4 پھر پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، ہمارا یہاں رہنا اَچھّا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں تین ڈیرے کھڑے کروں، ایک آپ کے لیٔے، ایک حضرت مَوشہ اَور ایک ایلیّاہ کے لیٔے۔“
5 وہ یہ کہہ ہی رہے تھے کہ ایک نُورانی بادل نے اُن پر سایہ کر لیا اَور اُس بادل میں سے آواز آئی، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے میں مَحَبّت رکھتا ہُوں؛ اَور جِس سے میں بہت خُوش ہُوں، اِس کی بات غور سے سُنو!“
6 جَب شاگردوں نے یہ سُنا تو ڈر کے مارے مُنہ کے بَل زمین پر گِر گیٔے۔ 7 لیکن یِسوعؔ نے پاس آکر اُنہیں چھُوا اَور فرمایا، ”اُٹھو، ڈرو مت۔“ 8 جَب اُنہُوں نے نظریں اُٹھائیں تو یِسوعؔ کے سِوا اَور کسی کو نہ دیکھا۔
9 جَب وہ پہاڑ سے نیچے اُتر رہے تھے تو یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی، ”جَب تک اِبن آدمؔ مُردوں میں سے جی نہ اُٹھے، جو کُچھ تُم نے دیکھاہے اِس واقعہ کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔“
10 شاگردوں نے حُضُور سے پُوچھا، ”پھر شَریعت کے عالِم یہ کیوں کہتے ہیں کہ حضرت ایلیّاہ کا پہلے آنا ضروُری ہے؟“
11 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”ایلیّاہ ضروُر آئے گا اَور سَب کُچھ بحال کرےگا۔ 12 لیکن مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ ایلیّاہ تو پہلے ہی آ چُکاہے، اَور اُنہُوں نے اُسے نہیں پہچانا لیکن جَیسا چاہا وَیسا اُس کے ساتھ کیا۔ اِسی طرح اِبن آدمؔ بھی اُن کے ہاتھوں دُکھ اُٹھائے گا۔“ 13 تَب شاگرد سمجھ گیٔے کہ وہ اُن سے یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔
17 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے بےاِعتقاد اَور ٹیڑھی پُشت، میں کب تک تمہارے ساتھ تمہاری برداشت کرتا رہُوں گا؟ لڑکے کو یہاں میرے پاس لاؤ۔“ 18 یِسوعؔ نے بدرُوح کو ڈانٹا اَور وہ لڑکے میں سے نکل گئی اَور وہ اُسی وقت اَچھّا ہو گیا۔
19 تَب شاگردوں نے تنہائی میں یِسوعؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”ہم اِس بدرُوح کو کیوں نہیں نکال سکے؟“
20 حُضُور نے جَواب دیا، ”اِس لیٔے کہ تمہارا ایمان کم ہے۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی ہوتا، تو، ’تُم اِس پہاڑ سے کہہ سکوگے کہ یہاں سے وہاں سَرک جا،‘ تو وہ سَرک جائے گا۔ اَور تمہارے لیٔے کویٔی کام بھی ناممکن نہ ہوگا۔ 21 لیکن اِس قِسم کی بدرُوح دعا اَور روزہ کے بغیر نہیں نکلتی۔“[a]
25 پطرس نے جَواب دیا، ”ہاں، اَدا کرتا ہے۔“
26 جَب پطرس نے کہا، ”غَیروں سے۔“
- a مرقُ 9:29کچھ نوشتوں میں یہ آیت شامل نہیں کی گئی ہے۔
Languages