2 حُضُور نے ایک بچّے کو اَپنے پاس بُلایا اَور اُسے اُن کے درمیان میں کھڑا کر دیا۔ 3 اَور فرمایا: ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تُم تبدیل ہوکر چُھوٹے بچّوں کی مانِند نہ بنو، تو تُم آسمانی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہوگے۔ 4 لہٰذا جو کویٔی اَپنے آپ کو اِس بچّے کی مانِند چھوٹا بنائے گا وُہی آسمانی بادشاہی میں سَب سے بڑا ہوگا۔ 5 اَورجو کویٔی اَیسے بچّے کو میرے نام پر قبُول کرتا ہے وہ مُجھے قبُول کرتا ہے۔
12 ”تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی کے پاس سَو بھیڑیں ہوں، اَور اُن میں سے ایک بھٹک جائے تو کیا وہ نِنانوے کو چھوڑکر اَور پہاڑوں پر جا کر اُس کھوئی ہُوئی بھیڑ کو ڈھونڈنے نہ نکلے گا؟ 13 اَور اگر وہ اُسے ڈھونڈ لے گا تو میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اُن نِنانوے کی نِسبت جو بھٹکی نہیں ہیں، اِس ایک کے دوبارہ مِل جانے پر زِیادہ خُوشی محسُوس کرےگا۔ 14 اِسی طرح تمہارا آسمانی باپ یہ نہیں چاہتا کہ اِن چُھوٹوں میں سے ایک بھی ہلاک ہو۔
18 ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَورجو کُچھ تُم زمین پر باندھو گے وہ آسمان پر باندھا جائے گا اَورجو کُچھ تُم زمین پر کھولو گے وہ آسمان پر بھی کھولا جائے گا۔
19 ”پھر، میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تُم میں سے دو شخص زمین پر کسی بات کے لیٔے جسے وہ چاہیں اَور راضی ہوں تو وہ میرے آسمانی باپ کے طرف سے اُن کے لیٔے ہو جائے گا۔ 20 کیونکہ جہاں دو یا تین میرے نام پر اِکھٹّے ہوتے ہیں وہاں میں اُن کے درمیان مَوجُود ہوتا ہُوں۔“
22 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تُجھ سے سات دفعہ نہیں، لیکن ستّر کے سات گُنا تک مُعاف کرنے کے لیٔے کہتا ہُوں۔
23 ”پس آسمانی بادشاہی اُس بادشاہ کی مانِند ہے جِس نے اَپنے خادِموں سے حِساب لینا چاہا۔ 24 اَور جَب وہ حِساب لینے لگا تو، ایک قرضدار اُس کے سامنے حاضِر کیا گیا جو بادشاہ سے لاکھوں رُوپے[c] قرض لے چُکاتھا۔ 25 مگر اُس کے پاس قرض چُکانے کے لیٔے کُچھ نہ تھا، اِس لیٔے اُس کے مالک نے حُکم دیا کہ اُسے، اُس کی بیوی کو اَور بال بچّوں کو اَورجو کُچھ اُس کا ہے سَب کُچھ بیچ دیا جائے اَور قرض وصول کر لیا جائے۔
26 ”پس اُس خادِم نے مالک کے سامنے گِر کر اُسے سَجدہ کیا اَور کہا، ’اَے مالک مُجھے کُچھ مہلت دے اَور مَیں تیرا سارا قرض چُکا دُوں گا۔‘ 27 مالک نے خادِم پر رحم کھا کر اُسے چھوڑ دیا اَور اُس کا قرض بھی مُعاف کر دیا۔
28 ”لیکن جَب وہ خادِم وہاں سے باہر نِکلا تو اُسے ایک اَیسا خادِم مِلا جو اُس کا ہم خدمت تھا اَور جسے اُس نے سَو دینار[d] قرض کے طور پر دے رکھا تھا۔ اُس نے اُسے پکڑکر اُس کا گلا دبایا اَور کہا، ’لا، میری رقم واپس کر!‘
29 ”پس اُس کے ہم خدمت نے اُس کے سامنے گِر کر اُس کی مِنّت کی اَور کہا، ’مُجھے مہلت دے، میں سَب اَدا کر دُوں گا۔‘
30 ”لیکن اُس نے ایک نہ سُنی اَور اُس کو قَیدخانہ میں ڈال دیا تاکہ قرض اَدا کرنے تک وہیں رہے۔ 31 پس جَب اُس کے دُوسرے خادِموں نے یہ حال دیکھا تو وہ بہت غمگین ہُوئے اَور مالک کے پاس جا کر اُسے سارا واقعہ کہہ سُنایا۔
32 ”تَب مالک نے اُس خادِم کو بُلوا کر فرمایا، ’اَے شریر خادِم! مَیں نے تیرا سارا قرض اِس واسطے مُعاف کر دیا تھا کہ تُونے میری مِنّت کی تھی۔ 33 کیا تُجھے لازِم نہ تھا کہ جَیسے مَیں نے تُجھ پر رحم کیا، تو تُو بھی اَپنے ہم خدمت پر وَیسے ہی رحم کرتا؟‘ 34 اَور مالک نے غُصّہ میں آکر اُس خادِم کو سپاہیوں کے حوالہ کر دیا تاکہ قرض اَدا کرنے تک اُن کی قَید میں رہے۔
35 ”اگر تُم میں سے ہر ایک اَپنے بھایٔی یا بہن کو دِل سے مُعاف نہ کرے تو میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح پیش آئے گا۔“
<- متّی 17متّی 19 ->
Languages