3 اصل میں ہیرودیسؔ نے یُوحنّا کو اَپنے بھایٔی فِلِپُّسؔ کی بیوی، ہیرودِیاسؔ کی وجہ سے پکڑواکر بندھوایا اَور قَیدخانہ میں ڈال دیا تھا۔ 4 کیونکہ یُوحنّا ہیرودیسؔ سے بار بار کہہ رہے تھے کہ: ”تُمہیں ہیرودِیاسؔ کو اَپنی بیوی بنا کر رکھنا جائز نہیں۔“ 5 اَور ہیرودیسؔ، یُوحنّا کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن عوام سے ڈرتا تھا کیونکہ وہ یُوحنّا کو نبی مانتے تھے۔
6 ہیرودیسؔ کی وِلادت ہیرودیسؔ کی سال گِرہ کے جَشن میں ہیرودِیاسؔ کی بیٹی نے مہمانوں کے سامنے ناچ کر ہیرودیسؔ کو بہت خُوش کیا 7 اَور ہیرودیسؔ نے قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کیا کہ تُو جو چاہے مانگ لے، مَیں تُجھے دُوں گا۔ 8 لڑکی نے اَپنی ماں کے سِکھانے پر کہا، ”مُجھے یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر تھال میں یہاں چاہئے۔“ 9 یہ سُن کر بادشاہ کو افسوس ہُوا، لیکن وہ مہمانوں کے سامنے قَسم دے چُکاتھا، اُس نے حُکم دیا کہ لڑکی کو یُوحنّا کا سَر دے دیا جائے۔ 10 چنانچہ اُس نے کسی کو قَیدخانہ میں بھیج کر یُوحنّا کا سَر قلم کروا دیا 11 اَور یُوحنّا کا سَر تھال میں رکھ کر لایا گیا اَور لڑکی کو دے دیا۔ اَور وہ اُسے اَپنی ماں کے پاس لے گئی۔ 12 تَب یُوحنّا کے شاگرد آئے اَور اُن کی لاش اُٹھاکر لے گیٔے اَور اُنہیں دفن کر دیا اَور جا کر یِسوعؔ کو خبر دی۔
15 جَب شام ہُوئی تو آپ کے شاگرد آپ کے پاس آکر کہنے لگے، ”یہ ایک ویران جگہ ہے اَور کافی دیر بھی ہو چُکی ہے، اِس لیٔے ہُجوم کو رخصت کر دیجئے تاکہ وہ گاؤں میں جا کر اَپنے لیٔے کھانا خرید سکیں۔“
16 یِسوعؔ نے فرمایا، ”اُنہیں جانے کی ضروُرت نہیں، تُم ہی اُنہیں کُچھ کھانے کو دو۔“
17 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یہاں ہمارے پاس صِرف پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں ہیں۔“
18 حُضُور نے فرمایا، ”اُنہیں یہاں میرے پاس لے آؤ۔“ 19 تَب حُضُور نے لوگوں کو گھاس پر بیٹھ جانے کا حُکم دیا اَور پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لے کر آسمان کی طرف نظر اُٹھاکر، اُن پر برکت مانگی پھر آپ نے روٹیوں کے ٹکڑے توڑ کر شاگردوں کو دئیے، اَور شاگردوں نے اُنہیں لوگوں کو دیا۔ 20 سَب لوگ کھا کر سیر ہو گئے اَور بچے ہویٔے ٹُکڑوں کی بَارہ ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی گئیں۔ 21 کھانے والوں کی تعداد عورتوں اَور بچّوں کے علاوہ تقریباً پانچ ہزار مَردوں کی تھی۔
25 رات کے چوتھے پہر[a] کے قریب یِسوعؔ جھیل پر چلتے ہویٔے اُن کے پاس پہُنچے۔ 26 جَب شاگردوں نے حُضُور کو جھیل پر چلتے دیکھا تو گھبرا گیٔے اَور کہنے لگے، ”یہ تو کویٔی بھُوت ہے“ اَور ڈر کے مارے چِلّانے لگے۔
27 لیکن یِسوعؔ نے اُن سے فوراً کلام کیا، ”حوصلہ رکھو! میں ہُوں۔ ڈرو مت۔“
28 پطرس نے جَواب دیا، ”اَے خُداوؔند، اگر آپ ہی ہیں تو مُجھے حُکم دیں کہ میں بھی پانی پر چل کر آپ کے پاس آؤں۔“
29 یِسوعؔ نے فرمایا، ”آ۔“
31 یِسوعؔ نے فوراً اَپنا ہاتھ بڑھایا اَور پطرس کو پکڑ لیا اَور فرمایا، ”اَے کم اِعتقاد، تُونے شک کیوں کیا؟“
32 اَور جَب وہ دونوں کشتی میں چڑھ گیٔے اَور ہَوا تھم گئی۔ 33 تَب جو کشتی میں تھے اُنہُوں نے حُضُور کو یہ کہتے ہویٔے سَجدہ کیا، ”آپ یقیناً خُدا کے بیٹے ہیں۔“
34 جھیل کو پار کرنے کے بعد، وہ گنیسرتؔ کے علاقہ میں پہُنچے۔ 35 اَور جَب وہاں کے لوگوں نے یِسوعؔ کو پہچان لیا اَور آس پاس کے سارے علاقہ میں خبر کر دی۔ اَور لوگ سَب بیماریوں کو حُضُور کے پاس لے آئے 36 اَور وہ مِنّت کرنے لگے کہ اُنہیں اَپنی پوشاک کا کنارہ ہی چھُو لینے دیں اَور جِتنوں نے چھُوا، وہ بالکُل اَچھّے ہو گئے۔
<- متّی 13متّی 15 ->- a چوتھے پہر یعنی رات کے تقریباً تین بجے کا وقت۔
Languages