً، تمہارے سَر کے سبھی بال بھی گنے ہُوئے ہیں۔ لہٰذا ڈرو مت؛ تمہاری قیمت تو بہت سِی گوریّوں سے بھی زِیادہ ہے۔
8 ”میں تُمہیں بتاتا ہُوں کہ جو کویٔی لوگوں کے سامنے میرا اقرار کرتا ہے، اِبن آدمؔ بھی خُدا کے فرشتوں کے رُوبرو اُس کا اقرار کرےگا۔ 9 لیکن جو کویٔی آدمیوں کے سامنے میرا اِنکار کرتا ہے، اُس کا اِنکار خُدا کے فرشتوں کے سامنے کیا جائے گا۔ 10 اگر کویٔی اِبن آدمؔ کے خِلاف کُچھ کہے گا تو، اُسے مُعاف کر دیا جائے گا لیکن جو پاک رُوح کے خِلاف کُفر بکے گا وہ ہرگز نہ بخشا جائے گا۔
11 ”جَب وہ تُمہیں یہُودی عبادت گاہوں میں حاکموں اَور صاحبِ اِختیاروں کے حُضُور میں لے جایٔیں تو فکر مت کرنا کہ ہم کیا کہیں اَور کیوں اَور کیسے جَواب دیں۔ 12 کیونکہ پاک رُوح عَین وقت پر تُمہیں سِکھا دے گا کہ تُمہیں کیا کہنا ہے۔“
14 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے اِنسان، کس نے مُجھے تمہارا مُنصِف یا ثالِثی مُقرّر کیا ہے؟“ 15 اَور حُضُور نے اُن سے کہا، ”خبردار! ہر طرح کے لالچ سے دُور رہو؛ کسی کی زندگی کا اِنحصار اُس کے مال و دولت کی کثرت پر نہیں ہے۔“
16 تَب آپ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی: ”کسی دولتمند کی زمین میں بڑی فصل ہویٔی۔ 17 اَور وہ دِل ہی دِل میں سوچ کر کہنے لگا، ’میں کیا کروں؟ میرے پاس جگہ نہیں ہے جہاں میں اَپنی پیداوار جمع کر سکوں۔‘
18 ”پھر اُس نے کہا، ’میں ایک کام کروں گا کہ اَپنے کھتّے ڈھا کر نئے اَور بڑے کھتّے بناؤں گا اَور اُس میں اَپنا تمام اناج اَور مال و اَسباب بھر دُوں گا۔ 19 پھر اَپنی جان سے کہُوں گا، ”اَے جان تیرے پاس کیٔی برسوں کے لیٔے مال جمع ہے۔ آرام سے رہ، کھا پی اَور عیش کر۔“ ‘
20 ”مگر خُدا نے اُس سے کہا، ’اَے نادان! اِسی رات تیری جان تُجھ سے طلب کرلی جائے گی۔ پس جو کُچھ تُونے جمع کیا ہے وہ کس کے کام آئے گا؟‘
21 ”چنانچہ جو اَپنے لیٔے تو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن خُدا کی نظر میں دولتمند نہیں بنتا اُس کا بھی یہی حال ہوگا۔“
27 ”سوسن کے پھُولوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں؟ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔ 28 پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟ 29 اَور اِس فکر میں مُبتلا مت رہو کہ تُم کیا کھاؤگے اَور کیا پیوگے۔ اِن چیزوں کے بارے میں فکر مت کرو۔ 30 کیونکہ دُنیا کی ساری غَیرقومیں اِن چیزوں کی جُستُجو میں لگی رہتی ہیں لیکن تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُمہیں اِن چیزوں کی ضروُرت ہے۔ 31 بَلکہ پہلے خُدا کی بادشاہی کی تلاش کرو تو یہ چیزیں بھی تُمہیں دے دی جایٔیں گی۔
32 ”اَے چُھوٹے گلّے! ڈر مت! کیونکہ تمہارے آسمانی باپ کی خُوشی اِسی میں ہے کہ وہ تُمہیں بادشاہی عطا فرمائے۔ 33 اَپنا مال و اَسباب بیچ کر خیرات کر دو اَور اَپنے لیٔے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے اَور نہ پھٹتے ہیں یعنی آسمان پر خزانہ جمع کرو جو ختم نہیں ہوتا، جہاں چور نہیں پہُنچ سَکتا اَور جِس میں کیڑا نہیں لگتا۔ 34 کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔
41 پطرس نے کہا، ”اَے خُداوؔند، یہ تمثیل جو تُونے کہی، صِرف ہمارے لیٔے ہے یا سَب کے لیٔے ہے؟“
42 خُداوؔند نے جَواب دیا، ”کون ہے وہ وفادار اَور عقلمند مُنتظِم، جِس کا مالک اُسے اَپنے گھر کے خادِم چاکروں پر مُقرّر کرے تاکہ وہ اُنہیں اُن کی خُوراک مُناسب وقت پر بانٹتا رہے؟ 43 وہ خادِم مُبارک ہے جِس کا مالک آئے تو اُسے اَیسا ہی کرتے پایٔے۔ 44 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اَپنی ساری مِلکیّت کی دیکھ بھال کا اِختیار اُس کے حوالے کر دے گا۔ 45 لیکن اگر وہ خادِم اَپنے دِل میں یہ کہنے لگے، ’میرے مالک کے آنے میں ابھی دیر ہے‘ اَور دُوسرے خادِموں اَور خادِماؤں کو مارنا پیٹنا شروع کر دے اَور خُود کھا پی کرنشے میں متوالا رہنے لگے؟ 46 تو اُس خادِم کا مالک کسی اَیسے دِن واپس آ جائے گا، جِس کی اُسے اُمّید نہ ہوگی، اَور جِس گھڑی کی اُسے خبر نہ ہوگی۔ تو وہ اُسے غضبناک سزا دے گا اَور اُس کا اَنجام بےاِعتقادوں جَیسا ہوگا۔
47 ”اگر وہ خادِم جو اَپنے مالک کی مرضی جان لینے کے باوُجُود بھی تیّار نہیں رہتا اَور نہ ہی اَپنے مالک کی مرضی کے مُطابق عَمل کرتا ہے تو وہ خادِم بہت مار کھائے گا۔ 48 مگر جِس نے اَپنے مالک کی مرضی کو جانے بغیر مار کھانے کے کام کیٔے وہ کم مار کھائے گا۔ پس جسے زِیادہ دیا گیا ہے اُس سے اُمّید بھی زِیادہ کی جائے گی اَور جِس کے پاس زِیادہ سونپا گیا ہے اُس سے طلب بھی زِیادہ ہی کیا جائے گا۔
57 ”تُم خُود ہی اَپنے لیٔے فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے کہ ٹھیک کیا ہے؟ 58 جَب تو اَپنے دُشمن کے ساتھ مُنصِف کے پاس راستہ میں جا رہاہے تو راستہ ہی میں اُس سے چھُٹکارا حاصل کر لے، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ تُجھے مُنصِف کے حوالے کر دے اَور مُنصِف تُجھے سپاہی کے سُپرد کر دے اَور سپاہی تُجھے قَیدخانہ میں ڈال دے۔ 59 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم ایک ایک پیسہ اَدا نہ کر دوگے، وہاں سے ہرگز نکل نہ پاؤگے۔“
<- لُوقا 11لُوقا 13 ->- a گھڑی بھر کا یعنی ایک گھنٹہ یا ایک دِن۔
Languages