4 اَور جَب تقوعؔ کی وہ عورت بادشاہ کے پاس گئی تو اُن کی تعظیم کے لیٔے مُنہ کے بَل زمین پر گری اَور کہا، ”اَے بادشاہ! میری مدد کرو!“
5 بادشاہ نے اُس سے کہا، ”تُو کس بات سے پریشان ہے؟“
8 بادشاہ نے اُس عورت سے کہا، ”تُو گھر جا اَور مَیں تیری خاطِر ایک حُکم نامہ جاری کروں گا۔“
9 لیکن تقوعؔ کی اُس عورت نے کہا، ”میرے آقا بادشاہ! سارا جُرم مُجھ پر اَور میرے باپ کے گھرانے پر ہی رہنے دیں۔ آپ پر اَور آپ کے تخت پر بے اِلزام ٹھہرے۔“
10 بادشاہ نے جَواب دیا کہ، ”اگر کویٔی تُجھے کچھ کہے تو اُسے میرے پاس لے آنا اَور پھر وہ تُجھے تنگ نہیں کرےگا۔“
11 اُس عورت نے کہا، ”بادشاہ سلامت! میری گزارش ہے کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اِلتجا کریں کہ خُون کا اِنتقام لینے والا مزید بربادی سے باز آئے اَور میرے بیٹے کو ہلاک نہ کرنے پایٔے۔“
12 تَب اُس عورت نے کہا، ”اِس خادِمہ کو اَپنے آقا بادشاہ سے ایک بات کہنے کی اِجازت ملے!“
13 اُس عورت نے کہا: ”پھر آپ نے خُدا کے لوگوں کے خِلاف اَیسی تدبیر کیوں کی ہے؟ جَب بادشاہ یہ کہتاہے تو کیا وہ اَپنے آپ کو مُجرم نہیں ٹھہراتا کیونکہ بادشاہ اَپنے جَلاوطن بیٹے کو واپس نہیں لایا؟ 14 جَیسے زمین پر گِرے ہُوئے پانی کو دوبارہ جمع نہیں کیا جا سَکتا وَیسے ہی ہمیں موت کے مُنہ میں چلے جاناہے۔ لیکن خُدا کسی کی جان نہیں لیتا بَلکہ اُس کی بجائے وہ اَیسے وسائل پیدا کر دیتاہے کہ جَلاوطن کیا ہُوا شخص بھی اُس سے دُور نہ رہے۔
15 ”چونکہ لوگوں نے مُجھے ڈرا دیا تھا اِس لیٔے میں اَپنے آقا بادشاہ کو یہ کہنے آئی اَور اِس خادِمہ نے سوچا، ’میں بادشاہ سے عرض کروں گی، شاید بادشاہ اَپنی خادِمہ کی عرض پُوری کر دیں۔ 16 اَور شاید بادشاہ اَپنی خادِمہ کو اُس آدمی کے ہاتھ سے چھُڑانے کے لیٔے رضامند ہو جائیں جو مُجھے اَور میرے بیٹے دونوں کو اُس مِیراث سے جو خُدا نے ہمیں بخشی ہے خارج کرنے کی کوشش کر رہاہے۔‘
17 ”اَور اَب آپ کی خادِمہ کو اُمّید ہے، ’میرے آقا بادشاہ کی بات مُجھے سکون بخشے گی کیونکہ میرا مالک بادشاہ نیکی اَور بدی کے اِمتیاز میں خُدا کے فرشتہ کی مانند ہے۔ یَاہوِہ آپ کے خُدا آپ کے ساتھ ہُوں۔‘ “
18 تَب بادشاہ نے اُس عورت سے کہا، ”جو کچھ مَیں تُجھ سے پُوچھنے والا ہُوں صَاف صَاف بتانا اَور مُجھ سے کچھ مت چھُپانا۔“
19 تَب بادشاہ نے کہا، ”تُجھے یہ سَب کچھ یُوآبؔ نے سِکھا کر بھیجا ہے، ہے نا؟“
21 تَب بادشاہ نے یُوآبؔ سے کہا، ”ٹھیک! مَیں نے تیری بات مان لی لہٰذا جا اَور اُس جَوان اَبشالومؔ کو واپس لے آ۔“
22 یُوآبؔ نے مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر اُسے سَجدہ کیا اَور بادشاہ کو مُبارکباد دی۔ یُوآبؔ کہنے لگا، ”اَے میرے آقا بادشاہ، آج مُجھے یقین ہو گیا کہ مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہے کیونکہ بادشاہ نے اَپنے خادِم کی درخواست قبُول فرمائی ہے۔“
23 پھر یُوآبؔ گیشُور گیا اَور اَبشالومؔ کو واپس یروشلیمؔ لے آیا۔ 24 لیکن بادشاہ نے فرمایا، ”وہ سیدھا اَپنے گھر جائے اَور میرا مُنہ نہ دیکھے۔“ لہٰذا اَبشالومؔ اَپنے گھر چلا گیا اَور بادشاہ کا مُنہ تک نہ دیکھ پایا۔
25 اَبشالومؔ اِتنا حسین تھا کہ سارے اِسرائیل میں اُس کا کویٔی ثانی نہ تھا۔ اُس میں سَر سے پاؤں تک کویٔی بھی عیب نہ تھا۔ 26 اُس کے سَر کے بال اِتنے گھنے تھے کہ وہ اُنہیں ہر سال منڈوایا کرتا تھا اَور جَب اُن کا وزن کرتا تھا تو وہ شاہی تول کے مُطابق دو سَو ثاقل[a] ہوتا تھا۔
27 اَور اَبشالومؔ سے تین بیٹے پیدا ہُوئے اَور ایک بیٹی۔ بیٹی کا نام تامارؔ تھا اَور وہ بڑی خُوبصورت عورت تھی۔
28 اَبشالومؔ پُورے دو سال یروشلیمؔ میں رہا لیکن اُسے بادشاہ کا مُنہ دیکھنا نصیب نہ ہُوا۔ 29 پھر اَبشالومؔ نے یُوآبؔ کو بُلوایا تاکہ اُسے بادشاہ کے پاس بھیجے۔ لیکن یُوآبؔ نے اُس کے پاس آنے سے اِنکار کر دیا۔ اُس نے دوبارہ بُلوایا لیکن وہ نہ آیا۔ 30 تَب اُس نے اَپنے خادِموں سے کہا: ”دیکھو میرے کھیت کے بعد یُوآبؔ کا کھیت ہے اَور اُس میں اُس کے جَو ہیں۔ جاؤ اَور اُس میں آگ لگا دو۔“ لہٰذا اَبشالومؔ کے خادِموں نے کھیت میں آگ لگا دی۔
31 تَب یُوآبؔ اَبشالومؔ کے گھر گیا اَور اُس سے کہا، ”تیرے خادِموں نے میرے کھیت میں آگ کیوں لگائی ہے؟“
32 اَبشالومؔ نے یُوآبؔ سے کہا، ”دیکھ، مَیں نے تُجھے پیغام بھیج کر بُلا لیا تھا، ’تاکہ مَیں تُجھے بادشاہ کے پاس یہ پُوچھنے کے لیٔے بھیج سکوں، ”مُجھے گیشُور سے یہاں کس لیٔے لایا گیا ہے؟ میرے لیٔے تو یہی بہتر تھا کہ مَیں ابھی تک وہیں رہتا!“ ‘ اَب مَیں بادشاہ کا مُنہ دیکھنا چاہتا ہُوں اَور اگر مَیں کسی بات کے لیٔے قُصُوروار ہُوں تو وہ مُجھے مار ڈالے۔“
33 پس یُوآبؔ بادشاہ کے پاس گیا اَور اُسے یہ بات بتایٔی۔ تَب بادشاہ نے اَبشالومؔ کو طلب کیا۔ وہ آیا اَور بادشاہ کے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر جھُکا اَور بادشاہ نے اَبشالومؔ کا مُنہ چُوم لیا۔
<- 2 شموایلؔ 132 شموایلؔ 15 ->- a دو سَو ثاقل تقریباً سَوا دو کِلوگرام
Languages