3 اُس کے والدین نے کہا، ”کیا تیرے رشتہ داروں اَور ہماری ساری قوم میں کویٔی عورت نہیں جو تُجھے پسند ہو؟ کیا یہ ضروُری ہے کہ تُم نامختون فلسطینیوں میں سے اَپنے لیٔے بیوی لایٔے؟“
5 شِمشُونؔ اَپنے والدین کے ساتھ تِمنؔہ جا رہاتھا کہ تِمنؔہ کے تاکستانوں کے نزدیک پہُنچتے ہی ایک جَوان شیر گرجتا ہُوا اُس کی طرف آ لپکا۔ 6 تَب یَاہوِہ کا رُوح اُس پر اِس قدر زور سے نازل ہُوا کہ اُس نے نہتّے ہی اُس شیر کو یُوں چیر ڈالا گویا کویٔی کسی بکری کے بچّہ کو چیر ڈالا ہو۔ لیکن اُس نے اَپنے ماں باپ سے اَپنی اِس حرکت کا ذِکر تک نہیں کیا۔ 7 تَب شِمشُونؔ نے نیچے جا کر اُس عورت سے باتیں کیں اَور وہ اُسے پسند آئی۔
8 کچھ دِنوں کے بعد جَب وہ اُس سے بیاہ کرنے گیا تو راہ سے ہٹ کر شیر کی لاش دیکھنے گیا اَور اُسے اُس کے لاش میں شہد کی مکھّیوں کا جھُنڈ اَور شہد کا چھتّا دِکھائی دیا 9 جسے اُس نے اَپنے ہاتھوں سے نکال لیا اَور اُس کا شہد کھاتا ہُوا چل دیا۔ جَب وہ اَپنے ماں باپ سے مِلا تو اُنہیں بھی تھوڑا سا دیا اَور اُنہُوں نے بھی کھایا۔ لیکن اُس نے اُنہیں یہ نہ بتایا کہ وہ شہد اُس نے شیر کے لاش میں سے نکالا تھا۔
10 تَب اُس کا باپ اُس عورت کو دیکھنے کے لیٔے گیا اَور شِمشُونؔ نے وہاں دُلہے کی طرف سے ضیافت کرنے کے رِواج کے مُطابق ضیافت کی۔ 11 تِمنتھ کے لوگوں نے تیس افراد کو مُنتخب تاکہ وہ شِمشُونؔ کی رِفاقت میں رہیں۔
12 شِمشُونؔ نے اُن سے کہا، ”مَیں تُمہیں ایک پہیلی سُناتا ہُوں۔ اگر تُم اِس ضیافت کے سات دِنوں میں اُسے بُوجھ کر مُجھے جَواب دوگے تو مَیں تُمہیں تیس کتانی کُرتے اَور تیس جوڑے کپڑے دُوں گا۔ 13 اَور اگر تُم مُجھے جَواب نہ دے سکوگے تو تُمہیں مُجھے تیس کتانی کُرتے اَور تیس جوڑے کپڑے دینے ہوں گے۔“
14 اُس نے کہا،
15 چوتھے دِن اُنہُوں نے شِمشُونؔ کی بیوی سے کہا، ”اَپنے خَاوند کو پھُسلا تاکہ وہ ہمیں اِس پہیلی کا مطلب سمجھائے ورنہ ہم تُجھے اَور تیرے باپ کے گھر کو آگ سے جَلا دیں گے۔ کیا تُم نے ہمیں یہاں لُوٹنے کے لیٔے مدعو کیا تھا؟“
16 تَب شِمشُونؔ کی بیوی اُس کے پاس سسِکیاں بھرتی ہُوئی آئی اَور کہنے لگی، ”تُو مُجھ سے نفرت کرتا ہے! تُجھے مُجھ سے واقعی مَحَبّت نہیں ہے۔ تُونے میری قوم کے لوگوں سے پہیلی پُوچھی لیکن مُجھے اُس کا مطلب بھی نہیں بتایا۔“
18 ساتویں دِن سُورج غروب ہونے سے قبل شہر کے لوگوں نے اُس سے کہا،
19 تَب یَاہوِہ کی رُوح اُس پر زور سے نازل ہُوئی اَور وہ اشقلونؔ کو گیا اَور اُن کے تیس آدمیوں کو مار ڈالا اَور اُن کا مال و اَسباب لُوٹ کر اُن کے کپڑے پہیلی پُوچھنے والوں کو دئیے۔ پھر وہ غُصّہ میں آگ بگُولہ ہوکر اَپنے باپ کے گھر چلا گیا۔ 20 اَور شِمشُونؔ کی بیوی اُس کے ایک دوست کو جو اُس کی ضیافت میں شریک ہُوا تھا بیاہ دی گئی۔
<- قُضاۃ 13قُضاۃ 15 ->
Languages