2 امنُونؔ اَپنی بہن تامارؔ کی وجہ سے اِس قدر مایوس ہُوا کہ بیمار پڑ گیا کیونکہ وہ کنواری تھی اَور اُسے اُس کے ساتھ کچھ کرنا دشوار مَعلُوم ہو رہاتھا۔
3 اَور داویؔد کے بھایٔی شِمعہؔ کا بیٹا یوُنادابؔ امنُونؔ کا دوست تھا۔ یوُنادابؔ بڑا ہوشیار تھا۔ 4 اُس نے امنُونؔ سے پُوچھا، ”تُم تو بادشاہ کے بیٹے ہو پھر روز بروز تمہارا مُنہ کیوں اُترتا جا رہاہے؟ کیا تُم مُجھے نہیں بتاؤ گے؟“
5 یوُنادابؔ نے اُس سے کہا، ”تُم اَپنے بِستر پر لیٹ جاؤ اَور بیمار ہونے کا بہانہ کر لو، اَور جَب تیرا باپ تُجھے دیکھنے آئے تو اُسے کہنا، ’میری درخواست ہے کہ تُم مہربانی کرکے میری بہن تامارؔ کو آنے دے تاکہ وہ مُجھے کھانا کھِلائے۔ اُسے میرے سامنے کھانا بنانے کی اِجازت دے تاکہ میں اُسے دیکھتا رہُوں اَور پھر اُس ہی کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں۔‘ “
6 لہٰذا امنُونؔ لیٹ گیا اَور بیماری کا بہانہ کر لیا۔ جَب بادشاہ اُسے دیکھنے آیا تو امنُونؔ نے اُس سے کہا، ”مہربانی کرکے میری بہن تامارؔ کو آنے دیں کہ وہ میری نظروں کے سامنے کچھ ٹکیاں بنائے تاکہ میں اُس کے ہاتھ سے کھاؤں۔“
7 داویؔد نے محل میں تامارؔ کو پیغام بھیجا: ”اَپنے بھایٔی امنُونؔ کے گھر جا اَور اُس کے لیٔے کچھ کھانا تیّار کر۔“ 8 لہٰذا تامارؔ اَپنے بھایٔی امنُونؔ کے گھر گئی۔ وہ بِستر پر پڑا ہُوا تھا۔ اُس نے کچھ آٹا لیا۔ اُسے گوندھا اَور امنُونؔ کی نظروں کے سامنے ٹکیاں پکائیں۔ 9 پھر اُس نے اُنہیں طشتری میں رکھ کر اُس کے سامنے رکھا مگر اُس نے کھانے سے اِنکار کر دیا۔
12 اُس نے اُس سے کہا، ”نہیں میرے بھایٔی، میرے ساتھ زبردستی مت کر کیونکہ اِسرائیلیوں میں اَیسا کام نہیں ہونا چاہئے! اَیسی بدی مت کرو۔ 13 میرا کیا ہوگا؟ میں تو بُری طرح رُسوا ہو جاؤں گی اَور تیرا کیا ہوگا؟ تُو اِسرائیل میں ایک بدکار احمق کی مانند گِنا جائے گا۔ مہربانی کرکے بادشاہ سے بات کر۔ وہ مُجھے تیرے ساتھ شادی کرنے سے نہ روکے گا۔“ 14 لیکن اُس نے اُس کی ایک نہ سُنی اَور چونکہ وہ اُس سے زِیادہ طاقتور تھا اِس لیٔے اُس نے زبردستی کرکے اُس کی عزّت لُوٹ لی۔
15 جَب امنُونؔ اَپنی ہَوس پُوری کر چُکا اُس کی مَحَبّت جِتنی تھی اِس سے کیٔی گُنا نفرت میں بدل گئی۔ لہٰذا امنُونؔ نے اُس سے کہا، ”اُٹھ اَور یہاں سے نکل جا!“
16 تامارؔ نے کہا، ”نہیں! مُجھے یہاں سے نکالنا اُس ظُلم سے کہیں بڑھ کر ہوگا جو تُونے پہلے مُجھ پر کیا ہے۔“
20 اُس کے بھایٔی اَبشالومؔ نے اُس سے کہا، ”کیا تیرے بھایٔی امنُونؔ نے تیرے ساتھ زبردستی کی ہے؟ بہن! اَب چُپ ہو جا کیونکہ وہ تیرا بھایٔی ہے اَور اِس بات کا غم نہ کر۔“ اَور تامارؔ اَپنے بھایٔی اَبشالومؔ کے گھر میں ایک بدنصیب عورت کی طرح پڑی رہی۔
21 جَب داویؔد بادشاہ نے یہ سَب باتیں سُنیں تو اُس کے غُصّہ کی کویٔی اِنتہا نہ رہی۔ 22 اَور اَبشالومؔ نے امنُونؔ کو کچھ بُرا بھلا تو نہ کہا لیکن امنُونؔ سے نفرت کرنے لگا کیونکہ اُس نے اُس کی بہن تامارؔ کی عزّت لُوٹی تھی۔
25 بادشاہ نے جَواب دیا: بیٹا! نہیں، ہم سَب کو نہیں جانا چاہئے کیونکہ ہم تُجھ پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔ حالانکہ اَبشالومؔ نے اُسے بہت ترغِیب دی پھر بھی اُس نے اِنکار کیا مگر اُس کے حق میں دعا ضروُر فرمائی۔
26 تَب اَبشالومؔ نے کہا، ”اگر نہیں تو براہِ کرم میرے بھایٔی امنُونؔ کو ہی میرے ساتھ جانے دیں۔“
27 لیکن جَب اَبشالومؔ ضِد کرنے لگا تو اُس نے امنُونؔ اَور دیگر بادشاہ کے شہزادوں کو اُس کے ساتھ بھیج دیا۔
28 اَبشالومؔ نے اَپنے آدمیوں کو حُکم دیا کہ، ”سُنو! جَب امنُونؔ مَے پی کر بے خُود ہو جائے اَور مَیں تُمہیں کہُوں کہ امنُونؔ کو مارو تو تُم اُسے مار ڈالنا۔ اَور خوف نہ کرنا۔ کیا مَیں تُمہیں حُکم نہیں دے رہا ہُوں؟ پس ہمّت سے کام لینا اَور بہادر بننا۔“ 29 لہٰذا اَبشالومؔ کے آدمیوں نے امنُونؔ کے ساتھ وُہی کیا جِس کا اَبشالومؔ نے حُکم دیا تھا۔ تَب بادشاہ کے تمام شہزادے اُٹھ کھڑے ہُوئے اَور اَپنے خچّروں پر سوار ہوکر بھاگ نکلے۔
30 وہ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ داویؔد کو اِطّلاع مِلی: ”اَبشالومؔ نے بادشاہ کے تمام شہزادوں کو مار گرایا ہے اَور اُن میں سے کویٔی بھی باقی نہیں بچا ہے۔“ 31 یہ سُن کر بادشاہ اُٹھ کھڑا ہُوا، اُس نے اَپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اَور زمین پر لیٹ گیا اَور اُس کے تمام مُلازم بھی اَپنے اَپنے کپڑے پھاڑ کر اُس کے پاس کھڑے ہو گئے۔
32 لیکن داویؔد کے بھایٔی شِمعہؔ کے بیٹے یوُنادابؔ نے کہا، ”میرا آقا یہ نہ سوچے کہ بادشاہ کے تمام شہزادے مار ڈالے گیٔے ہیں۔ صِرف امنُونؔ ہی مَرا ہے کیونکہ اُس دِن سے جَب امنُونؔ نے اُس کی بہن تامارؔ کی عصمت دری کی تھی، اَبشالومؔ نے اُسے مار ڈالنے کا پکّا اِرادہ کر لیا تھا۔ 33 سو میرے آقا بادشاہ کو اِس اِطّلاع سے کہ تمام شہزادے مار ڈالے گیٔے ہیں، پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ صِرف امنُونؔ ہی مَرا ہے۔“
34 اِسی دَوران اَبشالومؔ بھاگ گیا۔
35 تَب یوُنادابؔ نے بادشاہ سے کہا، ”دیکھو بادشاہ کے شہزادے آ گیٔے اَور جَیسا آپ کہ خادِم نے کہاتھا بالکُل وَیسا ہی ہُوا۔“
36 جوں ہی اُس نے اَپنی بات ختم کی شہزادے آ پہُنچے اَور آہ و زاری کرنے لگے اَور بادشاہ اَور اُس کے سَب مُلازم بھی زار زار رُوئے۔
37 اَبشالومؔ بھاگ کر گیشُور کے بادشاہ عمّیہُوؔد کے بیٹے تلمی کے پاس چلا گیا اَور داویؔد اَپنے بیٹے کے لیٔے عرصہ تک ماتم کرتا رہا۔
38 اَبشالومؔ بھاگ کر گیشُور جانے کے بعد تین سال تک وہیں رہا۔ 39 داویؔد بادشاہ کے دِل میں اَبشالومؔ تک پہُنچنے کی بڑی آرزُو تھی کیونکہ وہ امنُونؔ کی موت کے غم سے تسلّی پاچُکا تھا۔
<- 2 شموایلؔ 122 شموایلؔ 14 ->
Languages