2 جَب لوگوں نے پَولُسؔ کو ارامی بولتے سُنا، تو سَب کے سَب نے خاموشی اِختیار کرلی۔
6 ”میں جَب سفر کرتے کرتے دَمشق شہر کے نزدیک پہُنچا، تو دوپہر کے وقت آسمان سے ایک تیز رَوشنی آئی اَور میرے چاروں طرف چمکنے لگی۔ 7 میں زمین پر گِر پڑا اَور مَیں نے ایک آواز سُنی جو مُجھ سے کہہ رہی تھی، ’اَے ساؤلؔ! اَے ساؤلؔ! تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے؟‘
8 ” ’مَیں نے پُوچھا، اَے آقا، آپ کون ہیں؟‘
10 ” ’مَیں نے پُوچھا، میں کیا کروں، اَے خُداوؔند؟‘ خُداوؔند نے جَواب دیا۔
12 ”وہاں ایک آدمی جِس کا نام حننیاہؔ تھا مُجھے دیکھنے آیا۔ وہ دیندار اَور شَریعت کا سخت پابند تھا اَور وہاں کے یہُودیوں میں بڑی عزّت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ 13 وہ میرے پاس آکر کہنے لگا، ’بھایٔی ساؤلؔ، اَپنی بینائی حاصل کر!‘ میں اُسی گھڑی بینا ہو گیا اَور حننیاہؔ کو دیکھنے لگا۔
14 ”تَب حننیاہؔ نے کہا: ’تیرے آباؤاَجداد کے خُدا نے تُجھے چُن لیا ہے تاکہ تُو خُدا کی مرضی کو جانے اَور المسیح راستباز کو دیکھے اَور اُن کے مُنہ کی باتیں سُنے۔ 15 کیونکہ تُو سارے لوگوں میں المسیح کا گواہ ہوگا اَور اُنہیں بتائے گا کہ تُونے کیا کچھ دیکھا اَور سُنا ہے۔ 16 اَور اَب دیر کیسی؟ اُٹھ، خُداوؔند المسیح کے نام سے، پاک غُسل لے اَور اَپنے گُناہ دھو ڈال۔‘
17 ”جَب مَیں یروشلیمؔ لَوٹا اَور بیت المُقدّس میں جا کر دعا کر ہی رہاتھا، مُجھ پر بے خُودی طاری ہو گئی۔ 18 اَور مَیں نے خُداوؔند کو دیکھا اَور یہ کہتے سُنا کہ ’جلدی کر!‘ اَور ’یروشلیمؔ سے فوراً نکل جا کیونکہ وہ میرے بارے میں تیری گواہی قبُول نہ کریں گے۔‘
19 ” ’خُداوؔند،‘ مَیں نے جَواب دیا، ’یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں جابجا ہر ایک یہُودی عبادت گاہ میں جاتا تھا اَور کِس طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو قَید کراتا اَور پِٹواتاتھا۔ 20 اَور جَب تمہارے شَہید اِستِفنُسؔ کا خُون بہایا جا رہاتھا تو میں بھی وہیں مَوجُود تھا اَور اِستِفنُسؔ کے قتل پر راضی تھا اَور اُن قاتلوں کے کپڑوں کی حِفاظت کر رہاتھا جو اُن کو قتل کر رہے تھے۔‘
21 ”تَب خُداوؔند نے مُجھ سے کہا، ’جاؤ؛ میں تُمہیں غَیریہُودیوں کے پاس دُور سے دُور جگہوں میں بھیجوں گا۔‘ “
23 جَب لوگوں کا چیخنا اَور چِلّانا جاری رہا اَور وہ کپڑے پھینک پھینک کر دُھول اُڑانے لگے، 24 تو پلٹن کے سالار نے پَولُسؔ کو فَوجیوں کے خیمے کے اَندر لے جانے کا حُکم دیا۔ اَور کہا کہ اِسے کوڑوں سے ماراجائے اَور اُس کا بَیان لیا جائے تاکہ مَعلُوم ہو کہ یہ لوگ اُس پر اِس طرح کیوں چِلّا رہے ہیں؟ 25 جَب وہ کوڑے لگانے کے لیٔے پَولُسؔ کو باندھنے لگے تو آپ نے ایک کپتان سے جو پاس ہی کھڑا تھا کہا، ”کیا ایک رُومی شَہری کو اُس کا قُصُور ثابت کیٔے بغیر کوڑوں سے مارنا جائز ہے؟“
26 جَب اُس کپتان نے یہ سُنا، تو وہ پلٹن کے سالار کے پاس گیا اَور اُسے خبر دی اَور اُس نے کہا، ”آپ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ یہ آدمی تو رُومی شَہری ہے۔“
27 پلٹن کے سالار نے پَولُسؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا تو رُومی شَہری ہے؟“
28 سالار نے کہا، ”مَیں نے تو ایک کثیر رقم اَدا کرکے رُومی شہریت حاصل کی تھی۔“
29 جو لوگ پَولُسؔ کا بَیان لینے کو تھے، اُسی وقت وہاں سے ہٹ گیٔے، اَور پلٹن کا سالار بھی یہ مَعلُوم کرکے بڑا گھبرایا کہ جِس آدمی کو اُس نے زنجیروں سے باندھا ہے وہ رُومی شَہری ہے۔
Languages