2 ”بُرائی کرنے کے لیٔے ہُجوم کی پیروی نہ کرنا اَور جَب تُم کسی مُقدّمہ میں گواہی دو تو محض ہُجوم کا ساتھ دینے کی خاطِر اِنصاف کا خُون نہ کردینا۔ 3 اَور کسی غریب اِنسان کے مُقدّمہ میں بھی طرفداری سے کام نہ لینا۔
4 ”اگر تُمہیں اَپنے دُشمن کا بھٹکا ہُوا بَیل یا گدھا کہیں مِل جائے تو اُسے ضروُر اُس کے پاس واپس لے جانا۔ 5 اگر تُم اَپنے رقیب کے گدھے کو اُس کے بھاری بوجھ کے باعث گرا ہُوا دیکھو تو اُسے یُوں ہی نہ چھوڑ دینا بَلکہ اُسے کھڑا کرنے میں اُس کی مدد کرنا۔
6 ”تُم اَپنے غریب لوگوں کے مُقدّمات میں اِنصاف کا خُون نہ ہونے دینا۔ 7 جھُوٹے اِلزام سے کویٔی واسطہ نہ رکھنا اَور نہ کسی بے قُصُور یا ایماندار اِنسان کو قتل کرنا کیونکہ مَیں کسی مُجرم کو نہ چھوڑوں گا۔
8 ”تُم رشوت نہ لینا کیونکہ رشوت بیناؤں کو اَندھا کردیتی ہے اَور صادقوں کی باتوں کو بدل ڈالتی ہے۔
9 ”کسی پردیسی پر ظُلم نہ کرنا کیونکہ تُم پردیسی کے دِل کو جانتے ہو اِس لیٔے کہ تُم خُود بھی مُلک مِصر میں پردیسی تھے۔
12 ”چھ دِن اَپنا کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن کویٔی کام نہ کرنا تاکہ تمہارے بَیل اَور تمہارے گدھے کو آرام ملے اَور تمہارا خانہ زاد غُلام اَور وہ پردیسی جو تمہارے یہاں ٹھہرا ہو، تازہ دَم ہو جایٔے۔
13 ”اَور ہر ایک بات پرجو مَیں نے تُم سے کہی ہے احتیاط سے عَمل کرنا اَور دُوسرے معبُودوں کا نام تک نہ لینا بَلکہ وہ تمہارے مُنہ سے بھی سُنایٔی نہ دے۔
15 ”عیدِ فطیر یعنی بے خمیری روٹی کی عید منانا اَور سات دِن تک جَیسا کہ مَیں نے تُمہیں حُکم دیا بے خمیری روٹیاں کھانا اَور اَیسا ابیبؔ کے مہینے میں مُقرّرہ وقت پر کرنا کیونکہ اُسی مہینے میں تُم مُلک مِصر سے نکلے تھے۔
16 ”اَور اَپنے کھیت میں جو فصل تُم بوؤ اُس کی پہلی پیداوار سے فصل کاٹنے کی عید منانا۔
17 ”سال میں تین بار تمام مَردوں کو یَاہوِہ قادر کے حُضُور حاضِر ہونا ہوگا۔
18 ”تُم قُربانی کا خُون کسی اَیسی چیز کے ساتھ نہ پیش کرنا جِس میں خمیر مِلا ہو مُجھے نہ چڑھانا۔
19 ”اَور تُم اَپنی زمین کے پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں لانا۔“
27 ”میں اَپنی ہیبت کو تمہارے آگے آگے بھیجوں گا اَور مَیں ہر ایک قوم کو جو تمہارا مُقابلہ کرےگی شِکست دُوں گا۔ تمہارے سارے دُشمن میری وجہ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جایٔیں گے۔ 28 اَور تمہارے آگے تتیاؤں کو بھیجوں گا جو حِوّیوں، کنعانیوں اَور حِتّیوں کو تمہارے سامنے سے بھگا دیں گی۔ 29 لیکن مَیں اُنہیں ایک ہی بَرس میں نہ بھگاؤں گا تاکہ زمین ویران نہ ہو اَور جنگلی جانوروں کی کثرت تمہارے لیٔے نُقصان دہ ثابت نہ ہو۔ 30 بَلکہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے اُنہیں تمہارے سامنے سے اُس وقت تک دُور کرتا رہُوں گا جَب تک کہ تُم تعداد میں بڑھ کر اُس مُلک پر قابض نہ ہو جاؤ۔
31 ”اَور مَیں تمہاری سرحدیں بحرِقُلزمؔ سے لے کر فلسطینیوں کے بہر[a] تک اَور بیابان سے لے کر دریائے فراتؔ تک مُقرّر کروں گا اَور اُس مُلک میں رہنے والوں کو تمہارے قبضہ میں دے دُوں گا اَور تُم اُنہیں اَپنے سامنے سے نکال دوگے۔ 32 تُم اُن سے یا اُن کے معبُودوں سے کویٔی عہد نہ باندھنا۔ 33 اَور وہ تمہارے مُلک میں رہنے نہ پائے اَیسا نہ ہو کہ وہ تُم سے میرے خِلاف گُناہ کروائیں کیونکہ اُن کے معبُودوں کی عبادت تمہارے لیٔے یقیناً ایک پھندا بَن جائے گی۔“
<- خُروج 22خُروج 24 ->- a فلسطینیوں کے بہریعنی بہر رُوم
Languages