13 سَبت کے دِن ہم شہر کے پھاٹک سے نکل کر دریا پر پہُنچے کیونکہ ہمیں اُمّید تھی کہ وہاں پر ضروُر کویٔی دعا کرنے کی جگہ ہوگی۔ ہم وہاں جا کر بیٹھ گیٔے اَور کچھ عورتیں جو وہاں جمع ہو گئی تھیں، اُن سے کلام کرنے لگے۔ 14 ہماری باتیں سُننے والی عورتوں میں لُدیہؔ نام کی ایک عورت تھی۔ وہ تھُواتِیؔرہ شہر کی تھی اَور قِرمزی رنگ والے کپڑے کا کاروبار کرتی تھی اَور بڑی خُداپرست تھی۔ خُداوؔند نے اُس کا کشادہ دِل کیا کہ پَولُسؔ کا پیغام سُنے اَور اُسے قبُول کرے۔ 15 چنانچہ جَب وہ اَور اُس کے خاندان کے لوگ پاک غُسل لے چُکے تو اُس نے ہم سے کہا، ”اگر تُم لوگ مُجھے خُداوؔند کی مُومِنہ بندی سمجھتے ہو، تو چلو اَور میرے گھر میں قِیام کرو۔“ اُس کی اِلتجا سُن کر ہم راضی ہو گئے۔
19 جَب اُس کے آقاؤں نے دیکھا کہ اُن کی کمائی کی اُمّید جاتی رہی تو وہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو پکڑکر شہر کے چَوک میں حاکموں کے پاس لے گیٔے۔ 20 اُنہُوں نے پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو کَچہری میں پیش کیا اَور کہا، ”یہ لوگ یہُودی ہیں اَور ہمارے شہر میں بڑی کھلبلی مچا رہے ہیں 21 اَور اَیسی رسموں کی تعلیم دیتے ہیں جِن کا ماَننا یا اُن پر عَمل کرنا ہم رُومیوں کو ہرگز جائز نہیں۔“
22 یہ سُن کر عوام بھی اُن کے ساتھ مِل گیٔے اَور پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کی مُخالفت پر اُتر آئے، اِس پر عدالت کے حاکموں نے اُن کی پوشاک پھاڑ کر اُنہیں ننگا کروا کر پِٹوانے کا حُکم دیا۔ 23 چنانچہ سپاہیوں نے اُنہیں خُوب بیت لگائے اَور قَیدخانہ میں ڈال دیا۔ قَیدخانہ کے داروغہ کو حُکم دیا گیا کہ اُن کی پُوری نگہبانی کرے۔ 24 یہ حُکم پا کر داروغہ نے اُنہیں ایک کال کوٹھری میں بند کر دیا اَور اُن کے پیروں کو لکڑی میں ٹھونک دیا۔
25 آدھی رات کے قریب جَب پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ دعا میں مشغُول تھے اَور خُدا کی حَمد و ثنا کر رہے تھے اَور دُوسرے قَیدی سُن رہے تھے۔ 26 کہ اَچانک ایک بڑا بھُونچال آیا جِس سے قَیدخانہ کی بُنیاد ہل گئی۔ اَور فوراً دروازے کھُل گیٔے اَور سَب قَیدیوں کی زنجیروں بھی کھُل گئیں۔ 27 داروغہ جاگ اُٹھا اَور جَب اُس نے قَیدخانہ کے دروازے کھُلے دیکھے تو خیال کیا کہ سارے قَیدی قَیدخانہ سے نکل بھاگے ہیں۔ اُس نے اَپنی تلوار کھینچی اَور چاہتا تھا کہ اَپنے آپ کو مار ڈالے 28 لیکن پَولُسؔ نے چِلّاکر کہا، ”اَپنے آپ کو نُقصان نہ پہُنچا! کیونکہ ہم سَب یہاں مَوجُود ہیں!“
29 داروغہ نے چراغ منگوایا اَور اَندر دَوڑکر گیا اَور کانپتا ہُوا پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کے سامنے سَجدہ میں گِر پڑا۔ 30 پھر اُنہیں باہر لایا اَور کہنے لگا: ”صاحِبو! میں کیا کروں کہ نَجات پا سکوں؟“
31 اُنہُوں نے جَواب دیا: ”خُداوؔند یِسوعؔ المسیح پر ایمان لائیں تو آپ اَور آپ کا سارا خاندان نَجات پایٔےگا۔“ 32 تَب اُنہُوں نے داروغہ اَور اُن کے گھر والوں کو خُداوؔند کا کلام سُنایا۔ 33 اُسی وقت رات کو داروغہ اُنہیں لے گیا، اُن کے زخم دھوئے اَور فوراً اُنہُوں نے اَور اُن کے سارے گھر والوں نے پاک غُسل لیا۔ 34 پھر داروغہ اُنہیں اُوپر گھر میں لے گیا اَور اُن کے کھانے کے لیٔے دسترخوان بچھایا؛ اَور اَپنے سارے گھر والوں سمیت خُدا پر ایمان لاکر بڑے خُوش ہویٔے۔
35 جَب صُبح ہویٔی تو رُومی عدالت کے حاکموں نے اَپنے سپاہیوں کو قَیدخانہ کے داروغہ کے پاس یہ حُکم دے کر بھیجا: ”اُن آدمیوں کو رہا کر دے۔“ 36 چنانچہ داروغہ نے پَولُسؔ سے کہا، ”عدالت کے حاکموں نے حُکم بھیجا ہے کہ تُجھے اَور سِیلاسؔ کو رہا کیا جائے۔ لہٰذا اَب تُم نکل کر۔ سلامت چلے جاؤ۔“
37 لیکن پَولُسؔ نے سپاہیوں سے کہا: ”اُنہُوں نے ہمارا قُصُور ثابت کیٔے بغیر ہمیں سَب کے سامنے مارا پِیٹا اَور قَیدخانہ میں ڈال دیا حالانکہ ہم رُومی شَہری ہیں، کیا اَب وہ ہمیں چُپکے سے چھوڑ دینا چاہتے ہیں؟ نہیں! اَیسا نہیں ہو سَکتا۔ بَلکہ وہ خُود یہاں آئیں اَور ہمیں قَیدخانہ سے باہر لے آئیں۔“
38 سپاہیوں نے جا کر عدالت کے حاکموں کو اِن باتوں کی خبر دی اَور جَب اُنہُوں نے سُنا کہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ رُومی شَہری ہیں، تو بہت گھبرائے۔ 39 اَور وہاں آکر اُنہیں منانے لگے اَور پھر اُنہیں قَیدخانہ سے باہر لایٔے اَور درخواست کی کہ شہر سے چلے جایٔیں۔ 40 پس پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ قَیدخانہ سے باہر نکلے، اَور لُدیہؔ کے یہاں گیٔے، جہاں وہ فِلپّی کے مسیحی بھائیوں سے ملے اَور اُنہیں تسلّی دے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
<- اعمال 15اعمال 17 ->
Languages