5 اَور یَاہوِہ نے ایک وقت مُقرّر کر دیا اَور بتا دیا، ”کل یَاہوِہ اِس مُلک میں یہی کریں گے۔“ 6 اَور اگلے دِن یَاہوِہ نے اَیسا ہی کیا اَور مِصریوں کے تمام چَوپائے مَر گیٔے لیکن اِسرائیلیوں کا ایک چَوپایہ بھی نہ مَرا۔ 7 چنانچہ فَرعوہؔ نے تحقیقات کرنے کے لیٔے اِنسان بھیجے اَور اُسے مَعلُوم ہُوا کہ اِسرائیلیوں کے چَوپایوں میں سے ایک بھی نہیں مَرا تھا۔ پھر بھی فَرعوہؔ کا دِل پگھلنے والا نہ تھا اَور اُس نے لوگوں کو جانے نہ دیا۔
10 پس وہ ایک بھٹّی سے راکھ لے کر فَرعوہؔ کے سامنے جا کھڑے ہویٔے اَور مَوشہ نے اُسے ہَوا میں اُوپر اُڑا دیا جِس سے اِنسانوں اَور جانوروں کے جِسم پر پھوڑے اَور پھپھولے نکل آئے۔ 11 اَور مِصر کے جادُوگر اُن پھوڑوں اَور پھپھولوں کی وجہ سے جو اُنہیں اَور سَب مِصریوں کو نکلے ہویٔے تھے مَوشہ کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ 12 لیکن یَاہوِہ نے فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دیا اَور اُس نے جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہہ دیا تھا اُن کی نہ سُنی۔
20 اَور فَرعوہؔ کے وہ اہلکار جو یَاہوِہ کی اِس بات سے ڈرے وہ جلدی سے بھاگ دَوڑکر اَپنے غُلاموں اَور چَوپایوں کو گھروں میں لے آئے۔ 21 لیکن جنہوں نے یَاہوِہ کی اِس بات کو نظرانداز کر دیا اُنہُوں نے اَپنے غُلاموں اَور چَوپایوں کو میدان میں ہی رہنے دیا۔
22 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھاؤ تاکہ سارے مِصر میں ژالہ باری ہو۔ یعنی اِنسانوں اَور جانوروں پر اَور ہر سبزی پرجو مِصر کے کھیتوں میں اُگتی ہے۔“ 23 اَور جَب مَوشہ نے اَپنا عصا آسمان کی طرف بڑھایا تو یَاہوِہ نے بجلی اَور اولے بھیجے اَور بجلی زمین تک کوندی اَور یَاہوِہ نے سارے مِصر پر اولے برسائے۔ 24 پس اولوں کے ساتھ ساتھ اِدھر اُدھر بجلی بھی گری، جَب سے مُلک مِصر وُجُود میں آیا یہ مُلک مِصر کی بدترین ژالہ باری تھی۔ 25 اَور اولوں نے سارے مِصر میں اُن سَب اِنسانوں اَور جانوروں کو مارا جو کھیتوں یا میدان میں تھے اَور اِس ژالہ باری نے کھیتوں میں اُگی ہویٔی ہر چیز تباہ کر ڈالی اَور سَب درخت توڑ دئیے۔ 26 صِرف گوشینؔ کے علاقہ میں جہاں بنی اِسرائیل رہتے تھے اولے نہ گِرے۔
27 تَب فَرعوہؔ نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کو طلب کیا۔ اَور اُن سے کہا، ”اِس دفعہ مَیں نے گُناہ کیا ہے،“ یَاہوِہ صادق ہیں، ”اَور مَیں اَور میرے لوگ خطاوار ہیں۔ 28 یَاہوِہ سے دعا کرو کیونکہ ہم ژالہ باری اَور بجلی کی گھن گرج سے تنگ آ چُکے ہیں۔ میں تُمہیں جانے دُوں گا اَور تُمہیں مزید رُکنا نہیں پڑےگا۔“
29 مَوشہ نے جَواب دیا، ”جَب مَیں شہر سے باہر چلا جاؤں گا تو میں دعا کے لیٔے اَپنے ہاتھ یَاہوِہ کی طرف پھیلاؤں گا؛ تَب گھن گرج بندہو جائے گی اَور اُس کے بعد اولے بھی نہ گریں گے تاکہ تُم جان لو کہ دُنیا یَاہوِہ ہی کی ہے۔ 30 لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ تُم اَور تمہارے اہلکار اَب بھی یَاہوِہ خُدا سے نہیں ڈرتے۔“
31 (سَن اَور جَو اولوں سے برباد ہو گیٔے کیونکہ جَو کی بالیں نکل چُکی تھیں اَور سَن میں پھُول لگے ہویٔے تھے۔ 32 لیکن ہر قِسم کے گیہُوں تباہی سے بچ گیٔے کیونکہ اُن کے پکنے کا موسم نہ آیاتھا۔)
33 تَب مَوشہ فَرعوہؔ سے رخصت ہوکر شہر کے باہر گئے اَور اُنہُوں نے اَپنے ہاتھ یَاہوِہ کی طرف پھیلائے۔ لہٰذا بجلی کی گھن گرج اَور اولے گرنے بندہو گیٔے اَور زمین پر بارش بھی تھم گئی۔ 34 جَب فَرعوہؔ نے دیکھا کہ بارش، ژالہ باری اَور بجلی کی گھن گرج ختم ہو گئی تو اُس نے پھر گُناہ کیا اَور اُس کا اَور اُس کے اہلکاروں کا دِل نہ پسیجا۔ 35 چنانچہ فَرعوہؔ کا دِل سخت ہو گیا اَور اُس نے اِسرائیلیوں کو جانے نہ دیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے مَوشہ کی مَعرفت کہہ دیا تھا۔
<- خُروج 8خُروج 10 ->
Languages