4 چنانچہ وہ نوجوان نبی راموتؔ گِلعادؔ کو گیا۔ 5 اَور وہاں پہُنچ کر اُس نے فَوج کے افسروں کو ایک ساتھ بیٹھے پایا۔ اُس نے اعلان کیا، ”اَے فَوج کے سپہ سالار میرے پاس آپ کے لیٔے ایک پیغام ہے۔“
6 اِس پر یِہُو اُٹھ کھڑا ہُوا اَور کمرے کے اَندر گیا۔ تَب اُس نبی نے وہ تیل اُس کے سَر پر اُنڈیل دیا اَور اعلان کیا، ”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: ’مَیں نے تُمہیں یَاہوِہ کی قوم بنی اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کے لئے مَسح کیا ہے۔ 7 اَور تُم اَپنے آقا احابؔ کے گھرانے کو نِیست و نابود کردینا تاکہ میں اَپنے خادِموں، نبیوں کے خُون کا اَور یَاہوِہ کے سارے خادِموں کے خُون کا اِنتقام لُوں جنہیں اِیزبِلؔ نے بہایا تھا۔ 8 کیونکہ احابؔ کا سارا گھرانا فنا ہو جائے گا، میں احابؔ کی نَسل میں سے ہر شخص کو خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد اِسرائیل میں سے نِیست و نابود کر دُوں گا۔ 9 میں احابؔ کے گھرانے کو یرُبعامؔ بِن نباطؔ کے گھرانے کی مانند اَور بعشاؔ بِن اخیاہؔ کے گھرانے کی مانند کر دُوں گا۔ 10 اَور اِیزبِلؔ کو یزرعیلؔ کے کھیت میں کُتّے کھایٔیں گے اَور اُسے دفن کرنے والا وہاں کویٔی نہ ہوگا۔‘ “ تَب وہ نبی دروازہ کھول کر وہاں سے فرار ہو گیا۔
11 جَب یِہُو اَپنے ساتھی سرداروں کے پاس باہر آیا، تو وہ اُس سے دریافت کرنے لگے، ”کیا سَب کچھ ٹھیک ہے، یہ پاگل شخص تمہارے پاس کیوں آیاتھا؟“
12 اُنہُوں نے کہا، ”نہیں، نہیں، ہم نہیں جانتے ہیں۔ ہمیں سچ سچ سَب بتاؤ۔“
13 یہ سُنتے ہی اُنہُوں نے فوراً اَپنی اَپنی چادر اُتار کر اُسے یِہُو کے سامنے سِیڑھیوں پر بچھا دی اَور پھر اُنہُوں نے نرسنگے کے ساتھ اعلان کیا، ”یہُو بادشاہ ہے۔“
17 جَب یزرعیلؔ کے بُرج پر مُعیّن نگہبان نے یِہُو اَور اُس کے فَوجیوں کو قریب آتے دیکھا تو وہ پُکار پُکار کر کہنے لگا، ”میں کچھ فَوجیوں کو آتے دیکھ رہا ہُوں۔“
19 تَب بادشاہ نے دُوسرے گُھڑسوار کو بھیجا۔ جَب وہ اُن کے پاس پہُنچا تو اُس نے کہا، ”بادشاہ یُوں فرماتے ہیں، ’کیا سَب اَمن ہے اَور تُم لوگ اَمن کے ساتھ آ رہے ہو؟‘ “
20 نگہبان نے دوبارہ اِطّلاع دی، ”دُوسرا گُھڑسوار اُن کے پاس پہُنچ تو گیا ہے لیکن وہ بھی واپس نہیں آ رہا۔ ہاں ایک رتھ آتا دِکھائی دے رہاہے گویا نِمشیؔ بِن یِہُو ہانک رہا ہو کیونکہ وہ ایک پاگل کی طرح رتھ ہانکتا ہے۔“
21 تَب یہُورامؔ نے حُکم دیا، ”فوراً میرا رتھ تیّار کرو،“ اَور جَب اُسے تیّار کر دیا گیا تَب شاہِ اِسرائیل یُورامؔ اَور شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ دونوں ہی اَپنے اَپنے رتھوں پر سوار ہوکر یہُو سے مُلاقات کرنے نکل پڑے اَور یزرعیلی نبوتؔ کے کھیت میں یِہُو سے اُن کی مُلاقات ہوئی۔ 22 یِہُو کو دیکھتے ہی یہُورامؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”یِہُو کیا تُم لوگ اَمن کے ساتھ آ رہے ہو؟“
23 تَب یہ سُنتے ہی یہُورامؔ نے گھوڑوں کی باگ موڑکر فرار ہوتے ہُوئے احزیاہؔ کو پُکار کر کہا، ”بغاوت احزیاہؔ! بغاوت۔“
24 تَب یِہُو نے پُوری طاقت سے اَپنی کمان کھینچی اَور یہُورامؔ کے دونوں شانوں کے درمیان تیر مارا جِس نے یہُورامؔ کا دِل چیر ڈالا اَور وہ اَپنے رتھ میں ہی فوراً گِر پڑا۔ 25 تَب یِہُو نے اَپنے رتھ کے سردار بِدقرؔ کو حُکم دیا، ”اُسے اُٹھاکر یزرعیلی نبوتؔ کے کھیت میں پھینک دو۔ یاد کرو جَب مَیں اَور تُم دونوں مِل کر اُس کے باپ احابؔ کے پیچھے پیچھے رتھوں میں سوار ہوکر جا رہے تھے تو یَاہوِہ نے اُس کے متعلّق یہ نبُوّت کی تھی: 26 ٹھیک جِس طرح کل مَیں نے نبوتؔ اَور اُس کے بیٹوں کا خُون بہتے دیکھا تھا، یقیناً میں اِسی کھیت مَیں تُجھے بدلہ دُوں گا۔ اِس لیٔے اَب یَاہوِہ کے فرمان کے مُطابق اُسے اُٹھاکر اُسی کھیت میں پھینک دو۔“
27 جَب شاہِ یہُودیؔہ احزیاہؔ نے یہ سَب دیکھا تو وہ بیت ہگّان شہر کی سمت میں فرار ہونے لگا۔ یِہُو نے اُس کا تعاقب کیا اَور چِلاّتے ہُوئے حُکم دیا، ”اِسے بھی تیروں سے مار ڈالو!“ اَور یِہُو کی فَوج نے احزیاہؔ کو گُر کی چڑھائی پر چڑھتے ہُوئے اِبلیعامؔ کے نزدیک اُسے اُس کے رتھ میں زخمی کر دیا لیکن وہ مگِدّوؔ کی طرف فرار ہو گیا جہاں پہُنچ کر اُس کی وفات ہو گئی۔ 28 اَور اُس کے خادِم آکر اُسے اُس کے رتھ میں یروشلیمؔ لے گیٔے اَور اُسے داویؔد کے شہر میں اُس کے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن کر دیا۔ 29 احابؔ بِن یُورامؔ کے دَورِ حُکومت کے گیارھویں سال میں احزیاہؔ نے یہُودیؔہ پر حُکمرانی کرنا شروع کیا تھا۔
32 تَب اُس نے کھڑکی کی طرف نظر اُٹھاکر دریافت کیا، ”میری طرف کون کون ہے؟“ تَب دو تین خواجہ سراؤں نے نیچے اُس کی طرف دیکھا۔ 33 یِہُو نے حُکم دیا، ”اُسے نیچے پھینک دو!“ چنانچہ اُنہُوں نے اُسے اُٹھاکر نیچے پھینک دیا۔ اَور اُس کے خُون کی چھینٹے دیوار پر اَور گھوڑوں پر پڑے اَور گھوڑوں نے اُسے روند ڈالا۔
34 پھر یِہُو شاہی محل کے اَندر گیا اَور اُس نے کھایا پیا اَور پھر حُکم دیا، ”اُس لعنتی عورت کو اُٹھاکر اُسے دفن کر دو کیونکہ وہ شہزادی ہے۔“ 35 لیکن جَب وہ اُسے دفن کرنے کی غرض سے باہر نکلے تو اُنہیں اِیزبِلؔ کی کھوپڑی، اُس کے پاؤں اَور ہاتھوں کے سِوا اَور کچھ نہ مِلا۔ 36 چنانچہ وہ لَوٹ آئے اَور یِہُو کو خبر دی، ”یہ تِشبےؔ شہر کے باشِندے ایلیّاہ کی نبُوّت کے مُطابق ہُواہے، جو یَاہوِہ نے اَپنے بندہ کی مَعرفت فرمایا تھا: یزرعیلؔ کے کھیت میں کُتّے اِیزبِلؔ کا گوشت کھایٔیں گے۔ 37 اَور اِیزبِلؔ کی لاش یزرعیلؔ کے کھُلے میدان میں کھیت کے گوبر کی طرح پڑی رہے گی یہاں تک کہ کویٔی نہ کہے گا، ’یہ اِیزبِلؔ ہے۔‘ “
<- 2 سلاطین 82 سلاطین 10 ->
Languages