6 اِس کے بعد یِسوعؔ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی: ”کسی آدمی نے اَپنے انگوری باغ میں اَنجیر کا درخت لگا رکھا تھا، وہ اُس میں پھل ڈھونڈنے آیا مگر ایک بھی پھل نہ پایا۔ 7 تَب اُس نے باغبان سے کہا، دیکھ، ’میں پچھلے تین بَرس سے اِس اَنجیر کے درخت میں پھل ڈھونڈنے آتا رہا ہُوں اَور کُچھ نہیں پاتا ہُوں۔ اِسے کاٹ ڈال! یہ کیوں جگہ گھیرے ہُوئے ہے؟‘
8 ”لیکن باغبان نے جَواب میں اُس سے کہا، ’مالک،‘ اِسے اِس سال اَور باقی رہنے دے، ’میں اِس کے اِردگرد کھُدائی کرکے کھاد ڈالُوں گا۔ 9 اگر یہ اگلے سال پھل لایا تو خیر ہے ورنہ اِسے کٹوا ڈالنا۔‘ “
14 لیکن یہُودی عبادت گاہ کا رہنما خفا ہو گیا کیونکہ، یِسوعؔ نے سَبت کے دِن اُسے شفا دی تھی، اَور لوگوں سے کہنے لگاکہ، ”کام کرنے کے لیٔے چھ دِن ہیں اِس لیٔے اُن ہی دِنوں میں شفا پانے کے لیٔے آیا کرو نہ کہ سَبت کے دِن۔“
15 خُداوؔند نے اُسے جَواب دیا، ”اَے ریاکاروں! کیا تُم میں سے ہر ایک سَبت کے دِن اَپنے بَیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پِلانے کے لیٔے نہیں لے جاتا؟ 16 تو کیا یہ مُناسب نہ تھا کہ یہ عورت جو اَبراہامؔ کی بیٹی ہے جسے شیطان نے اٹھّارہ بَرس سے باندھ کر رکھا ہے، سَبت کے دِن اِس قَید سے چھُڑائی جاتی؟“
17 جَب یِسوعؔ نے یہ باتیں کہیں تو اُن کے سَب مُخالف شرمندہ ہو گئے لیکن سَب لوگ یِسوعؔ کے ہاتھوں سے ہونے والے حیرت اَنگیز کاموں کو دیکھ کر خُوش تھے۔
20 یِسوعؔ نے پھر سے پُوچھا، ”میں خُدا کی بادشاہی کو کس سے تشبیہ دُوں؟ 21 وہ خمیر کی مانِند ہے جسے ایک خاتُون نے لے کر 27 کِلو آٹے میں مِلا دیا اَور یہاں تک کہ سارا آٹا خمیر ہو گیا۔“
26 ”تَب تُم کہنے لگوگے، ’ہم نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اَور پیا اَور آپ ہمارے گلی کُوچوں میں تعلیم دیتے تھے۔‘
27 ”لیکن وہ تُم سے کہے گا، ’میں تُمہیں نہیں جانتا کہ تُم کون اَور کہاں سے آئے ہو۔ اَے بدکاروں، تُم سَب مُجھ سے دُورہو جاؤ!‘
28 ”جَب تُم اَبراہامؔ، اِصحاقؔ، یعقوب اَور سَب نبیوں کو خُدا کی بادشاہی میں شریک دیکھوگے اَور خُود کو باہر نکالے ہویٔے پاؤگے تو روتے اَور دانت پیستے رہ جاؤگے۔ 29 لوگ مشرق اَور مغرب، شمال اَور جُنوب سے آکر خُدا کی بادشاہی کی ضیافت میں اَپنی اَپنی جگہ لے کر شرکت کریں گے۔ 30 بے شک، بعض آخِر اَیسے ہیں جو اوّل ہوں گے اَور بعض اوّل اَیسے ہیں جو آخِر ہو جایٔیں گے۔“
32 لیکن آپ نے اُن سے کہا، ”اُس لومڑی سے جا کر یہ کہہ دو، ’میں آج اَور کل بدرُوحوں کو نکالنے اَور مَریضوں کو شفا دینے کا کام کرتا رہُوں گا اَور تیسرے دِن اَپنی مَنزل پر پہُنچ جاؤں گا۔‘ 33 پس مُجھے آج، کل اَور پرسوں اَپنا سفر جاری رکھناہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ کویٔی نبی یروشلیمؔ سے باہر ہلاک ہو!
34 ”اَے یروشلیمؔ! اَے یروشلیمؔ! تُو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اَورجو تیرے پاس بھیجے گیٔے اُنہیں سنگسار کر ڈالتی ہے۔ مَیں نے کیٔی دفعہ چاہا کہ تیرے بچّوں کو ایک ساتھ جمع کرلُوں، جِس طرح مُرغی اَپنے چُوزوں کو اَپنے پروں کے نیچے جمع کر لیتی ہے، لیکن تُم نے نہ چاہا۔ 35 دیکھو، تمہارا گھر تمہارے ہی لیٔے اُجاڑ چھوڑا جا رہاہے اَور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اُس وقت تک ہرگز نہ دیکھوگے جَب تک یہ نہ کہو گے، ’مُبارک ہے وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے۔‘[a]“
<- لُوقا 12لُوقا 14 ->- a زبُور 118:26
Languages