4 ”پہلے تو وہ کُچھ عرصہ تک تو منع کرتا رہا۔ لیکن آخِر میں اُس نے اَپنے جی میں کہا، ’سچ ہے کہ میں خُدا سے نہیں ڈرتا اَور نہ اِنسان کی پروا کرتا ہُوں، 5 لیکن یہ بِیوہ مُجھے پریشان کرتی رہتی ہے، اِس لیٔے میں اُس کا اِنصاف کروں گا، ورنہ یہ تو بار بار آکر میرے ناک میں دَم کر دے گی!‘ “
6 اَور خُداوؔند نے کہا، ”سُنو، یہ بےاِنصاف قاضی کیا کہتاہے۔ 7 پس کیا خُدا اَپنے چُنے ہویٔے لوگوں کا اِنصاف کرنے میں دیر کرےگا، جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے رہتے ہیں؟ کیا وہ اُنہیں ٹالتا رہے گا؟ 8 میں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اُن کا اِنصاف کرےگا اَور جلد کرےگا۔ پھر بھی جَب اِبن آدمؔ آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پایٔےگا؟“
13 ”لیکن اُس محصُول لینے والے نے جو دُور کھڑا ہُوا تھا۔ اَور اُس نے آسمان کی طرف نظر بھی اُٹھانا نہ چاہا، بَلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا، ’خُدا، مُجھ گُنہگار پر رحم کر۔‘
14 ”میں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ آدمی، اُس دُوسرے سے، خُدا کی نظر میں زِیادہ راستباز ٹھہر کر اَپنے گھر گیا۔ کیونکہ جو کویٔی اَپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اَورجو اَپنے آپ کو حلیم بنائے گا، وہ بڑا کیا جائے گا۔“
19 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تو مُجھے نیک کیوں کہتاہے؟ نیک صِرف ایک ہی ہے یعنی خُدا۔ 20 تُم حُکموں کو تو جانتے ہو: ’تُم زنا نہ کرنا، خُون نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا۔‘[a]“
21 اُس نے کہا، ”اِن سَب پر تو میں لڑکپن سے، عَمل کرتا آ رہا ہُوں۔“
22 جَب یِسوعؔ نے یہ سُنا تو اُس سے کہا، ”ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اَپنا سَب کُچھ بیچ دے اَور رقم غریبوں میں بانٹ دے، تو تُجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر میرے پیچھے ہو لینا۔“
23 یہ بات سُن کر اُس پر بہت اُداسی چھاگئی، کیونکہ وہ کافی دولتمند تھا۔ 24 یِسوعؔ نے اُسے دیکھ کر کہا، ”دولتمندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کِتنا مُشکل ہے! 25 بے شک، اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی دولتمند کے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے زِیادہ آسان ہے۔“
26 جنہوں نے یہ بات سُنی وہ پُوچھنے لگے، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“
27 یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو بات آدمیوں کے لیٔے ناممکن ہے وہ خُدا کے لیٔے ممکن ہے۔“
28 پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ کی پیروی کرنے کے لیٔے ہم تو اَپنا سَب کُچھ چھوڑکر چلے آئے ہیں!“
29 حُضُور نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَیسا کویٔی نہیں جِس نے خُدا کی بادشاہی کی خاطِر اَپنے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا بہنوں یا والدین یا بچّوں کو چھوڑ دیا ہے 30 اَور وہ اِس دُنیا میں کیٔی گُنا زِیادہ نہ پایٔے اَور آنے والی دُنیا میں اَبدی زندگی۔“
34 لیکن یہ باتیں شاگردوں کی سمجھ میں بالکُل نہ آئیں اَور اِن باتوں کا مطلب اُن سے پوشیدہ رہا اَور اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یِسوعؔ کِس کے بارے میں اُن سے بات کر رہے تھے۔
38 اُس نے چِلّاکر کہا، ”اَے اِبن داویؔد یِسوعؔ! مُجھ پر رحم فرمائیے!“
39 جو لوگ ہُجوم کی رہنمائی کر رہے تھے اُسے ڈانٹنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ، مگر وہ اَور بھی زِیادہ چِلّانے لگا، ”اَے اِبن داویؔد، مُجھ پر رحم کیجئے!“
40 یِسوعؔ نے رُک کر حُکم دیا کہ اُس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ جَب وہ پاس آیا تو یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، 41 ”تُو کیا چاہتاہے کہ مَیں تیرے لیٔے کروں؟“
42 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”تمہاری آنکھوں میں رَوشنی آ جائے، تمہارے ایمان نے تُمہیں اَچھّا کر دیا ہے۔“ 43 وہ اُسی دَم دیکھنے لگا اَور خُدا کی تمجید کرتا ہُوا یِسوعؔ کا پیروکار بن گیا۔ یہ دیکھ کر سارے لوگ خُدا کی حَمد کرنے لگے۔
<- لُوقا 17لُوقا 19 ->- a خُرو 20:12‑16؛ اِست 5:16‑20
Languages