2 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”جَب تُم دعا کرو، تو کہو:
5 پھر یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”فرض کرو کہ تُم میں سے کسی کا ایک دوست ہے، وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جا کر کہتاہے کہ، ’اَے دوست، مہربانی کرکے مُجھے تین روٹیاں دے؛ 6 کیونکہ میرا ایک دوست سفر کرکے میرے پاس آیا ہے، اَور میرے پاس کُچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطِر تواضع کر سکوں۔‘ 7 اَور فرض کرو کہ وہ اَندر سے جَواب میں کہتاہے، ’مُجھے تکلیف نہ دے، دروازہ بندہو چُکاہے اَور مَیں اَور میرے بال بچّے بِستر میں ہیں، میں اُٹھ کر تُجھے دے نہیں سَکتا۔‘ 8 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اُس کا دوست ہونے کے باوُجُود بھی اُٹھ کر روٹی نہ بھی دے گا تو بھی اُس کے بار بار اِصرار کرنے کے باعث ضروُر اُٹھے گا اَور جِتنی روٹیوں کی اُسے ضروُرت ہے، دے گا۔
9 ”پس میں تُم سے کہتا ہُوں: مانگو تو تُمہیں دیا جائے گا؛ ڈھونڈوگے تو پاؤگے؛ دروازہ کھٹکھٹاؤگے، تو تمہارے لیٔے کھولا جائے گا۔ 10 کیونکہ جو مانگتاہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتاہے اَورجو کھٹکھٹاتاہے اُس کے لیٔے دروازہ کھولا جائے گا۔
11 ”تُم میں سے اَیسا کون سا باپ ہے کہ جَب اُس کا بیٹا مچھلی مانگے تو اُسے مچھلی نہیں، بَلکہ سانپ دے؟ 12 یا اَنڈا مانگے تو اُسے بِچھُّو تھما دے۔ 13 پس جَب تُم بُرے ہونے کے باوُجُود بھی اَپنے بچّوں کو اَچھّی چیزیں دینا جانتے ہو، تو کیا تمہارا آسمانی باپ اُنہیں جو اُس سے مانگتے ہیں، پاک رُوح اِفراط سے عطا نہ فرمایٔے گا!“
17 لیکن یِسوعؔ نے اُن کے خیالات جان کر اُن سے کہا: ”جِس حُکومت میں پھوٹ پڑ جاتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اَور جِس گھر میں پھوٹ پڑ جاتی ہے وہ قائِم نہیں رہ سَکتا۔ 18 اَور اگر شیطان اَپنی ہی مُخالفت کرنے لگے تو اُس کی حُکومت کیسے قائِم رہ سکتی ہے؟ پھر بھی تُم کہتے ہو کہ میں بَعل زبُول، کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں۔ 19 اگر مَیں بَعل زبُول کی مدد سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں تو تمہارے شاگرد اُنہیں کِس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وُہی تمہارے مُنصِف ہوں گے۔ 20 لیکن اگر مَیں خُدا کی قُدرت سے بدرُوحوں کو نکالتا ہُوں تو خُدا کی بادشاہی تمہارے درمیان آ پہُنچی۔
21 ”جَب تک کویٔی زورآور آدمی ہتھیاروں سے لیس ہوکر اَپنے گھر کی حِفاظت کرتا ہے تو اُس کا مال و اَسباب محفوظ رہتاہے۔ 22 لیکن جَب اُس سے بھی زِیادہ زورآور آدمی اُس پر حملہ کرکے اُسے مغلُوب کر لیتا ہے تو اُس کے سارے ہتھیار جِن پر اُس کا بھروسا تھا چھین لیتا ہے اَور اُس کا سارا مال و اَسباب لُوٹ کر بانٹ دیتاہے۔
23 ”جو میرے ساتھ نہیں وہ میرا مُخالف ہے اَورجو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا، وہ بکھیرتا ہے۔
24 ”جَب کسی آدمی میں سے بدرُوح نکل جاتی ہے تو وہ سُوکھنے مقاموں میں جا کر آرام ڈھونڈتی ہے اَور جَب نہیں پاتی تو کہتی ہے، ’میں اَپنے اُسی گھر میں پھر واپس چلی جاؤں گی جہاں سے میں نکلی تھی۔‘ 25 اَور واپس آکر اُسے صَاف سُتھرا اَور آراستہ پاتی ہے۔ 26 تَب وہ جا کر اَپنے سے بھی بدتر سات اَور بدرُوحوں کو ساتھ لے آتی ہے اَور وہ اَندر جا کر اُس میں رہنے لگتی ہیں اَور اُس آدمی کی آخِری حالت پہلے سے بھی زِیادہ بُری ہو جاتی ہے۔“
27 یِسوعؔ جَب یہ باتیں کہہ رہے تھے تبھی ہُجوم میں سے ایک عورت نے اُونچی آواز میں آپ سے کہا، ”مُبارک ہے وہ پیٹ جِس سے آپ پیدا ہویٔے اَور مُبارک ہیں وہ چھاتِیاں جنہوں نے آپ کو دُودھ پِلایا۔“
28 لیکن یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو لوگ خُدا کا کلام سُنتے اَور اُس پر عَمل کرتے ہیں وہ زِیادہ مُبارک ہیں۔“
39 اِس پر خُداوؔند نے اُس سے کہا، ”اَے فریسیوں! تُم پیالے اَور رکابی کو باہر سے تو صَاف کرتے ہو، مگر تمہارے اَندر لُوٹ اَور بدی بھری پڑی ہے۔ 40 اَے نادانو! کیا جِس نے باہر والے حِصّے کو بنایا اُس نے اَندر والے حِصّے کو نہیں بنایا؟ 41 چنانچہ جو کُچھ تمہارے اَندر ہے اُسے غریبوں کو دے دو، تو سَب کُچھ تمہارے لیٔے پاک صَاف ہو جائے گا۔
42 ”مگر اَے فریسیوں، تُم پر افسوس، تُم پودینہ، سَداب اَور سبزی ترکاری کا دسواں حِصّہ تو خُدا کو دیتے ہو لیکن دُوسری طرف اِنصاف کرنے سے اَور خُدا کی مَحَبّت سے غافل رہتے ہو۔ لازِم تُو یہ تھا کہ تُم پہلے والے کو بغیر چھوڑے پُورا کرتے اَور بعد والے کو بھی عَمل میں لاتے۔
43 ”اَے فریسیوں، تُم پر افسوس، کیونکہ تُم یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں اَور بازاروں میں لوگوں سے اِحتراماً سلام پانا پسند کرتے ہو۔
44 ”تُم پر افسوس، تُم اُن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جِن پر سے لوگ اَنجانے میں پاؤں رکھتے ہویٔے گزر جاتے ہیں۔“
45 تَب شَریعت کے عالِموں میں سے ایک نے اُنہیں جَواب میں کہا، ”اَے اُستاد، یہ باتیں کہہ کر، آپ ہماری توہین کرتے ہیں۔“
46 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے شَریعت کے عالِموں، تُم پر بھی افسوس کیونکہ تُم آدمیوں پر اَیسے بوجھ لادتے ہو جنہیں اُٹھانا بےحد مُشکل ہوتاہے اَور تُم خُود اَپنی ایک اُنگلی بھی اُن کی مدد کے واسطے نہیں اُٹھاتے۔
47 ”تُم پر افسوس، تُم تو نبیوں کی مزار تعمیر کرتے جنہیں تمہارے باپ دادا نے ہلاک کیا تھا۔ 48 پس تُم گواہ ہو کہ تُم اَپنے باپ دادا کے کاموں کی پُوری تائید کرتے کیونکہ اُنہُوں نے تو نبیوں کو قتل کیا اَور تُم اُن نبیوں کی مزار تعمیر کرتے۔ 49 اِس لیٔے خُدا کی حِکمت نے فرمایا، ’میں نبیوں اَور رسولوں کو اُن کے پاس بھیجوں گی۔ وہ اُن میں سے بعض کو قتل کر ڈالیں گے اَور بعض کو ستائیں گے۔‘ 50 پس یہ مَوجُودہ نَسل سارے نبیوں کے اُس خُون کی جو دُنیا کے شروع سے بہایا گیا ہے، ذمّہ دار ٹھہرائی جائے گی۔ 51 ہابلؔ کے خُون سے لے کر زکریاؔہ کے خُون تک جسے قُربان گاہ اَور پاک مَقدِس کے درمیان قتل کیا گیا تھا۔ ہاں! میں کہتا ہُوں کہ یہ نَسل ہی اُن کے خُون کی ذمّہ دار ٹھہرائی جائے گی۔
52 ”اَے شَریعت کے عالِموں تُم پر افسوس، تُم نے علم کی کُنجی چھین لی، تُم خُود بھی داخل نہ ہویٔے اَورجو داخل ہو رہے تھے اُنہیں بھی روک دیا۔“
53 جَب وہ وہاں سے باہر نِکلا تو شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی سخت مُخالف ہو گئے اَور نہایت غُصّہ میں چاروں طرف سے مُختلف سوالات کرنے لگے، 54 تاکہ اُنہیں اُن کے مُنہ سے نکلی ہویٔی کسی بات میں پکڑ لیں۔
<- لُوقا 10لُوقا 12 ->
Languages