1 شاؤل اَور داویؔد کے گھرانوں کے مابین طویل عرصہ تک جنگ جاری رہی۔ داویؔد قوی سے قوی تر اَور شاؤل کا خاندان کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔
8 اِشبوستؔ کی اِس بات پر ابنیرؔ بہت غُصّہ ہُوا اَور کہنے لگاکہ، ”کیا میں یہُوداہؔ کے کسی کُتّے کا سَر ہُوں؟ آج کے دِن تک مَیں تمہارے باپ شاؤل کے گھرانے، اُس کے کُنبہ اَور دوستوں کا وفادار رہا ہُوں اَور مَیں نے تُجھے داویؔد کے حوالہ نہیں کیا۔ پھر بھی اَب تُم مُجھ پر اِس عورت سے بدکاری کرنے کا اِلزام لگاتے ہو؟ 9 خُدا ابنیرؔ کے ساتھ وَیسا ہی بَلکہ اُس سے بھی زِیادہ کریں اگر مَیں داویؔد سے وُہی سلُوک نہ کروں جِس کی یَاہوِہ نے قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کیا تھا۔“ 10 یعنی یہ کہ بادشاہی شاؤل کے گھرانے سے مُنتقل کرکے داویؔد کے تخت کو اِسرائیل اَور یہُوداہؔ پر دانؔ سے بیرشبعؔ تک قائِم کروں۔ 11 اَور اِشبوستؔ نے ابنیرؔ کو کویٔی اَور لفظ کہنے کی جُرأت نہ کی کیونکہ وہ اُس سے ڈرتا تھا۔
12 پھر ابنیرؔ نے اَپنی طرف سے داویؔد کو یہ کہنے کے لیٔے قاصِد بھیجے کہ، ”یہ مُلک کس کا ہے؟ میرے ساتھ عہد کر لے اَور مَیں تمام اِسرائیل کو تمہاری طرف مائل کرنے کے لیٔے تمہاری مدد کروں گا۔“
13 داویؔد نے کہا، اَچھّا، مَیں تمہارے ساتھ عہد کروں گا لیکن مَیں تُجھ سے ایک بات کا مطالبہ کرتا ہُوں کہ جَب تُو مُجھے مِلنے کو آئے تو شاؤل کی بیٹی میکلؔ کو اَپنے ساتھ لے کر آنا ورنہ میرے سامنے مت آنا۔ 14 تَب داویؔد نے شاؤل کے بیٹے اِشبوستؔ کے پاس یہ مطالبہ کرتے ہُوئے قاصِد بھیجے، ”کہ میری بیوی میکلؔ جِس کو مَیں نے فلسطینیوں کی سَو کھلڑیاں دے کر بیاہا تھا میرے حوالہ کر دیں۔“
15 لہٰذا اِشبوستؔ نے حُکم دیا اَور اُسے اُس کے خَاوند پَلطیؔ ايلؔ بِن لائش سے چھین لیا 16 تاہم اُس کا خَاوند بحوریمؔ تک راستہ بھر اُس کے پیچھے پیچھے روتا ہُوا اُس کے ساتھ گیا۔ ابنیرؔ نے اُس سے کہا، ”واپس گھر چلا جا۔“ پس وہ واپس چلا گیا۔
17 اَور ابنیرؔ نے اِسرائیل کے بُزرگوں سے صلاح مشورہ کیا اَور کہا، ”کچھ عرصہ ہُوا، تُم داویؔد کو اَپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے۔ 18 اَب بنالو کیونکہ یَاہوِہ کا داویؔد سے وعدہ ہے، ’میں اَپنے خادِم داویؔد کے ذریعہ سے اَپنی قوم اِسرائیل کو فلسطینیوں اَور اُن کے تمام دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُڑاؤں گا۔‘ “
19 اَور ابنیرؔ نے بنی بِنیامین سے بھی بذاتِ خُود باتیں کیں اَور ابنیرؔ وہ سَب باتیں جو اِسرائیل اَور بِنیامین کے گھرانے کے لوگ کرنا چاہتے تھے داویؔد کو بتانے کے لیٔے حِبرونؔ گئے۔ 20 جَب ابنیرؔ جِس کے ہمراہ بیس آدمی تھے حِبرونؔ میں داویؔد کے پاس آیا، تو داویؔد نے اُس کے اَور اُس کے آدمیوں کے لیٔے ضیافت کی۔ 21 ابنیرؔ نے داویؔد سے کہا، ”مُجھے اِجازت دو کہ فوراً جاؤں اَور اَپنے آقا بادشاہ کے لیٔے تمام اِسرائیل کو جمع کروں تاکہ وہ آپ کے ساتھ عہدوپیمان کرو اَور تُم اُن سَب پر اَپنی دِلی مرضی کے مُطابق حُکمرانی کرو۔“ چنانچہ داویؔد نے ابنیرؔ کو رخصت کیا اَور وہ سلامت چلا گیا۔
24 لہٰذا یُوآبؔ بادشاہ کے پاس گیا اَور کہنے لگاکہ، ”آپ نے کیا کیا؟ دیکھو، ابنیرؔ تمہارے پاس آیاتھا۔ لیکن تُم نے اُسے جانے کیوں دیا؟ اَب تو وہ چلا گیا ہے! 25 کیا آپ نہیں جانتے کہ ابنیرؔ بِن نیرؔ آپ کو دھوکا دینے اَور آپ کی آمدورفت پر نظر رکھنے اَورجو کچھ بھی آپ کر رہے ہو اُس کا بھید لینے آیاتھا۔“
26 پھر یُوآبؔ داویؔد کے پاس سے چلا گیا اَور اُس نے ابنیرؔ کے پیچھے قاصِد بھیجے اَور وہ اُسے سیرہؔ کے کنوئیں سے اَپنے ساتھ لے کر واپس آ گئے۔ لیکن داویؔد کو اِس کا علم نہ ہُوا۔ 27 اَور ابنیرؔ کے حِبرونؔ لَوٹ آنے پر یُوآبؔ اُسے الگ پھاٹک کے اَندر لے گیا گویا اُس سے کویٔی راز کی بات کرنا چاہتاہے اَور وہاں اُس نے اَپنے بھایٔی عساہیلؔ کے خُون کا بدلہ لینے کے لیٔے ابنیرؔ کے پیٹ میں چھُرا گھونپ دیا اَور وہ مَر گیا۔
28 بعد میں جَب داویؔد نے اُس کے متعلّق سُنا تو اُس نے کہا، ”مَیں اَور میری بادشاہی یَاہوِہ کے حُضُور میں ہمیشہ تک ابنیرؔ بِن نیرؔ کے خُون سے پاک ہے۔ 29 وہ یُوآبؔ اَور اُس کے باپ کے سارے گھرانے کے سَر لگے اَور یُوآبؔ کے گھرانے میں کویٔی نہ کویٔی اَیسا ضروُر مَوجُود رہے جسے جریان کا مرض ہو یا جو کوڑھی ہو یا بیساکھی کے سہارے چلے یا تلوار سے مَرے یا ٹکڑے ٹکڑے کا مُحتاج ہو۔“
30 (یُوآبؔ اَور اُس کے بھایٔی ابیشائی نے ابنیرؔ کو قتل کر دیا کیونکہ اُس نے اُن کے بھایٔی عساہیلؔ کو گِبعونؔ کی جنگ میں مار دیا تھا۔)
31 تَب داویؔد نے یُوآبؔ اَور اُس کے لشکر کے سارے لوگوں سے کہا، ”اَپنے کپڑے پھاڑو اَور ٹاٹ پہنو اَور صُبح کو ابنیرؔ کے آگے ماتم کرتے ہُوئے چلو۔“ اَور داویؔد بادشاہ خُود بھی تابُوت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ 32 اُنہُوں نے ابنیرؔ کو حِبرونؔ میں دفن کیا اَور بادشاہ ابنیرؔ کی قبر پر چِلّا چِلّاکر رُویا اَور سَب لوگ بھی رُوئے۔
33 بادشاہ نے ابنیرؔ پر یہ مرثیہ کہا:
35 تَب لوگوں نے آکر داویؔد کو ترغِیب دی کہ ابھی دِن ہے تُم کچھ کھالو؛ لیکن داویؔد نے یہ کہتے ہُوئے قَسم کھائی، ”اگر مَیں سُورج کے ڈُوبنے سے پیشتر روٹی یا اَور کچھ چکھوں تو خُدا مُجھ سے اَیسا بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ کرے!“
36 اَور تمام لوگوں نے بادشاہ کی بات کو پسند کیا۔ درحقیقت اُس کے علاوہ جو کچھ بھی بادشاہ نے کیا وہ اُس سے خُوش تھے۔ 37 اُس دِن تمام لوگوں اَور تمام اِسرائیل کو مَعلُوم ہو گیا کہ ابنیرؔ بِن نیرؔ کے قتل میں بادشاہ کا ہاتھ نہیں تھا۔
38 تَب بادشاہ نے اَپنے لوگوں سے کہا، ”کیا تُمہیں احساس نہیں کہ آج اِسرائیل میں سے ایک شہزادہ اَور ایک عظیم آدمی ہمیشہ کے لیٔے رخصت ہو گیا ہے؟ 39 اَور آج اگرچہ میں مَسح کیا ہُوا بادشاہ ہُوں میں کمزور ہُوں اَور ضرویاہؔ کے یہ بیٹے مُجھ سے زِیادہ طاقتور ہیں۔ یَاہوِہ بدکار کو اُس کی بدی کے مُطابق بدلہ دے!“
<- 2 شموایلؔ 22 شموایلؔ 4 ->
Languages