2 اُس نے شِمشُونؔ سے کہا، ”مُجھے قطعی یقین ہو گیا تھا کہ تُو اُس سے سخت نفرت کرتا ہے، اِس لیٔے مَیں نے اُسے تیرے رفاقتی فرد کو دے دیا۔ کیا اُس کی چُھوٹی بہن زِیادہ حسین نہیں؟ لہٰذا تُو اَپنی پہلی بیوی کے عِوض اُس سے بیاہ کر لے۔“
3 شِمشُونؔ نے اُن سے کہا، ”اَب کی بار تو میں فلسطینیوں سے بدلہ لینے کا حقدار ہُوں۔ مَیں اُن کو تباہ کر دُوں گا۔“ 4 چنانچہ شِمشُونؔ نے جا کر تین سَو لومڑیاں پکڑیں اَور ہر دو کی دُمیں باندھ کر ہر جوڑی کے دُموں میں ایک ایک مشعل باندھ دی 5 اَور اُن مشعلوں کو آگ لگا کر لومڑیوں کو فلسطینیوں کی کھڑی فصلوں میں چھوڑ دیا۔ یُوں اُس نے پُولوں کے انباروں اَور کھڑی فصلوں کو تاکستانوں اَور زَیتُون کے باغوں سمیت جَلا ڈالا۔
6 جَب فلسطینیوں نے پُوچھا، ”یہ کس نے کیا ہے؟“ تو لوگوں نے کہا، ”یہ تِمنہتی کے داماد شِمشُونؔ کی کارستانی ہے کیونکہ اُس کی بیوی اُس کے رفاقتی فرد کو دے دی گئی۔“
9 تَب فلسطینیوں نے جا کر یہُودیؔہ میں ڈیرے ڈالے اَور لحیؔ تک پھیل گیٔے۔ 10 یہُودیؔہ کے باشِندوں نے اُن سے پُوچھا، ”تُم ہم سے لڑنے کیوں آئے ہو؟“
11 تَب یہُودیؔہ کے تین ہزار باشِندے عیطامؔ کی چٹّان کے غار میں گیٔے اَور شِمشُونؔ سے کہنے لگے، ”کیا تُو نہیں جانتا کہ فلسطینی ہم پر حُکمران ہیں؟ پھر تُونے ہمارے ساتھ اَیسا کیوں کیا؟“
12 اُنہُوں نے اُس سے کہا، ”ہم آئے ہیں تاکہ تُجھے باندھ کر فلسطینیوں کے حوالہ کر دیں۔“
13 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”ہمیں منظُور ہے۔ ہم تُجھے صِرف باندھ کر اُن کے حوالہ کر دیں گے۔ ہم تُجھے جان سے نہیں ماریں گے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اُسے دو نئی رسّیوں سے باندھا اَور چٹّان کے اُوپر سے لے آئے۔ 14 جَب وہ لحیؔ کے نزدیک پہُنچا تو فلسطینی للکارتے ہُوئے اُس کی طرف بڑھے۔ تَب یَاہوِہ کی رُوح شِدّت سے اُس پر نازل ہُوئی اَور اُس کی بانہوں پر کی رسّیاں آگ سے جلے ہُوئے سَن کی مانند ہو گئیں اَور اُس کے ہاتھوں کے بندھن کھُل کر گِر پڑے۔ 15 اُسے گدھے کے جبڑے کی تازہ ہڈّی مِلی۔ اُس نے اُسے اُٹھالیا اَور اُس سے ایک ہزار لوگوں کو مار گرایا۔
16 تَب شِمشُونؔ نے کہا،
18 چونکہ وہ بہت پیاساتھا اِس لیٔے اُس نے یَاہوِہ کو پُکارا اَور کہا، ”تُونے اَپنے خادِم کے ہاتھ سے عظیم فتح بخشی ہے۔ کیا اَب مَیں پیاسا مروں اَور نامختونوں کے ہاتھ میں پڑوں؟“ 19 تَب خُدا نے لحیؔ میں ایک جگہ زمین چاک کر دی اَور اُس میں سے پانی نکل آیا۔ جَب شِمشُونؔ پی چُکا تو اُس کی قُوّت لَوٹ آئی اَور وہ تازہ دَم ہو گیا۔ اِس لیٔے وہ چشمہ عینؔ ہقّورے[b] کہلایا اَور وہ آج تک لحیؔ میں ہے۔
20 شِمشُونؔ فلسطینیوں کے دِنوں میں بیس بَرس تک بنی اِسرائیل کا قاضی رہا۔
<- قُضاۃ 14قُضاۃ 16 ->
Languages