5 رسولوں نے خُداوؔند سے کہا، ”ہمارے ایمان کو بڑھا۔“
6 خُداوؔند نے کہا، ”اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی ہوتا، تو تُم اِس شہتوت کے درخت سے کہہ سکتے تھے، ’یہاں سے اُکھڑ جا اَور سمُندر میں جا لگ،‘ تو وہ تمہارا حُکم مان لیتا۔
7 ”فرض کرو کہ تُم میں سے کسی ایک کے پاس خادِم ہے جو زمین جوتتا یا بھیڑ چَراتا اَور جَب وہ کھیت سے آئے تو اُس سے کہے کہ، ’جلدی سے میرے پاس آ جا اَور دسترخوان پر کھانے بیٹھ جا‘؟ 8 کیا وہ یہ نہ کہے گا، ’میرا کھانا تیّار کر، اَور جَب تک میں کھا پی نہ لُوں؛ کمربستہ ہوکر میری خدمت میں لگا رہ۔ اِس کے بعد تو بھی کھا پی لینا‘؟ 9 کیا وہ اِس لیٔے خادِم کا شُکر اَدا کرےگا کہ اُس نے وُہی کیا جو اُسے کرنے کو کہا گیا تھا؟ 10 اِسی طرح، جَب تُم بھی اِن باتوں کی تعمیل کر چُکو جِن کے کرنے کا تُمہیں حُکم دیا گیا تھا تو کہو، ’ہم نکمّے خادِم ہیں؛ جو کام ہمیں دیا گیا تھا ہم نے وُہی کیا۔‘ “
14 یِسوعؔ نے اُنہیں دیکھ کر کہا، ”جاؤ، اَپنے آپ کو کاہِنوں کو دِکھاؤ اَور اَیسا ہُوا کہ وہ جاتے جاتے کوڑھ سے پاک صَاف ہو گئے۔“
15 لیکن اُن میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ وہ شفا پاگیا، بُلند آواز سے خُدا کی تمجید کرتا ہُوا واپس آیا 16 اَور یِسوعؔ کے قدموں میں مُنہ کے بَل گِر کر اُن کا شُکر اَدا کرنے لگا۔ یہ آدمی سامری تھا۔
17 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، ”کیا دسوں کوڑھ سے پاک صَاف نہیں ہویٔے؟ پھر وہ نَو کہاں ہیں؟ 18 کیا اِس پردیسی کے سِوا دُوسروں کو اِتنی تَوفیق بھی نہ مِلی کہ لَوٹ کر خُدا کی تمجید کرتے؟“ 19 تَب یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”اُٹھ اَور رخصت ہو، تیرے ایمان نے تُجھے شفا دی ہے۔“
22 تَب آپ نے اَپنے شاگردوں سے کہا، ”وہ دِن بھی آنے والے ہیں جَب تُم اِبن آدمؔ کے دِنوں میں سے ایک دِن کو دیکھنے کی آرزُو کروگے مگر نہ دیکھ پاؤگے۔ 23 لوگ تُم سے کہیں گے، ’دیکھو وہ وہاں ہے!‘ یا ’دیکھو وہ یہاں ہے!‘ مگر تُم اِدھر بھاگتے ہویٔے اُن کے پیچھے مت جانا۔ 24 کیونکہ جَیسے بجلی آسمان میں کوند کر ایک طرف سے دُوسری طرف چمکتی چلی جاتی ہے وَیسے ہی اِبن آدمؔ اَپنے مُقرّرہ دِن ظاہر ہوگا۔ 25 لیکن لازِم ہے کہ پہلے وہ بہت دُکھ اُٹھائے اَور اِس زمانہ کے لوگوں کی طرف سے ردّ کیا جائے۔
26 ”اَور جَیسا حضرت نُوح کے دِنوں میں تھا، وَیسا ہی اِبن آدمؔ کے دِنوں میں ہوگا۔ 27 کہ لوگ کھاتے پیتے تھے اَور شادی بیاہ نُوح کے لکڑی والے پانی کے جہاز میں داخل ہونے کے دِن تک کرتے کراتے تھے۔ پھر سیلاب آیا اَور اُس نے سَب کو ہلاک کر دیا۔
28 ”اَور اَیسا ہی حضرت لُوطؔ کے دِنوں میں تھا کہ لوگ کھانے پینے، خریدوفروخت کرنے، درخت لگانے اَور مکان تعمیر کرنے میں مشغُول تھے۔ 29 لیکن جِس دِن حضرت لُوطؔ، سدُومؔ سے باہر نکلے، آگ اَور گندھک نے آسمان سے بَرس کر سَب کو ہلاک کر ڈالا۔
30 ”اُسی طرح اِبن آدمؔ کے ظاہر ہونے کے دِن بھی اَیسا ہی ہوگا۔ 31 اُس دِن جو چھت پر اَور اُس کا مال و اَسباب گھر کے اَندر میں، وہ اُسے لینے کے لیٔے نیچے نہ اُترے۔ جو کھیت میں ہو وہ بھی کسی چیز کے لیٔے واپس نہ جائے۔ 32 حضرت لُوطؔ کی بیوی کو یاد رکھو۔ 33 جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنے کی کوشش کرےگا وہ اُسے کھویٔے گا اَورجو کویٔی میری خاطِر اُسے کھویٔے گا، اُسے بچائے گا۔ 34 میں کہتا ہُوں کہ اُس رات دو لوگ چارپائی پر ہوں گے، ایک لے لیا جائے گا اَور دُوسرا وہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ 35 دو عورتیں مِل کر چکّی پیستی ہوں گی، ایک لے لی جائے گی اَور دُوسری وہیں چھوڑ دی جائے گی۔ 36 دو آدمی کھیت میں ہوں گے۔ ایک لے لیا جائے گا اَور دُوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔“[a]
37 اُنہُوں نے آپ سے پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، یہ کہاں ہوگا؟“
- a کُچھ قدیم نوشتوں میں دئیے گیٔے حوالہ جَیسا لِکھّا ملتا ہے۔ مت 24:40
Languages