2 الِیشعؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”مَیں تمہاری کیا مدد کر سَکتا ہُوں؟ مُجھے بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا کچھ ہے؟“
3 الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”جاؤ اَور اَپنے ہمسایوں سے خالی برتن مانگ لو، لیکن یہ خیال رکھنا کہ وہ تعداد میں تھوڑے نہ ہوں۔ 4 پھر تُم اَپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر گھر کے اَندر جانا اَور دروازہ بند کر لینا اَور اُن سَب برتنوں میں اَپنے مرتبان سے تیل اُنڈیلنا اَورجو بھر جائے اُسے اُٹھاکر ایک طرف الگ رکھ دینا۔“
5 تَب وہ عورت اُن کے پاس سے چلی گئی اَور اَپنے بیٹوں کے ساتھ اَپنے گھرجاکر اَندر سے دروازہ بند کر لیا۔ اَور اُس کے بیٹے اُس کے پاس برتن لاتے گیٔے اَور وہ اُن میں تیل اُنڈیلتی گئی۔ 6 جَب تمام برتن بھر گیٔے، تو اُس نے اَپنے بیٹوں سے کہا، ”میرے پاس ایک اَور برتن لاؤ۔“
7 تَب اُس عورت نے جا کر مَرد خُدا کو خبر دی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا، ”جاؤ، یہ تیل بیچ کر اَپنا قرض اَدا کر دو۔ اَورجو تیل باقی بچ جایٔے، اُس سے تُم اَور تمہارے بیٹے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔“
11 پھر ایک دِن جَب الِیشعؔ وہاں تشریف لایٔے تو اُوپر گیٔے اَور اُس کمرہ میں آرام کیا۔ 12 اَور الِیشعؔ نے اَپنے خادِم گیحازیؔ سے فرمایا، ”اُس شُونمیت عورت کو بُلا لاؤ۔“ گیحازیؔ نے اُسے بُلایا اَور وہ آکر اُن کے سامنے کھڑی ہوئی۔ 13 الِیشعؔ نے گیحازیؔ سے فرمایا، ”تُم اُس سے کہو، ’تُم نے ہمارے لیٔے اِس قدر جو تکلیف اُٹھائی ہے، اِس کے لیٔے ہم شُکرگزار ہیں؛ تو اَب ہم تمہارے لیٔے کیا کر سکتے ہیں، کیا ہم بادشاہ سے یا فَوج کے سپہ سالار سے کسی مسئلہ میں تمہاری سِفارش کریں؟‘ “
14 تَب الِیشعؔ نے گیحازیؔ سے دریافت کیا، ”اِس عورت کے لیٔے کیا کیا جا سکتا ہے،“
15 الِیشعؔ نے کہا، ”اُسے یہاں بُلاؤ۔“ لہٰذا اُس نے اُسے بُلایا اَور وہ آکر دروازہ پر کھڑی ہو گئی۔ 16 الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”اگلے سال اِسی موسم بہار میں اِسی وقت تمہاری گود میں ایک بیٹا ہوگا۔“
17 مگر وہ عورت حاملہ ہُوئی اَور اگلے سال اُسی موسم بہار میں، عَین وقت پر اُس نے ایک بیٹے کو پیدا کیا، جَیسا الِیشعؔ نے اُس سے فرمایا تھا۔
18 جَب وہ لڑکا بڑا ہُوا تو ایک دِن وہ نِکلا اَور اَپنے باپ کے پاس کھیت کی کٹائی کرنے والوں کے درمیان چلا گیا۔ 19 یَکایک اُس نے اَپنے باپ سے شکایت کی، ”ہائے میرا سَر، میرا سَر!“
22 اُس نے اَپنے خَاوند کو بُلایا اَور کہا، ”مہربانی سے ایک نوکر اَور ایک گدھا میرے پاس بھیج دو تاکہ میں فوراً مَرد خُدا کے پاس جا سکوں اَور واپس آ سکوں۔“
23 اُس نے دریافت کیا، ”تُم آج ہی اُن کے پاس کیوں جانا چاہتی ہو، آج نہ تو نئے چاند کا دِن ہے اَور نہ ہی سَبت۔“
24 اَور اُس نے گدھے پر زین کس کر اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ”گدھے کو تیز ہانکو، اَور جَب تک میں نہ کہُوں سواری کی رفتار دھیمی نہ ہونے پایٔے۔“ 25 چنانچہ وہ روانہ ہُوئی اَور کوہِ کرمِلؔ پر مَرد خُدا کے نزدیک پہُنچی۔
27 تَب جُوں ہی وہ پہاڑ پر مَرد خُدا کے پاس پہُنچی تو اُس نے اُن کے پاؤں پکڑ لیٔے۔ جَب گیحازیؔ اُسے ہٹانے کے لیٔے آگے بڑھا، تَب مَرد خُدا نے اُس سے فرمایا، ”اِسے چھوڑ دو! کیونکہ وہ بہت غمگین ہے، مگر یَاہوِہ نے یہ بات مُجھ سے غیب ہی رکھی اَور مُجھ پر ظاہر نہیں کی۔“
28 تَب وہ عورت کہنے لگی، ”میرے آقا! کیا مَیں نے آپ سے بیٹے کی مِنّت کی تھی، کیا مَیں نے پہلے آپ سے نہیں کہاتھا، ’میری اُمّید کو نہ بڑھائیں؟‘ “
29 تَب الِیشعؔ نے گیحازیؔ کو حُکم دیا، ”اَپنی کمر کس لے اَور میرا عصا ہاتھ میں لے کر دَوڑتے ہویٔے جاؤ۔ اگر کویٔی تُمہیں راستہ میں ملے تو اُس سے حال چال جاننے کے لیٔے جَواب نہ دینا اَور اگر کویٔی تُمہیں سلام کرے تو جَواب نہ دینا۔ تُم فوراً جا کر میرا عصا اُس لڑکے کے چہرے پر رکھ دینا۔“
30 لیکن لڑکے کی ماں نے الِیشعؔ سے کہا، ”یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کے جان کی قَسم، مَیں آپ کے بغیر گھر واپس نہیں جاؤں گی۔“ تَب الِیشعؔ اُٹھ کر اُس عورت کے ساتھ روانہ ہویٔے۔
31 اَور گیحازیؔ نے اُن سے پہلے پہُنچ کر اُس لڑکے کے مُنہ پر عصا کو رکھ دیا، مگر وہاں نہ تو کویٔی آواز سُنایٔی دی اَور نہ ہی لڑکے کے اَندر زندہ ہونے کی کویٔی نِشانی دِکھائی دی۔ لہٰذا گیحازیؔ نے واپس لَوٹ کر الِیشعؔ کو خبر دی، ”لڑکا زندہ نہیں ہُوا۔“
32 جَب الِیشعؔ اُس گھر میں داخل ہویٔے تو لڑکا اُس پلنگ پر مُردہ پڑا ہُوا تھا۔ 33 تَب الِیشعؔ دونوں کو باہر چھوڑکر اکیلے اَندر گیٔے اَور دروازہ بند کرکے یَاہوِہ سے دعا کی۔ 34 پھر وہ پلنگ پر چڑھ کر لڑکے پر لیٹ گیٔے اَور اُس کے مُنہ پر اَپنا مُنہ اَور اُس کی آنکھوں پر اَپنی آنکھیں اَور اُس کے ہاتھوں پر اَپنے ہاتھ رکھ دئیے۔ اَور جَب وہ اُس لڑکے کے اُوپر لیٹ گیٔے، تَب لڑکے کا جِسم گرم ہونے لگا۔ 35 پھر الِیشعؔ اُٹھے اَور کمرہ کے اَندر ٹہلنے لگے پھر دوبارہ پلنگ پر چڑھ کر اُس لڑکے کے اُوپر لیٹ گیٔے۔ تَب اُس لڑکے نے سات بار چھینکا اَور اَپنی آنکھیں کھول دیں۔
36 الِیشعؔ نے گیحازیؔ کو بُلاکر حُکم دیا، ”اُس شُونمیت عورت کو بُلاؤ۔“ تَب گیحازیؔ نے اُسے بُلایا اَور جَب وہ کمرے کے اَندر آئی تو الِیشعؔ نے اُس عورت سے کہا، ”اَپنے بیٹے کو اُٹھالو۔“ 37 وہ اَندر آئی اَور الِیشعؔ کے قدموں پر گِر کر سَجدہ کیا۔ اَور پھر اَپنے بیٹے کو اُٹھاکر باہر چلی گئی۔
39 اَور اُن میں سے ایک خادِم کچھ ساگ پات جمع کرنے کے لیٔے باہر کھیتوں میں گیا اَور اُسے ایک جنگلی بیل مِلی، جِس میں سے اُس نے بھاری تعداد میں جنگلی لَوکی توڑ کر اَپنا دامن بھر لیا اَور جَب وہ واپس آیا تو اُنہیں کاٹ کر دیگ میں ڈال دیا۔ اَور کسی کو بھی مَعلُوم نہ تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ 40 اَور جَب وہ ترکاری اُن آدمیوں میں بانٹی گئی اَور جُوں ہی اُنہُوں نے کھانا شروع کیا تو وہ چِلّا اُٹھے، ”اَے مَرد خُدا، اِس دیگ میں زہر ہے۔“ چنانچہ وہ اُسے کھا نہ سکے۔
41 تَب الِیشعؔ نے حُکم دیا، ”تھوڑا آٹا لاؤ،“ اَور اُنہُوں نے اُس آٹے کو دیگ میں ڈال کر فرمایا، ”اَب اِسے کھانے کے لیٔے لوگوں میں بانٹ دو۔“ کیونکہ اَب دیگ کا کھانا کھانے لائق ہو چُکاہے۔
43 اُن کے خادِم نے دریافت کیا، ”اِتنا کم کھانا میں سَو آدمیوں کے سامنے کیسے رکھ سَکتا ہُوں؟“
Languages