1 پَولُسؔ نے مَجلِس عامہ کے اراکین پر گہری نظر ڈال کر کہا، ”میرے بھائیو، میں آج تک بڑی نیک نیّتی سے خُدا کے حُکموں کے مُطابق زندگی گزارتا آیا ہُوں۔“ 2 اعلیٰ کاہِن، حننیاہؔ نے پَولُسؔ کے پاس کھڑے ہویٔے لوگوں کو حُکم دیا کہ پَولُسؔ کے مُنہ پر تھپّڑ مارو۔ 3 پَولُسؔ نے اعلیٰ کاہِن سے کہا، ”اَے سفیدی پھری ہویٔی دیوار! تُم پر خُدا کی مار، حننیاہؔ یہاں بیٹھے ہو کہ شَریعت کے مُطابق میرا اِنصاف کرو، پھر بھی تُم خُود شَریعت کے خِلاف مُجھے مارنے کا حُکم دیتے ہو!“
4 جو پاس کھڑے تھے کہنے لگے، ”تُجھے خُدا کے اعلیٰ کاہِن کو بُرا کہنے کی جُرأت کیسے ہویٔی!“
5 پَولُسؔ نے جَواب دیا، ”بھائیو، مُجھے مَعلُوم نہ تھا کہ یہ اعلیٰ کاہِن ہیں؛ شَریعت میں لِکھّا ہے: ’تو اَپنی قوم کے رہنماؤں پر لعنت مت بھیجنا۔‘[a]“
6 پَولُسؔ کو مَعلُوم تھا کہ اُن میں بعض صدُوقی ہیں اَور بعض فرِیسی، وہ مَجلِس عامہ میں پُکار کر کہنے لگے، ”میرے بھائیو، میں فرِیسی ہُوں، فریسیوں سے آیا ہُوں۔ مُجھ پر اِس لیٔے مُقدّمہ چلایا جا رہاہے کہ میں اُمّید رکھتا ہُوں کہ مُردوں کی قیامت یعنی مُردے پھر سے جی اُٹھیں گے۔“ 7 اُن کے یہ کہتے ہی فریسیوں اَور صدُوقیِوں میں تکرار شروع ہو گئی، اَور حاضرین میں تفرِیق پڑ گئی۔ 8 (صدُوقی کہتے ہیں کہ قیامت نہیں ہوگی، اَور نہ تو فرشتہ کویٔی چیز ہے نہ ہی رُوحیں، لیکن فرِیسی اِن سَب چیزوں کے قائل ہیں۔)
9 فوراً بڑا ہنگامہ برپا ہو گیا، اَور شَریعت کے عالِموں میں سے بعض جو فرِیسی تھے کھڑے ہوکر بحث کرنے لگے۔ ”ہم اِس آدمی میں کویٔی قُصُور نہیں پاتے،“ اُنہُوں نے کہا۔ ”اگر کسی فرشتہ یا رُوح نے اِس سے بات کی ہے تو کیا ہُوا؟“ 10 بات اِتنی بڑھی کہ پلٹن کے سالار کو خوف محسُوس ہونے لگاکہ کہیں پَولُسؔ کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دئیے جایٔیں۔ اُس نے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ نیچے جایٔیں اَور پَولُسؔ کو وہاں سے زبردستی نکال کر فَوجیوں کے خیمے میں لے جایٔیں۔
11 اُسی رات خُداوؔند نے پَولُسؔ کے پاس آکر فرمایا، ”حوصلہ رکھ! جَیسے تُونے یروشلیمؔ میں میری گواہی دی ہے، وَیسے ہی تُجھے رُوم شہر میں بھی گواہی دینا ہوگی۔“
16 لیکن جَب پَولُسؔ کے بھانجے کو اِس سازش کا علم ہُوا، اَور اُس نے فَوجیوں کے خیمے میں جا کر پَولُسؔ کو خبر کر دی۔
17 تَب پَولُسؔ نے ایک کپتان کو بُلایا اَور کہا، ”اِس جَوان کو پلٹن کے سالار کے پاس لے جا؛ کیونکہ یہ کچھ بتانے کے لیٔے آیا ہے۔“ 18 پس وہ اُسے پلٹن کے سالار کے پاس لے گیا۔
19 پلٹن کا سالار اُس جَوان کا ہاتھ پکڑکر اُسے الگ لے گیا اَور پُوچھنے لگا، ”تُم مُجھے کیا بتانا چاہتے ہو؟“
20 اُس نے کہا: ”بعض یہُودیوں نے ایکا کرکے آپ سے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ تُم پَولُسؔ کو مزید تحقیقات کے بہانہ سے مَجلِس عامہ کے سامنے لایئں۔ 21 اُن کی بات مت ماَننا کیونکہ چالیس سے زِیادہ یہُودی پَولُسؔ پر حملہ کرنے کی تاک میں ہیں۔ اُنہُوں نے قَسم کھائی ہے کہ اگر ہم پَولُسؔ کو مارے بغیر کچھ بھی کھایٔیں یا پیئیں تو ہم پر لعنت ہو۔ اَب وہ تیّار ہیں، صِرف تمہاری درخواست کے اِنتظار میں ہیں۔“
22 سالار نے اُس جَوان کو بھیج دیا اَور تاکید کی: ”اِن باتوں کا جو تُونے مُجھے بتایٔی ہیں، کسی اَور کو پتا نہ چلے۔“
25 اَور اُس نے ایک خط اِس مضمون کا لِکھّا،
31 پس سپاہی اُس کے حُکم کے مُطابق پَولُسؔ کو اَپنے ہمراہ لے گیٔے اَور راتوں رات پَولُسؔ کو اَنتِپَترِسؔ میں پہُنچا دیا۔ 32 اگلے دِن اُن گُھڑسواروں کو اُن کے ساتھ آگے جانے کا حُکم دے کر خُود فَوجیوں کے خیمے کو لَوٹ گیٔے۔ 33 جَب گُھڑسوار قَیصؔریہ پہُنچے، تو اُنہُوں نے صُوبہ کے حاکم کو خط دے کر پَولُسؔ کو اُس کے حُضُور میں پیش کر دیا۔ 34 صُوبہ کے حاکم نے خط پڑھ کر پُوچھا، یہ کون سے صُوبہ کا ہے؟ جَب سے مَعلُوم ہُوا کہ وہ کِلکِیؔہ کا ہے 35 تو اُس نے کہا، ”میں تمہارا مُقدّمہ اُس وقت سُنوں گا جَب تمہارے مُدّعی بھی یہاں حاضِر ہوں گے۔“ تَب اُس نے حُکم دیا کہ پَولُسؔ کو ہیرودیسؔ کے محل میں نِگرانی میں رکھا جائے۔
<- اعمال 22اعمال 24 ->- a خُرو 22:28
Languages