3 لیکن شِمشُونؔ وہاں آدھی رات تک پڑا رہا۔ پھر وہ اُٹھا اَور شہر کے پھاٹک کے کواڑوں اَور دونوں بازوؤں کو پکڑکر بینڈوں سمیت اُکھاڑ لیا اَور اُنہیں اَپنے کندھوں پر رکھ کر اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گیا جو حِبرونؔ کے سامنے ہے۔
4 چند دِنوں کے بعد سُورِقؔ کی وادی میں دلیلہؔ نام کی ایک عورت سے اُسے مَحَبّت ہو گئی۔ 5 اَور فلسطینیوں کے سرداروں نے اُس عورت کے پاس جا کر کہا، ”اگر تُو اُس کو پھُسلا کر دریافت کر لے کہ اُس کی قُوّت کا راز کیا ہے اَور ہم کیوں کر اُس پر غالب آسکتے ہیں تاکہ ہم اُسے باندھ کر اُسے اِیذا پہُنچا سکیں، تو ہم میں سے ہر ایک تُجھے گیارہ سَو ثاقل چاندی[a] دے گا۔“
6 تَب دلیلہؔ نے شِمشُونؔ سے کہا، ”مُجھے اَپنی قُوّت کا راز بتا کہ تُجھے کس طرح باندھ کر قابُو میں کیا جا سَکتا ہے؟“
7 شِمشُونؔ نے اُسے جَواب دیا، ”اگر کویٔی مُجھے سات تازہ تانتوں سے باندھ دے جو سِکھائی نہ گئی ہُوں تو میں دیگر آدمیوں کی مانند کمزور ہو جاؤں گا۔“
8 تَب فلسطینی سرداروں نے سات تازہ تانتیں اُسے لاکر دیں جو سِکھائی نہ گئی تھیں اَور اُس نے شِمشُونؔ کو اُن سے باندھ دیا۔ 9 اَور چند لوگوں کو کمرہ میں چھُپا کر اُس نے شِمشُونؔ کو پُکار کر کہا، ”اَے شِمشُونؔ، فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“ لیکن اُس نے اُن تانتوں کو اِس آسانی سے توڑ ڈالا جَیسے دھاگا چراغ کی لَو لگتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ چنانچہ اُس کی طاقت کا راز فاش نہ ہُوا۔
10 تَب دلیلہؔ نے شِمشُونؔ سے کہا، ”تُونے مُجھے احمق بنایا اَور مُجھ سے جھُوٹ بولا۔ اَب مُجھے بتا کہ تُجھے کیسے باندھا جا سَکتا ہے؟“
11 اُس نے کہا، ”اگر کویٔی مُجھے نئی رسّیوں سے جو کبھی اِستعمال نہ ہُوئی ہُوں کس کر باندھے تو میں دیگر آدمیوں کی طرح کمزور ہو جاؤں گا۔“
12 تَب دلیلہؔ نے نئی رسّیاں لیں اَور اُسے اُن سے باندھا۔ پھر چند لوگوں کو کمرہ میں چھُپا کر اُس نے اُسے پُکار کر کہا، ”اَے شِمشُونؔ، فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“ لیکن اُس نے اَپنے بازوؤں پر سے اُن رسّیوں کو دھاگے کی مانند توڑ ڈالا۔
13 تَب دلیلہؔ نے شِمشُونؔ سے کہا، ”اَب تک تو تُو مُجھے احمق بناتا رہا اَور مُجھ سے جھُوٹ بولتا رہا۔ اَب بتا کہ تُجھے کیسے باندھا جائے؟“
15 تَب اُس نے اُس سے کہا، ”جَب تُجھے مُجھ پر اِعتماد ہی نہیں تو تُو کیسے کہہ سَکتا ہے، ’مَیں تُجھ سے مَحَبّت کرتا ہُوں،‘ یہ تیسری بار ہے جو تُونے مُجھے احمق بنایا اَور مُجھے اَپنی قُوّت کا راز نہیں بتایا۔“ 16 وہ اِس قِسم کی نُکتہ چینی سے اُسے ہر روز دِق کرتی رہی یہاں تک کہ اُس کا دَم ناک میں آ گیا۔
17 چنانچہ اُس نے اُسے سَب کچھ بتا دیا۔ اُس نے کہا، ”میرے سَر پر کبھی اُسترا نہیں پھرا کیونکہ مَیں ماں کی پیٹ سے ہی نذیر ہُوں اَور خُدا کے واسطے مخصُوص کیا گیا ہُوں۔ اگر میرا سَر مونڈا جائے تو میری طاقت جاتی رہے گی اَور مَیں دیگر لوگوں کی طرح کمزور ہو جاؤں گا۔“
18 جَب دلیلہؔ نے دیکھا کہ اُس نے سَب کچھ بتا دیا ہے تو اُس نے فلسطینی سرداروں کو کہلا بھیجا، ”ایک بار پھر آ جاؤ؛ کیونکہ اُس نے مُجھے سَب کچھ بتا دیا ہے۔“ چنانچہ فلسطینیوں کے سردار چاندی لے کر آ پہُنچے۔ 19 دلیلہؔ نے اَپنے زانوں پر اُسے سُلا کر ایک آدمی کو بُلا بھیجا اَور اُس کے سَر کی ساتوں لٹیں مُنڈوا ڈالیں اَور اُسے اَپنے قابُو میں کرنے لگی۔ اَور اُس کی قُوّت رخصت ہو چُکی تھی۔
20 تَب اُس نے پُکارا، ”اَے شِمشُونؔ فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!“
21 تَب فلسطینیوں نے اُسے پکڑکر اُس کی آنکھیں نکال ڈالیں اَور اُسے غزّہؔ لے گیٔے۔ پھر اُسے کانسے کی زنجیروں میں جکڑ کر قَیدخانہ میں چکّی پیسنے پر لگا دیا۔ 22 لیکن اُس کے سَر کے بال مونڈے جانے کے بعد پھر سے بڑھنے لگے۔
24 جَب لوگ اُسے دیکھتے تَب اَپنے معبُود کی تمجید کرتے ہُوئے کہتے،
25 جَب اُن کی خُوشی کی اِنتہا نہ رہی تو وہ چِلّا چِلّاکر کہنے لگے، ”شِمشُونؔ کو باہر لے آؤ۔“ تاکہ وہ تماشا کرے اَور ہمارا دِل بہلائے۔ چنانچہ اُنہُوں نے شِمشُونؔ کو قَیدخانہ سے بُلوایا اَور وہ اُن کے لیٔے کھیل تماشا کرنے لگا۔
31 تَب اُس کے بھایٔی اَور اُس کے باپ کے گھرانے کے لوگ اُسے لینے کے لیٔے آئے۔ وہ اُسے لے گیٔے اَور اُسے ضورعاہؔ اَور اِستالؔ کے درمیان اُس کے باپ منوحہؔ کی قبر میں دفن کیا۔ وہ بیس بَرس تک اِسرائیلیوں کا قاضی رہا۔
<- قُضاۃ 15قُضاۃ 17 ->- a گیارہ سَو ثاقل چاندی یعنی تیرہ کِلوگرام
Languages