3 تَب پطرس نے اُس سے کہا، ”اَے حننیاہؔ، شیطان نے تیرے دِل میں یہ بات کیسے ڈال دی کہ تُو پاک رُوح سے جھُوٹ بولے اَور زمین کی قیمت میں سے کچھ رکھ لے؟ 4 کیا فروخت کیٔے جانے سے قبل زمین تیری نہ تھی؟ لیکن بِک جانے کے بعد تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُجھے دِل میں اَیسا سوچنے پر کِس نے مجبُور کر دیا؟ تُونے اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے جھُوٹ بولا ہے۔“
5 حننیاہؔ یہ باتیں سُنتے ہی، گِر پڑا اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ اَور جِن لوگوں نے یہ سُنا اُن پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔ 6 تَب کچھ جَوان مَرد آئے اَور اُنہُوں نے اُس کی لاش کو کفن میں لپیٹا اَور باہر لے جا کر اُس کو دفن کر دیا۔
7 تقریباً تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔ وہ اِس ماجرے سے بے خبر تھی۔ 8 پطرس نے اُس سے پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا زمین کی اِتنی ہی قیمت مِلی تھی؟“
9 پطرس نے اُس سے فرمایا، ”خُداوؔند کی پاک رُوح کو آزمانے کے لیٔے تُم کِس طرح راضی ہو گئے؟ سُنو! جِن لوگوں نے تیرے خَاوند کو دفن کیا اُن کے قدم دروازے تک پہُنچ چُکے ہیں، اَور وہ تُجھے بھی باہر لے جایٔیں گے۔“
10 وہ اُسی وقت پطرس کے قدموں میں گِر پڑی اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ جَب جَوان مَرد اَندر آئے تو اُسے مُردہ پا کر باہر اُٹھالے گیٔے اَور اُسے اُس کے شوہر کے پہلوُ میں دفن کر دیا۔ 11 ساری جماعت، بَلکہ اِس حادثہ کے تمام سُننے والوں پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔
21 چنانچہ صُبح ہوتے ہی وہ بیت المُقدّس کے صحن میں جا پہُنچے، اَور جَیسا حُکم مِلا تھا، لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔
25 اُسی وقت کسی نے آکر خبر دی، ”دیکھو! وہ آدمی جنہیں تُم نے قَیدخانہ میں ڈالا تھا بیت المُقدّس کے صحنوں میں کھڑے ہوکر لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔“ 26 اِس پر، کپتان اَپنے سربراہوں کے ساتھ گیا اَور رسولوں کو پکڑ لایا۔ اُنہُوں نے طاقت کا اِستعمال اِس لیٔے نہیں کیا کہ اُنہیں خدشہ تھا کہ لوگ اُنہیں سنگسار نہ کر دیں۔
27 اُنہُوں نے رسولوں کو لاکر مَجلِس عامہ میں پیش کیا اَور اعلیٰ کاہِن نے اُن سے کہا، 28 ”ہم نے تُمہیں سخت تاکید کی تھی کہ یِسوعؔ کا نام لے کر تعلیم نہ دینا،“ اُنہُوں نے کہا۔ ”تُم نے سارے یروشلیمؔ میں اَپنی تعلیم پھیلا دی ہے اَور ہمیں اِس شخص کے خُون کا ذمّہ دار ٹھہرانے پرتُلے ہو۔“
29 پطرس اَور دُوسرے رسولوں نے جَواب دیا: ”ہم پر اِنسان کے حُکم کے بجائے خُدا کا حُکم ماَننا زِیادہ فرض ہے! 30 ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اُس یِسوعؔ کو مُردوں میں سے زندہ کر دیا جسے تُم نے صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا تھا۔ 31 خُدا نے اُسی کو خُداوؔند اَور مُنجّی ٹھہرا کر اَپنے داہنے ہاتھ کی طرف سربُلندی بخشی تاکہ وہ اِسرائیلؔ کو تَوبہ کی تَوفیق اَور گُناہوں کی مُعافی عطا فرمائے۔ 32 ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں، اَور پاک رُوح بھی شاہِد ہے، جسے خُدا نے اَپنے فرمانبرداروں کو عطا کی ہے جو اُس کا حُکم مانتے ہیں۔“
33 جَب اُنہُوں نے یہ سُنا تو جَل بُھن گیٔے اَور چاہا کہ اُنہیں ٹھکانے لگا دیں۔ 34 لیکن ایک فرِیسی نے جِس کا نام گَملی ایل تھا، جو شَریعت کا مُعلّم تھا، جو سَب لوگوں میں مُعزّز سمجھا جاتا تھا، مَجلِس عامہ میں کھڑے ہوکر حُکم دیا کہ اِن آدمیوں کو تھوڑی دیر کے لیٔے باہر بھیج دو۔ 35 پھر وہ مَجلِس سے یُوں مُخاطِب ہویٔے: ”اَے اِسرائیلؔ کے مَردو، جو کچھ تُم اِن آدمیوں کے ساتھ کرنا چاہتے ہو اُسے ہوشیاری سے کرنا۔ 36 کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تِھیُوداسؔ اُٹھا، اَور اُس نے یہ دعویٰ کیا تھا، کہ میں بھی کچھ ہُوں اَور تقریباً چار سَو آدمی اُس سے مِل گیٔے تھے۔ مگر وہ مارا گیا، اُس کے تمام پیروکار مُنتشر ہوکر ختم ہو گئے۔ 37 اُس کے بعد، یہُوداہؔ گلِیلی اِسم نویسی کے ایّام میں نموُدار ہُوا اَور اُس نے کیٔی لوگوں کو اَپنا ہمنوا بنا لیا۔ وہ بھی مارا گیا، اَور اُس کے جتنے بھی پیروکار تھے سَب کے سَب مُنتشر ہو گئے۔ 38 لہٰذا، میں تو تُم سے یہی کہُوں گا: کہ اِن آدمیوں سے دُور ہی رہو! اُن سے کویٔی کام نہ رکھو! اَور اِنہیں جانے دو کیونکہ اگر یہ تدبیر یا یہ کام اِنسانوں کی طرف سے ہے، تو خُود بخُود برباد ہو جائے گا۔ 39 لیکن اگر یہ خُدا کی طرف سے ہے، تو تُم اِن آدمیوں کا کُچھ بھی نہ بِگاڑ سکوگے؛ بَلکہ خُدا کے خِلاف لڑنے والے ٹھہروگے۔“
40 اُنہُوں نے اُس کی صلاح مان لی۔ اَور رسولوں کو اَندر بُلاکر اُنہیں کوڑے لگوائے۔ اُن کو تاکید کی کہ آئندہ یِسوعؔ کا نام لے کر کویٔی بات نہ کرنا اَور اُنہیں جانے دیا۔
41 رسول مَجلِس عامہ سے چلے گیٔے، وہ اِس بات پر خُوش تھے کہ خُداوؔند کے نام کی خاطِر بے عزّت ہونے کے لائق تو سمجھے گیٔے۔ 42 روز بروز وہ تعلیم دینے سے باز نہ آئے بَلکہ ہر روز بیت المُقدّس کے صحنوں میں اَور گھروں میں، خُوشخبری سُناتے رہے کہ یِسوعؔ ہی المسیح ہیں یہ کہنے سے باز نہ آئے۔
<- اعمال 4اعمال 6 ->
Languages