3 تَب بیت ایل کے نبیوں کی ایک جماعت الِیشعؔ کے پاس آئی اَور اُن سے دریافت کیا، ”کیا آپ کو مَعلُوم ہے کہ آج یَاہوِہ تمہارے آقا کو تُم سے اُٹھانے والے ہیں؟“
4 پھر ایلیّاہ نے فرمایا، ”اَے الِیشعؔ! تُم یہیں ٹھہرو کیونکہ یَاہوِہ مُجھے یریحوؔ کو بھیج رہے ہیں۔“
5 اَور یریحوؔ کے نبیوں کی ایک جماعت الِیشعؔ کے پاس آئی اَور اُن سے دریافت کیا، ”کیا آپ کو مَعلُوم ہے کہ آج یَاہوِہ تمہارے آقا کو تُم سے اُٹھانے والے ہیں؟“
6 تَب ایلیّاہ نے الِیشعؔ سے فرمایا، ”تُم یہیں ٹھہرو، کیونکہ یَاہوِہ مُجھے یردنؔ کو بھیج رہے ہیں۔“
7 نبیوں کی جماعت میں سے پچاس شخص بھی چل دیئے اَور جا کر کچھ فاصلے پر اُن کی طرف رُخ کرکے کھڑے ہو گیٔے، جہاں یردنؔ کے کنارے ایلیّاہ اَور الِیشعؔ کھڑے تھے۔ 8 اَور ایلیّاہ نے اَپنی چادر لی اَور اُسے لپیٹ کر پانی پر مارا اَور دریا کا پانی دو حِصّوں میں داہنی اَور بائیں طرف تقسیم ہوکر رُک گیا اَور وہ دونوں خشک زمین پر چل کر پار ہو گئے۔
9 اَور جَب وہ دریا کے پار پہُنچ گیٔے تو ایلیّاہ نے الِیشعؔ سے دریافت کیا، ”اِس سے پیشتر کہ میں تُم سے جُدا ہو جاؤں، مُجھے بتاؤ کہ مَیں تمہارے لیٔے کیا کروں؟“
10 ایلیّاہ نے کہا، ”تُم نے ایک مُشکل چیز مانگی ہے۔ تو بھی اگر تُم مُجھے خُود سے جُدا ہوتے اَور اُٹھائے جاتے دیکھ لوگے تَب تمہارے لیٔے اَیسا ہی ہوگا ورنہ نہیں۔“
11 اَور جَب وہ باتیں کرتے ہُوئے جا رہے تھے تو اَچانک ایک آتِشی رتھ اَور آتِشی گھوڑے نموُدار ہُوئے اَور اُن دونوں کو ایک دُوسرے سے جُدا کر دیا اَور ایلیّاہ ایک گِردباد میں سوار ہوکر آسمان میں اُٹھا لیٔے گیٔے۔ 12 الِیشعؔ یہ ماجرا دیکھ کر چِلّا اُٹھے، ”میرے باپ، میرے باپ! بنی اِسرائیل کے رتھ اَور اُس کے گُھڑسوار!“ اِس کے بعد الِیشعؔ نے ایلیّاہ کو پھر کبھی نہ دیکھا۔ تَب الِیشعؔ نے اَپنے کپڑوں کو پھاڑ کر اُن کے دو حِصّے کر ڈالے۔
13 الِیشعؔ نے اُس چادر کو جو ایلیّاہ کے بَدن سے نیچے گِری تھی، اُٹھالیا اَور پھر واپس لَوٹ کر یردنؔ کے کنارے کھڑا ہُوا۔ 14 تَب الِیشعؔ نے اُس چادر کو جو ایلیّاہ کے بَدن سے نیچے گِری تھی لیا اَور اُس سے پانی پر مار کر کہا، ”ایلیّاہ کے یَاہوِہ، خُدا اَب کہاں ہیں؟“ اَور جَب اُس نے پانی پر مارا تو یردنؔ کا پانی دو حِصّوں میں داہنی اَور بائیں طرف تقسیم ہو گیا اَور الِیشعؔ اُس کے پار چلے گیٔے۔
15 اَور یریحوؔ کے نبیوں کی جماعت جو یہ سَب دیکھ رہی تھی، وہ چِلّاکر کہنے لگی، ”ایلیّاہ کی رُوح الِیشعؔ پر ٹھہری ہُوئی ہے،“ اَور وہ الِیشعؔ سے مُلاقات کرنے آئے اَور زمین تک جھُک کر اُن کا اِستِقبال کیا۔ 16 نبیوں کی جماعت نے کہا، ”دیکھئے، ہم آپ کے خادِم ہیں، ہمارے پاس پچاس طاقتور جَوان ہیں۔ اُنہیں اِجازت دیں کہ وہ جائیں اَور آپ کے آقا کو تلاش کریں۔ ممکن ہے کہ یَاہوِہ کی رُوح نے اُنہیں اُٹھاکر کسی پہاڑ پر یا کسی وادی میں پہُنچا دیا ہو۔“
17 لیکن اُنہُوں نے یہاں تک ضِد کی کہ الِیشعؔ اِنکار نہیں کر سکے۔ چنانچہ اُنہُوں نے کہا، ”اَچھّا، اُنہیں بھیج دو۔“ اَور اُنہُوں نے پچاس طاقتور شخص بھیج دیئے۔ جنہوں نے تین دِن تک ایلیّاہ کو تلاش کیا مگر نہ پایا۔ 18 اَور جَب وہ لَوٹ کر الِیشعؔ کے پاس آئے جو یریحوؔ میں ٹھہرے ہویٔے تھے، تَب الِیشعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا مَیں نے تُمہیں جانے سے نہیں روکا تھا؟“
20 الِیشعؔ نے فرمایا، ”میرے پاس ایک نئے پیالے میں نمک ڈال کر لاؤ۔“ چنانچہ وہ اُسے اُن کے پاس لے آئے۔
21 پھر الِیشعؔ پانی کے چشمہ کے پاس گیٔے اَور یہ کہتے ہُوئے اُس چشمہ میں نمک ڈال دیا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ’مَیں نے اِس پانی کی آلُودگی کو دُرست کر دیا[a] ہے۔ آئندہ یہ کبھی موت یا زمین کے بنجر پن کا باعث نہ ہوگا۔‘ “ 22 اِس لیٔے الِیشعؔ کے اُس کلام کے مُطابق اُس چشمہ سے شفّاف پانی آج تک نکل رہاہے۔
- a اِس پانی کی آلُودگی کو دُرست کر دیا یعنی پانی دُرست کر دیا
Languages