2 لہٰذا داویؔد اَپنی دونوں بیویوں یزرعیلؔ کی احِینوعمؔ اَور کرمِلؔ کے نابالؔ کی بِیوہ ابیگیلؔ کے ہمراہ وہاں چلا گیا۔ 3 اَور داویؔد اُن آدمیوں کو بھی جو اُس کے ساتھ تھے اُن کے خاندانوں سمیت وہاں سے لے گیا اَور وہ حِبرونؔ اَور اُس کے قصبوں میں بس گیٔے۔ 4 تَب بنی یہُوداہؔ کے لوگ آئے اَور وہاں اُنہُوں نے داویؔد کو مَسح کرکے یہُوداہؔ کے قبیلہ کا بادشاہ بنا دیا۔
10 شاؤل کا بیٹا اِشبوستؔ چالیس بَرس کی عمر میں اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے دو بَرس حُکمرانی کی۔ مگر یہُوداہؔ کا قبیلہ داویؔد کا مطیع رہا۔ 11 داویؔد حِبرونؔ میں یہُوداہؔ کے گھرانے پر سات سال چھ مہینے تک بادشاہی کرتا رہا۔
12 اَور ابنیرؔ بِن نیرؔ اَور اِشبوستؔ بِن شاؤل کے خادِم محنایمؔ کو خیرباد کہہ کر گِبعونؔ کو گیٔے 13 اَور یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ اَور داویؔد کے آدمی نکلے اَور گِبعونؔ کے تالاب پر اُن سے ملے۔ ایک فریق تالاب کے ایک طرف بیٹھ گیا اَور دُوسرا دُوسری طرف۔
14 تَب ابنیرؔ نے یُوآبؔ سے کہا، ”کہ آؤ ہم چند جَوانوں کو چُن لیں جو ہمارے سامنے ایک دُوسرے سے لڑیں۔“
15 پس وہ جَوان کھڑے ہو گئے اَور اُن کی گِنتی کی گئی تو بَارہ آدمی بِنیامین اَور اِشبوستؔ بِن شاؤل کی طرف سے اَور بَارہ آدمی داویؔد کی طرف سے تھے۔ 16 تَب ہر ایک آدمی نے اَپنے اَپنے مُخالف کو سَر سے پکڑکر اَپنی تلوار اُس کے پہلو میں گھونپ دی اَور وہ ایک ساتھ گِر پڑے۔ اِس لیٔے گِبعونؔ میں اُس جگہ کو حِلقتؔ ہصّورِیمؔ[a] کا نام دیا گیا۔
17 اَور اُس دِن بڑی سخت لڑائی ہُوئی جِس میں ابنیرؔ اَور اِسرائیل کے آدمیوں نے داویؔد کے آدمیوں سے شِکست کھائی۔
18 اَور ضرویاہؔ کے تینوں بیٹے یُوآبؔ، ابیشائی اَور عساہیلؔ وہاں مَوجُود تھے۔ عساہیلؔ جنگلی ہِرن کی مانند سُبک پا تھا۔ 19 اَور عساہیلؔ نے ابنیرؔ کا پیچھا کیا اَور اُس کا تعاقب کرتے ہُوئے داہنے یا بائیں ہاتھ نہ مُڑا۔ 20 تَب ابنیرؔ نے اَپنے پیچھے کی طرف دیکھ کر، ”پُوچھا کہ اَے عساہیلؔ! کیا تُم ہو؟“
21 تَب ابنیرؔ نے اُس سے کہا، ”کہ داہنے یا بائیں، ایک طرف مُڑ جا اَور جَوانوں میں سے کسی کو پکڑکر اُس کے ہتھیار چھین لے۔“ لیکن عساہیلؔ نے اُس کا تعاقب کرنا نہ چھوڑا۔
22 ابنیرؔ نے عساہیلؔ کو پھر مُتنبّہ کیا کہ، ”میرا پیچھا کرنا بند کر! اگر مَیں تُجھے مار گراؤں گا تو پھر تیرے بھایٔی یُوآبؔ کو کیا مُنہ دِکھا سکوں گا؟“
23 لیکن عساہیلؔ تعاقب سے باز نہ آیا۔ تَب ابنیرؔ نے اَپنے نیزے کا بٹ اُس کے پیٹ میں گھونپ دیا اَور وہ اُس کی پیٹھ کے آرپار نکل گیا۔ چنانچہ وہ گرا اَور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ اَورجو آدمی اُس جگہ آیا جہاں عساہیلؔ گرا اَور مَرا تھا وہ وہیں رُک گیا۔
24 لیکن یُوآبؔ اَور ابیشائی نے ابنیرؔ کا تعاقب کیا اَور جَب سُورج غروب ہو رہاتھا تو وہ کوہِ امّہؔ کے پاس پہُنچے جو گیاحؔ کے قریب گِبعونؔ کی بنجر زمین کی راہ پر ہے۔ 25 اَور بِنیامین کے لوگ ایک بار پھر ابنیرؔ کے پیچھے جمع ہو گئے اَور اُنہُوں نے ایک دستہ کی صورت میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر اَپنا مورچہ قائِم کر لیا۔
26 تَب ابنیرؔ نے یُوآبؔ کو پُکار کر کہا، ”کیا یہ ضروُری ہے کہ تلوار اَبد تک ہلاک کرتی رہے؟ کیا تُم نہیں جانتے کہ اِس کا اَنجام کس قدر تلخ ہوگا؟ تُم اَپنے آدمیوں کو کب حُکم دوگے کہ اَپنے بھائیوں کا تعاقب کرنے سے باز آئیں؟“
27 یُوآبؔ نے جَواب دیا، ”زندہ خُدا کی قَسم، اگر تُم زبان نہ کھولتے تو یہ آدمی صُبح تک اَپنے بھائیوں کا تعاقب جاری رکھتے۔“
28 لہٰذا یُوآبؔ نے نرسنگا پھُونکا اَور سَب آدمی رُک گیٔے اَور پھر اُنہُوں نے اِسرائیل کا تعاقب نہ کیا اَور نہ اُن سے لڑے۔
29 ابنیرؔ اَور اُس کے آدمی ساری رات عراباہؔ کے میدان میں چلتے رہے اَور دریائے یردنؔ کو پار کرکے بِترونؔ سے گزرتے ہُوئے محنایِمؔ کو آئے۔
30 اَور یُوآبؔ نے ابنیرؔ کے تعاقب سے لَوٹ کر اَپنے تمام آدمیوں کو جمع کیا تو عساہیلؔ کے علاوہ داویؔد کے اُنّیس آدمی غائب تھے۔ 31 لیکن داویؔد کے آدمیوں نے بنی بِنیامین کے تین سَوساٹھ آدمیوں کو جو ابنیرؔ کے ساتھ تھے مار گرایا۔ 32 اُنہُوں نے عساہیلؔ کو اُٹھاکر بیت لحمؔ میں اُس کے باپ کی قبر میں دفن کر دیا اَور یُوآبؔ اَور اُس کے آدمی رات بھرکے سفر کے بعد صُبح سویرے حِبرونؔ جا پہُنچے۔
<- 2 شموایلؔ 12 شموایلؔ 3 ->- a حِلقتؔ ہصّورِیمؔیعنی خنجر
Languages