1 یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا: 2 ”اَے آدَمزاد، صُورؔ کے متعلّق نوحہ تیّار کر۔ 3 صُورؔ سے کہہ، جو سمُندر کے پھاٹک پر مُقیم ہے اَور بیشتر ساحِلی لوگوں کے لیٔے تِجارت کا مقام ہے، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں:
” ’اَے صُورؔ، تُو کہتاہے،
”کہ میرا حُسن کامل ہے۔“
4 تیرا علاقہ سمُندر کے درمیان تھا؛
اَور تیرے مِعماروں نے تیرے حُسن کو کمال تک پہُنچا دیا۔
5 اُنہُوں نے تیرے تمام تختے
سنیرؔ کے صنوبر کی لکڑی سے بنائے؛
اَور لبانونؔ سے دیودار لے کر
تیرے لیٔے مستُول بنایا۔
6 اَور باشانؔ کے بلُوط سے
اُنہُوں نے تیرے چپّو بنائے؛
اَور کِتّیمؔ کے ساحِلوں سے لکڑی حاصل کرکے
اُس میں ہاتھی دانت جڑ کر اُنہُوں نے تیرے لیٔے چھتری بنائی۔
7 مِصر کے مہین اَور نفیس کتان سے کشیدہ تیرا بادبان بنا
جِس نے تیرے لیٔے پرچم کا کام دیا؛
تیرا نیلا اَور اَرغوانی شامیانہ
اِلیشہؔ کے ساحِلوں سے لایٔے ہُوئے کپڑے کا بنا۔
8 صیدونؔ اَور اَرودؔ کے باشِندے تیرے ملّاح تھے؛
اَے صُورؔ، تیرے ہی اَپنے ماہر فنکار تیرے جہاز ران تھے۔
9 گیبلؔ کے تجربہ کار فنکار جو تُجھ پر سوار تھے
تیرے جہاز ساز تھے جو رخنہ بندی میں ماہر تھے۔
سمُندر کے تمام جہاز اَور اُن کے ملّاح
تیرے پاس آ گئے تاکہ تیری اَشیا کی تِجارت کریں۔
10 ” ’فارسؔ، لُودؔ اَور فُوطؔ کے مَرد
تیری فَوج میں سپاہی تھے۔
اُنہُوں نے تیری دیواروں پر اَپنی ڈھالیں اَور خُود ٹانگے،
اَور تیری شان میں اِضافہ کیا۔
11 اَرودؔ اَور حِلقؔ کے لوگوں نے
ہر طرف سے تیری شہرپناہ کی حِفاظت کی؛
اَور گمّادؔ کے لوگ
تیرے بُرجوں میں مَوجُود تھے۔
اُنہُوں نے اَپنی ڈھالیں تیری دیواروں پر ٹانگیں؛
اَور تیرے حُسن کو کمال تک پہُنچایا۔
12 ” ’تیرے مال کی بہتات کے باعث ترشیشؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی اَور اُنہُوں نے چاندی، لوہا، رانگا اَور سیسہ تیرے تجارتی اَسباب کے مُعاوضہ میں دیا۔
13 ” ’یاوانؔ،[a] تُوبل اَور میشکؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی؛ اُنہُوں نے تیرے تجارتی لوگ اَسباب کے عوض غُلام اَور کانسے کی چیزیں دیں۔
14 ” ’بیت توغرمہؔ کے لوگوں نے گھوڑوں، جنگی گھوڑوں اَور خچّروں کے عوض تیری تجارتی اَشیا خریدیں۔
15 ” ’دِدانؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی اَور بہت سے ساحِلی مُلک تیرے گاہک تھے۔ وہ ہاتھی دانت اَور آبنوس کے بدلے تُجھ سے اَشیا خریدتے تھے۔
16 ” ’تیری متعدّد مصنوعات کے باعث ارامی بھی تُجھ سے تِجارت کرتے تھے اَور نیلا فیروزہ، اَرغوانی پارچہ، کشیدہ کاری، نفیس کتان، مونگا اَور لعل مُعاوضہ میں دیتے تھے۔
17 ” ’یہُوداہؔ اَور اِسرائیل بھی تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے اَور وہ مِنّیتؔ کا گیہُوں، مٹھائیاں، شہد، زَیتُون کا تیل اَور روغن بلسان دے کر تُجھ سے اَشیا خریدتے تھے۔
18 ” ’دَمشق بھی تیری مُختلف مصنوعات اَور کثرت اَسباب کے باعث تُجھ سے حلبونؔ کی مَے اَور زہر سفید اُون کی تِجارت کرتا تھا۔ 19 دِدانؔ کے لوگ اَور اُوزالؔ کے یُونانی بھی تُجھ سے مال خریدتے تھے۔ وہ تیری اَشیا کے مُعاوضہ میں کُوٹا ہُوا لوہا، تج اَور اگر دیتے تھے۔
20 ” ’دِدانؔ شہر تیرے ساتھ گھوڑوں کی کاٹھی کے کمبل کی تِجارت کرتے تھے۔
21 ” ’عربستان اَور قیدارؔ کے تمام شہزادے تیرے گاہک تھے۔ وہ تیرے ساتھ برّوں، مینڈھوں اَور بکروں کی تِجارت کرتے تھے۔
22 ” ’شیبا اَور رعماہؔ کے سوداگر بھی تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے اَور تیرے سامان کے عوض ہر قِسم کے نفیس مَسالے، قیمتی پتّھر اَور سونا دیتے تھے۔
23 ” ’حارانؔ، کنّہؔ اَور عدنؔ اَور شیبا، اشُور اَور کِلمدؔ کے سوداگر تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے۔ 24 وہ تیرے بازاروں میں تِجارت کے لیٔے خُوبصورت کپڑوں، نیلے رنگ کی نفیس پوشاکوں، کشیدہ کاری اَور نفیس بٹی ہوئی ڈوریوں کے ساتھ رنگین غالیچوں سے بھرے ہُوئے صندُوق لے کر آتے تھے جنہیں مضبُوط رسّیوں سے کس کر باندھا جاتا تھا۔