3 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تُم اَپنی روایت سے خُدا کے حُکم کی خِلاف ورزی کیوں کرتے ہو؟ 4 کیونکہ خُدا نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا‘[a] اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘[b] 5 مگر تُم کہتے ہو کہ اگر کویٔی اَپنے باپ یا ماں سے کہے کہ جو کُچھ آپ کو مُجھ سے مدد کے لیٔے اِستعمال ہونا تھا وہ خُدا کو نذر ہو چُکی ہے، 6 تو اُس پر اَپنے ’باپ یا ماں کی عزّت کرنا‘ فرض نہیں ہے۔ یُوں تُم نے اَپنی روایت سے خُدا کا کلام ردّ کر دیا ہے۔ 7 اَے ریاکاروں! حضرت یَشعیاہ نبی نے تمہارے بارے میں کیا خُوب نبُوّت کی ہے:
10 یِسوعؔ نے ہُجوم کو اَپنے پاس بُلاکر فرمایا، ”میری بات سُنو اَور سمجھنے کی کوشش کرو۔ 11 جو چیز اِنسان کے مُنہ میں جاتی ہے وہ اُسے ناپاک نہیں کرتی، لیکن جو اُس کے مُنہ سے نکلتی ہے، وُہی اُسے ناپاک کرتی ہے۔“
12 تَب شاگردوں نے حُضُور کے پاس آکر کہا، ”کیا آپ جانتے ہیں کہ فریسیوں نے یہ بات سُن کر ٹھوکر کھائی ہے؟“
13 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو پَودا میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا، اُسے جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے گا۔ 14 اُن کی پروا نہ کرو؛ وہ اَندھے رہنما ہیں۔ اَور اگر ایک اَندھا دُوسرے اَندھے کی رہنمائی کرنے لگے تو وہ دونوں گڑھے میں جا گِریں گے۔“
15 پطرس نے گزارش کی، ”یہ تمثیل ہمیں سمجھا دیجئے۔“
16 ”کیا تُم ابھی تک ناسمجھ ہو؟“ یِسوعؔ نے پُوچھا۔ 17 ”کیا تُم نہیں جانتے کہ جو کُچھ مُنہ میں جاتا ہے وہ پیٹ میں پڑتا ہے اَور پھر بَدن سے خارج ہوکر باہر نکل جاتا ہے؟ 18 مگر جو باتیں مُنہ سے نکلتی ہیں، وہ دِل سے نکلتی ہیں اَور وُہی آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔ 19 کیونکہ بُرے خیال، قتل، زنا، جنسی بدفعلی، چوری، کُفر، جھُوٹی گواہی، دِل ہی سے نکلتی ہیں۔ 20 یہ اَیسی باتیں ہیں جو اِنسان کو ناپاک کرتی ہیں؛ لیکن بغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھا لینا اِنسان کو ناپاک نہیں کرتا۔“
23 مگر حُضُور نے اُسے کویٔی جَواب نہ دیا۔ لہٰذا حُضُور کے شاگرد پاس آکر آپ سے مِنّت کرنے لگے، ”اُسے رخصت کر دیجئے کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چِلاّتے ہویٔے آ رہی ہے۔“
24 حُضُور نے جَواب دیا، ”میں اِسرائیلؔ کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے سِوا کسی اَور کے پاس نہیں بھیجا گیا ہُوں۔“
25 مگر اُس نے آکر حُضُور کو سَجدہ کرکے کہنے لگی، ”اَے خُداوؔند، میری مدد کر!“
26 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”بچّوں کی روٹی لے کر کُتّوں کو ڈال دینا مُناسب نہیں ہے۔“
27 ”ہاں خُداوؔند، کیونکہ کُتّے بھی اُن ٹُکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُن کے مالکوں کی میز سے نیچے گِرتے ہیں۔“
28 اِس پر یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے خاتُون، تیرا ایمان بہت بڑا ہے! تیری اِلتجا قبُول ہُوئی۔“ اَور اُس کی بیٹی نے اُسی وقت شفا پائی۔
32 اَور یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کو اَپنے پاس بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”مُجھے اِن لوگوں پر ترس آتا ہے؛ کیونکہ یہ تین دِن سے برابر میرے ساتھ ہیں اَور اِن کے پاس کھانے کو کُچھ نہیں رہا۔ میں اِنہیں بھُوکا ہی رخصت کرنا نہیں چاہتا، کہیں اَیسا نہ ہو کہ یہ راستے میں ہی بے ہوش ہو جایٔیں۔“
33 آپ کے شاگردوں نے جَواب دیا، ”اِس بیابان میں اِتنی روٹیاں کہاں سے لائیں کہ اِتنے بڑے ہُجوم کو کھِلا کر سیر کریں؟“
34 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“
35 یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا کہ سَب زمین پر بیٹھ جایٔیں۔ 36 اَور حُضُور نے وہ سات روٹیاں اَور مچھلیاں لے کر خُدا کا شُکر اَدا کیا، اَور اُن کے ٹکڑے کیٔے اَور اُنہیں شاگردوں کو دیتے گیٔے اَور شاگردوں نے اُنہیں لوگوں کو دیا۔ 37 سَب نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اَور جَب بچے ہویٔے ٹکڑے جمع کیٔے گیٔے تو سات ٹوکریاں بھر گئیں۔ 38 اَور کھانے والوں کی تعداد عورتوں اَور بچّوں کے علاوہ چار ہزار مَردوں کی تھی۔ 39 پھر ہُجوم کو رخصت کرنے کے بعد یِسوعؔ کشتی میں سوار ہویٔے اَور مگدنؔ کی سرحدوں کے لیٔے روانہ ہو گئے۔
<- متّی 14متّی 16 ->
Languages