4 لیکن وہ دہشت زدہ ہوکر کہنے لگے، ”جَب دو بادشاہ مِل کر اُس کا مُقابلہ نہ کر سکے تو ہم کیسے کر سکیں گے؟“
5 لہٰذا شاہی محل کے دیوان، شہر کے حاکم اَور بُزرگوں، اَور شہزادوں کے سرپرستوں نے یِہُو کو یہ پیغام بھیجا: ”ہم سَب آپ کے خادِم ہیں اَورجو کچھ آپ فرمائیں گے ہم وُہی کریں گے اَور ہم کسی کو بادشاہ نہیں بنائیں گے اَورجو کچھ آپ کی نظر میں بہتر ہے آپ وُہی کریں۔“
6 تَب یِہُو نے اُنہیں ایک دُوسرا خط لِکھ کر بھیجا، ”بہت خُوب! اگر تُم سَب میری طرف ہو اَور میرا حُکم مانوگے تو اَپنے آقا کے بیٹوں کے سَر لے کر کل یزرعیلؔ میں اِسی وقت میرے پاس آ جاؤ۔“
9 اَور اگلی صُبح یِہُو باہر گیا اَور کھڑے ہوکر سارے مجمع سے مُخاطِب ہُوا، ”آپ سَب بے قُصُور ہیں۔ مَیں نے ہی اَپنے آقا کے خِلاف سازش کی اَور اُنہیں مار ڈالا لیکن اِن ستّر شہزادوں کا قتل کس نے کیا ہے؟ 10 لہٰذا جان لو کہ احابؔ کے گھرانے کے خِلاف یَاہوِہ کی فرمائی ہوئی کویٔی بھی بات خالی نہیں جائے گی کیونکہ جو کچھ یَاہوِہ نے اَپنے خادِم ایلیّاہ کی مَعرفت فرمائی تھی اُسے یقیناً پُورا کر دیا ہے۔“ 11 یہ کہتے ہُوئے یِہُو نے اُن سَب کو بھی جو احابؔ کے گھرانے سے تعلّق رکھتے تھے اَور یزرعیلؔ میں رہتے تھے قتل کر دیا۔ اَور اُس نے احابؔ کے خاندان کے باقی بچے مخصُوص آدمیوں، قریبی دوستوں اَور اُس کے کاہِنوں کو بھی قتل کر ڈالا یہاں تک کہ احابؔ کے خاندان میں ایک بھی شخص زندہ نہ بچا۔
12 پھر یِہُو وہاں سے سامریہؔ کے لئے روانہ ہُوا، اَور راستہ میں جَب وہ چرواہوں کے بیت اِقدؔ نام کی جگہ میں تھا، 13 تَب اُس کی مُلاقات شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ کے کچھ رشتہ داروں سے ہوئی۔ یِہُو نے اُن سے دریافت کیا، ”آپ لوگ کون ہیں؟“
14 یِہُو نے اَپنے آدمیوں کو حُکم دیا، ”اُنہیں زندہ پکڑ لو۔“ چنانچہ اُنہُوں نے تقریباً بِیالیس اَشخاص کو زندہ پکڑا اَور اُنہیں بیت اِقدؔ کے کوئیں کے پاس لے جا کر قتل کر دیا۔ اَور یِہُو نے اُن میں سے ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔
15 پھر جَب یہُو وہاں سے رخصت ہُوا تو اُس کی مُلاقات یوُنادابؔ بِن ریخابؔ سے ہوئی، جو اُس کے اِستِقبال کو آ رہاتھا۔ یِہُو نے اُسے سلام کرنے کے بعد پُوچھا، ”کیا تُم مُجھ سے مُتّفِق ہو جَیسا کہ مَیں تُم سے ہُوں؟“
17 جَب یِہُو سامریہؔ میں آیا تو اُس نے جَیسا کہ یَاہوِہ نے ایلیّاہ کی مَعرفت احابؔ کے خاندان کے بارے میں فرمایا تھا احابؔ کے خاندان کے سبھی بچے ہُوئے لوگوں کو جو سامریہؔ میں تھے مار ڈالا؛ اُس نے اُنہیں نِیست و نابود کر دیا۔
20 تَب یِہُو نے فرمان جاری کیا، ”بَعل کے اِعزاز میں ایک خاص جلسہ کا اعلان کرو۔“ لہٰذا اُنہُوں نے سَب جگہ مُنادی کر دی۔ 21 اَور یِہُو نے تمام بنی اِسرائیل میں سے بَعل کے تمام پرستار کو بُلا لیا اَور کویٔی بھی غَیر حاضِر نہ تھا۔ اَور اِن سَب کا بَعل کے مَندِر میں ہُجوم جمع ہُوا اَور بَعل کے تمام پرستار سے مَندِر ایک سِرے سے دُوسرے سِرے تک پُوری طرح سے بھر گیا۔ 22 اَور یِہُو نے توشہ خانہ کے نِگران کو حُکم دیا، ”بَعل کے تمام پرستار کے لیٔے لباس لے آؤ۔“ چنانچہ وہ اُن کے لیٔے لباس لے آئے۔
23 تَب یِہُو اَور یوُنادابؔ بِن ریخابؔ بَعل کے مَندِر میں داخل ہُوئے اَور یِہُو نے بَعل کے پرستار سے فرمایا، ”اَپنے چاروں طرف دیکھو اَور اِطمینان کر لو کہ یہاں یَاہوِہ کے خادِموں میں سے تو کویٔی تمہارے درمیان مَوجُود نہیں، صِرف بَعل کے پرستار ہی مَوجُود ہیں۔“ 24 چنانچہ اُنہُوں نے قُربانی اَور سوختنی نذریں گزراننے کا کام اَندر جا کر شروع کیا اَور یِہُو نے باہر اسّی شخص مُقرّر کئے ہُوئے تھے جنہیں اُس نے یہ ہدایت دی تھی: ”اگر تُم میں سے کوئی اِن آدمیوں کو جنہیں مَیں تمہارے ہاتھ میں سُپرد کر رہا ہُوں، کسی کو بھی بچ کر فرار ہونے دے گا تو، اُن کی جان کے بدلے اُسے اَپنی جان دینی پڑےگی۔“
25 تَب جُوں ہی یِہُو نے سوختنی نذریں گزراننے کا کام ختم کیا، اُس نے پہرےداروں اَور شاہی افسران کو حُکم دیا: ”اَندر داخل ہوکر سَب کو قتل کر دو؛ اَور ایک بھی بچنے نہ پائے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے سَب کو تلوار سے قتل کر دیا اَور پہرےداروں اَور شاہی افسران نے اُن کی لاشیں باہر پھینک دیں۔ تَب وہ بَعل کے بُتکدے کے اَندرونی کمرے میں گئے۔ 26 اَور وہاں سے اُنہُوں نے بَعل کے مَندِر کے مُقدّس سُتون کو اُکھاڑ کر باہر لاکر جَلا دیا۔ 27 اُنہُوں نے بَعل کے مُجسّمے کو پُوری طرح سے نِیست و نابود کر دیا اَور بَعل کے مَندِر کو ڈھا دیا اَور لوگ آج تک اُسے بطور بیت الخلا اِستعمال کر رہے ہیں۔
28 اِس طرح یِہُو نے بَعل کی پرستش کو بنی اِسرائیل کے درمیان سے نِیست و نابود کر دیا۔ 29 تاہم یِہُو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گُناہوں سے جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر دیا تھا باز نہ آیا یعنی اُس نے سونے کے بچھڑوں کی پرستش سے جو بیت ایل اَور دانؔ میں تھے کنارہ نہیں کیا۔
30 اَور یَاہوِہ نے یِہُو سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے جو کچھ میری نظر میں دُرست ہے وُہی کام کیا ہے اَور احابؔ کے گھرانے کے ساتھ جَیسا میں کرنا چاہتا تھا وَیسا ہی کیا ہے اِس لیٔے تمہاری اَولاد چوتھی پُشت تک بنی اِسرائیل کے تخت پر تخت نشین رہے گی۔“ 31 مگر یِہُو نے پُورے دِل سے اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ کے آئین پر عَمل نہیں کیا۔ اُس نے یرُبعامؔ کے گُناہوں سے کنارہ نہ کیا جِن میں اُس نے بنی اِسرائیل کو بھی ملوث کر دیا تھا۔
32 یِہُو کے دَورِ حُکومت میں ہی یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل کی سرحد کو کم کرنا شروع کر دیا تھا اَور حزائیلؔ نے بنی اِسرائیل کی تمام علاقوں کو فتح کر لیا تھا۔ 33 یردنؔ کے مشرقی علاقے سے لے کر پُورا گِلعادؔ، گادؔ، رُوبِنؔ اَور منشّہ کا علاقہ، عروعؔر سے ارنُونؔ کی وادی تک یعنی گِلعادؔ سے باشانؔ تک کا سارا علاقہ حزائیلؔ نے فتح کر لیا تھا۔
34 اَور کیا یِہُو کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات اَور فتوحات وہ سَب جو اُس نے کیا اُس کا ذِکر بنی اِسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کِتاب میں درج نہیں ہے؟
35 اَور یِہُو اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ سو گیا اَور سامریہؔ میں دفن کیا گیا اَور اُس کی جگہ پر اُس کا بیٹا یہُوآحازؔ بادشاہ بنا۔ 36 یِہُو نے سامریہؔ میں اِسرائیل پر اٹّھائیس سال تک حُکمرانی کی۔
<- 2 سلاطین 92 سلاطین 11 ->
Languages