1 تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”دیکھو، مَیں نے تُمہیں فَرعوہؔ کے لیٔے گویا خُدا ٹھہرایا ہے اَور تمہارا بھایٔی اَہرونؔ تمہارا نبی ہوگا۔ 2 اَور تُم ہر ایک بات جِس کا میں تُمہیں حُکم دُوں کہنا اَور تمہارا بھایٔی اَہرونؔ فَرعوہؔ سے کہے کہ بنی اِسرائیل کو فَرعوہؔ اَپنے مُلک سے جانے دے۔ 3 لیکن مَیں فَرعوہؔ کے دِل کو سخت کر دُوں گا اَور خواہ میں اَپنے حیرت اَنگیز نِشانات اَور عجائب مِصر میں کثرت سے دِکھاؤں۔ 4 تو بھی فَرعوہؔ تمہاری نہ سُنے گا۔ تَب میں مِصر پر اَپنا ہاتھ ڈالوں گا اَور اُنہیں سخت ترین سزائیں دے کر اَپنے لوگوں یعنی بنی اِسرائیل کے لشکروں کو نکال لاؤں گا۔ 5 اَور جَب مَیں مِصریوں کے خِلاف اَپنا ہاتھ بڑھا کر بنی اِسرائیل کو نکال لاؤں گا تَب مِصری جانیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔“
6 چنانچہ مَوشہ اَور اَہرونؔ نے بالکُل وَیسا ہی کیا جَیسا یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھا۔ 7 مَوشہ اسّی بَرس کے اَور اَہرونؔ تراسی بَرس کے تھے جَب وہ فَرعوہؔ سے ہم کلام ہویٔے۔
10 سو مَوشہ اَور اَہرونؔ فَرعوہؔ کے پاس گیٔے اَور اُنہُوں نے وُہی کیا جِس کا یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔ اَہرونؔ نے اَپنا عصا لیا اَور اُسے فَرعوہؔ اَور اُس کے اہلکاروں کے سامنے ڈال دیا اَور وہ سانپ بَن گیا۔ 11 تَب فَرعوہؔ نے اَپنے حکیموں اَور اوجھاؤں کو طلب کیا اَور مِصری جادُوگروں نے بھی اَپنے جادُو کے زور سے وَیسا ہی کر دِکھایا۔ 12 اَور ہر ایک نے جَب اَپنا اَپنا عصا نیچے پھینکا تو وہ سانپ بَن گیٔے۔ لیکن اَہرونؔ کے عصا نے اُنہیں نگل لیا۔ 13 اِس کے باوُجُود فَرعوہؔ کا دِل سخت ہو گیا اَور جَیسا کہ یَاہوِہ نے کہاتھا اُس نے اُن کی نہ سُنی۔
19 یَاہوِہ نے مَوشہ سے کہا، ”اَہرونؔ سے کہنا، ’اَپنا عصا لے اَور مِصر کے تمام دریاؤں نہروں جھیلوں اَور تالابوں کے پانی پر اَپنا ہاتھ بڑھا تاکہ وہ خُون بَن جایٔیں،‘ اَور مِصر میں ہر جگہ لکڑی اَور پتّھر کے برتنوں میں بھی خُون ہی خُون ہوگا۔“
20 اَور مَوشہ اَور اَہرونؔ نے وَیسا ہی کیا جَیسا کہ یَاہوِہ نے حُکم دیا تھا۔ اُنہُوں نے فَرعوہؔ اَور اُس کے اہلکاروں کی مَوجُودگی میں اَپنا عصا اُٹھاکر دریائے نیل کے پانی پر مارا اَور سارا پانی خُون میں بدل گیا۔ 21 دریائے نیل کی مچھلیاں مَر گئیں اَور دریا سے اِتنی بدبُو آنے لگی کہ مِصری اُس کا پانی نہ پی سکے۔ مِصر میں ہر جگہ خُون ہی خُون نظر آنے لگا۔
22 لیکن مِصری جادُوگروں نے بھی اَپنے جادُو کے زور سے وَیسا ہی کیا اَور فَرعوہؔ کا دِل سخت ہو گیا اَور جَیسا یَاہوِہ نے فرمایا تھا اُس نے مَوشہ اَور اَہرونؔ کی بات اَن سُنی کر دی 23 بَلکہ فَرعوہؔ لَوٹ کر اَپنے محل میں چلا گیا۔ 24 اَور تمام مِصریوں نے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیٔے دریائے نیل کے کنارے کنارے کھدائی کی کیونکہ وہ ندی کا پانی نہ پی سکے۔
Languages