5 لیکن دیگر یہُودیوں نے جلن کی وجہ سے؛ بعض بدمعاشوں کو بازاری لوگوں میں سے چُن کر ہُجوم جمع کر لیا، اَور شہر میں بَلوا شروع کر دیا۔ اُنہُوں نے یاسونؔ کے گھر پر ہلّہ بول دیا تاکہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو ڈھونڈ کر ہُجوم کے سامنے لے آئیں۔ 6 لیکن جَب وہ اُنہیں نہ پا سکے تو یاسونؔ اَور کیٔی دُوسرے مسیحی بھائیوں کو گھسیٹ کر شہر کے حاکم کے پاس لے گیٔے، اَور چِلّانے لگے: ”یہ آدمی جنہوں نے ساری دُنیا کو اُلٹ پلٹ کر دیا ہے اَب یہاں بھی آ پہُنچے ہیں، 7 اَور یاسونؔ نے اُنہیں اَپنے گھر میں ٹھہرایا ہے۔ یہ لوگ قَیصؔر کے اَحکام کی خِلاف ورزی کرتے ہیں اَور کہتے ہیں کہ بادشاہ تو کویٔی اَور ہی ہے، یعنی یِسوعؔ۔“ 8 یہ بات سُن کر عوام اَور شہر کے حاکم تِلمِلا گیٔے 9 اَور اُنہُوں نے یاسونؔ اَور باقی مسیحی لوگوں کو ضمانت پر چھوڑ دیا۔
13 جَب تھِسلُنِیکے کے یہُودیوں کو مَعلُوم ہُوا کہ پَولُسؔ بیریّؔہ میں خُدا کے کلام کی مُنادی کر رہے ہیں، تو وہ وہاں بھی آ پہُنچے اَور لوگوں کو ہنگامہ برپا کرنے پر اُکسانے لگے۔ 14 اِس پر بھائیوں نے فوراً پَولُسؔ کو ساحِل سمُندر کی طرف روانہ کر دیا، لیکن سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس بیریّؔہ ہی میں ٹھہرے رہے۔ 15 جو لوگ پَولُسؔ کی رہبری کر رہے تھے وہ اُنہیں اتھینؔے میں چھوڑکر اِس حُکم کے ساتھ واپس ہویٔے کہ سِیلاسؔ اَور تِیمُتھِیُس جلد سے جلد پَولُسؔ کے پاس پہُنچ جایٔیں۔
22 لہٰذا پَولُسؔ اَرِیُوپَگُسؔ کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اَور فرمایا: ”اَے اتھینؔے والو! میں دیکھتا ہُوں کہ تُم ہر بات میں بڑی مَذہَبِیّت دِکھانے ہو۔ 23 کیونکہ جَب مَیں تمہارے شہر میں گھُوم پھر رہاتھا تو میری نظر تمہاری عبادت کی چیزوں پر پڑی، اَور میری نظر قُربان گاہ پر بھی پڑی۔ جِس پر یہ لِکھّا ہُواہے:
24 ”جِس خُدا نے دُنیا اَور اُس کی ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے وہ آسمان اَور زمین کا مالک ہے۔ وہ ہاتھ کی بنائی ہویٔی یہُودی عبادت گاہوں میں نہیں رہتا۔ 25 وہ اِنسان کے ہاتھوں سے خدمت نہیں لیتا کیونکہ وہ کسی چیز کا مُحتاج نہیں۔ وہ تو سارے اِنسانوں کو زندگی، سانس اَور سَب کچھ دیتاہے۔ 26 خُدا نے آدمؔ کو بنایا اَور اُس ایک سے لوگوں کی ہر قوم کو پیدا کیا تاکہ تمام روئے زمین آباد ہو؛ خُدا نے اُن کی زندگی کے ایّام مُقرّر کیٔے اَور سکونت کے لیٔے حدّوں کو تعیُّن کیا۔ 27 تاکہ وہ خُدا کو ڈھونڈیں اَور شاید تلاش کرتے کرتے اُسے پالیں، حالانکہ وہ ہم میں سے کسی سے بھی دُور نہیں۔ 28 ’کیونکہ ہم خُدا میں زندہ رہتے اَور حرکت کرتے اَور ہمارا وُجُود بھی اُسی میں قائِم ہے۔‘[d] جَیسا کہ تمہارے بعض شاعِروں نے بھی کہا ہے، ’ہم تو اُن کی نَسل بھی ہیں۔‘[e]
29 ”اگر ہم ہیں تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ نَسل الٰہی سونے، چاندی یا پتّھر کی مُورت ہے جو کسی اِنسان کی ماہرانہ کاریگری کا نمونہ ہو۔ 30 خُدا نے ماضی کی اَیسی جہالت کو نظر اَنداز کر دیا، اَور اَب وہ سارے اِنسانوں کو ہر جگہ حُکم دیتاہے کہ تَوبہ کریں۔ 31 کیونکہ اُس نے ایک دِن مُقرّر کر دیا ہے جَب وہ راستبازی کے ساتھ ساری دُنیا کا اِنصاف ایک اَیسے آدمی کے ذریعہ کرےگا جسے اُس نے مامُور کیا ہے اَور اُسے مُردوں میں سے زندہ کرکے یہ بات سارے اِنسانوں پر ثابت کر دی ہے۔“
32 جَب اُنہُوں نے مُردوں کی قیامت کے بارے میں سُنا، تو اُن میں سے بعض نے اِس بات کو ہنسی میں اُڑا دیا، اَور بعض نے کہا کہ، ”ہم اِس مضمون پر تُجھ سے پھر کبھی سُنیں گے۔“ 33 یہ حال دیکھ کر پَولُسؔ اُن کی مَجلِس سے نکل کر چلےگئے۔ 34 مگر کچھ لوگ پَولُسؔ سے ہمنوا ہو گئے اَور ایمان لایٔے۔ اُن میں ایک دِیونُسیُّسؔ، اَرِیُوپَگُسؔ کی مَجلِس کا رُکن تھا، ایک عورت بھی تھی جِس کا نام دمرِسؔ تھا اَور اُن کے علاوہ اَور بھی تھے۔
<- اعمال 16اعمال 18 ->- a اِپِکُورؔی یعنی عیش و عشرت میں زندگی بسر کرنے والے لوگ، اُن کی زندگی کے متعلّق نظریہ کہ خُوب مزے اُڑائیں کویٔی خُدا نہیں ہے
- b سِتُوئیکی فلسفی یعنی دُنیوی باتوں سے پرے ضَبط نَفس سے کام لینے والے دینی لوگ
- c قیامت یعنی جِس دِن لوگ مُردوں میں سے زندہ ہوں گے۔
- d کیونکہ ہم خُدا میں زندہ رہتے اَور حرکت کرتے اَور ہمارا وُجُود بھی اُسی میں قائِم ہے یہ جُملہ کریتےؔ فلاسفر ایپیمینیڈس کا ہے۔
- e ہم تو اُن کی نَسل بھی ہیں، یہ جُملہ سَلیِسی شہر فلسفی اِراَطُس کا ہے۔
Languages