2 تَب کچھ لوگوں نے آکر یہوشافاطؔ کو خبر دی، ”سمُندر پار اِدُوم یا ارام کی طرف سے آپ پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکرِ جبّار چلا آ رہاہے اِس وقت وہ فَوج یعنی حَصّونؔ تامارؔ عینؔ گیدیؔ“ میں پہُنچ چُکی ہے۔ 3 یہوشافاطؔ نے خوفزدہ ہوکر یَاہوِہ سے مدد مانگنے کا اِرادہ کیا اَور سارے یہُودیؔہ کے شہروں میں روزہ رکھنے کی مُنادی کرائی۔ 4 چنانچہ سارے یہُودیؔہ کے لوگ یَاہوِہ سے مدد مانگنے کے لیٔے جمع ہُوئے؛ حقیقت تو یہ ہے کہ یہُودیؔہ کا کویٔی بھی شہر اَیسا نہ تھا جہاں سے لوگ یَاہوِہ سے مدد مانگنے نہ آئے ہُوں۔
5 تَب یہوشافاطؔ یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کی جماعت کے درمیان یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں نئے صحن کے آگے دعا کرنے کھڑا ہُوا 6 اَور یُوں فریاد کی:
13 اِس وقت سارے یہُودیؔہ کے تمام مَرد اَپنی بیویوں، چُھوٹے بچّوں کے ساتھ یَاہوِہ کے حُضُور میں کھڑے تھے۔
14 تَب بنی آسفؔ میں سے ایک لیوی یحزی ایل بِن زکریاؔہ بِن بِنایاہؔ بِن یعی ایل بِن متّنیاہؔ پرجو جماعت میں کھڑا تھا یَاہوِہ کی رُوح نازل ہُوئی۔
15 اَور یحزی ایل جماعت سے مُخاطِب ہوکر کہنے لگا: ”اَے یہوشافاطؔ بادشاہ اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے تمام باشِندو، سُنو! ’تمہارے لئے یَاہوِہ کا پیغام یہ ہے، اِس لشکرِ جبّار سے خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو کیونکہ یہ جنگ تمہاری نہیں بَلکہ یَاہوِہ کی ہے۔ 16 کل تُم اُن کا سامنا کرنے کے لیٔے جانا۔ وہ صیصؔ کے درّہ کے طرف سے حملہ کرنے کو آ رہے ہوں گے۔ تُم اُنہیں یروئیلؔ کے ریگستان کے سامنے والی وادی کے سِرے پر پاؤگے۔ 17 اَے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ تُمہیں جنگ کرنے کی ضروُرت نہیں۔ بس صفیں باندھ کر اُنہیں دُرست کر لینا اَور چُپ چاپ کھڑے رہنا اَور اُس نَجات کو دیکھنا جو یَاہوِہ تُمہیں مُہیّا کریں گے۔ تُم خوف نہ کرو اَور نہ ہِراساں ہو۔ کل اُن کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے نکلنا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے ساتھ ہوں گے۔‘ “
18 یہوشافاطؔ یہ سُن کر زمین پر سَجدہ میں چلا گیا اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے تمام لوگوں نے یَاہوِہ کے آگے گِر کر اُنہیں سَجدہ کیا۔ 19 پھر قُہاتی اَور قورحؔی کے کچھ لیوی کھڑے ہوکر بڑی بُلند آواز سے یَاہوِہ، اِسرائیل کے خُدا کی حَمد و سِتائش کرنے لگے۔
20 اَور وہ صُبح سویرے اُٹھ کر دشتِ تقوعؔ کے لیٔے روانہ ہُوئے اَور چلتے وقت یہوشافاطؔ نے کھڑے ہوکر اُن سے فرمایا، ”اَے یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے باشِندو، میری سُنو، یَاہوِہ اَپنے خُدا پر ایمان رکھّو تو تُم سلامت رہوگے۔ اُن کے نبیوں کا یقین کرو تو تُم کامیاب ہوگے۔“ 21 لوگوں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد یہوشافاطؔ نے کچھ لوگوں کو مُقرّر کیا کہ وہ پاکیزگی سے آراستہ ہوکر لشکر کے آگے آگے چلتے ہُوئے حُسن تقدُّس کے ساتھ یَاہوِہ کے لیٔے گائیں اَور اُن کی سِتائش کریں اَور کہیں:
22 اَور جَب اُنہُوں نے نغمہ گائے اَور حَمد کرنا شروع کیا تو یَاہوِہ نے عمُّون، مُوآب اَور کوہِ سِعِیؔر کے لوگوں کے خِلاف جو یہُودیؔہ پر حملہ کر کرنے آ رہے تھے گھات لگا کر حملہ کرنے والے چھاپہ مار فَوج بِٹھا رکھی تھی جِس نے حملہ کیا اَور عمُّون، مُوآب اَور کوہِ سِعِیؔر کے لوگ مارے گیٔے۔ 23 کیونکہ عمُّون اَور مُوآب کے لوگ کوہِ سِعِیؔر کے باشِندوں کے خِلاف اُٹھ کھڑے ہُوئے تاکہ اُنہیں نِیست و نابود کر دیں اَور جَب وہ کوہِ سِعِیؔر کے باشِندوں کو قتل کر چُکے تو ایک دُوسرے کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔
24 جَب یہُودیؔہ کے لوگ ایک پہرےداروں کے بُرج پر پہُنچے جو بیابان میں تھا اَور جہاں سے بیابان صَاف صَاف نظر آ رہاتھا اَور جَب اُنہُوں نے اُس لشکرِ جبّار پر نظر کی تو دیکھا کہ زمین پر ہر طرف لاشیں بِکھری پڑی ہیں اَور اُن میں کویٔی بھی زندہ نہ بچا تھا۔ 25 اَور جَب یہوشافاطؔ اَور اُس کے لوگ اَپنا مالِ غنیمت لینے کے لیٔے گیٔے تو اُنہیں لاشوں کے درمیان اِس کثرت سے سازوسامان اَور کپڑے اَور قیمتی اَشیا ملیں کہ وہ اُنہیں اُٹھاکر لے جا بھی نہ سکتے تھے۔ اَور مالِ غنیمت اِس قدر زِیادہ تھا کہ اُسے جمع کرنے میں تین دِن لگ گیٔے۔ 26 اَور چوتھے دِن وہ براکاہؔ کی وادی میں جمع ہُوئے اَور وہاں اُنہُوں نے یَاہوِہ کی حَمد و سِتائش کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دِن تک وہ وادی براکاہؔ[a] کہلاتی ہے۔
27 اُس کے بعد یہوشافاطؔ کی قیادت میں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب باشِندے خُوشی خُوشی یروشلیمؔ کو لَوٹے کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں اَپنے دُشمنوں پر خُوشی منانے کا ایک موقع بخشا تھا۔ 28 اَور وہ یروشلیمؔ میں داخل ہُوئے اَور سِتار، بربط اَور نرسنگے لیٔے ہُوئے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں آئے۔
29 اَور جَب اُنہُوں نے سُنا کہ اِسرائیل کے دُشمنوں کے خِلاف یَاہوِہ نے جنگ کی ہے تو اُن ممالک کی تمام سلطنتوں پر خُدا کا خوف چھا گیا۔ 30 اَور یہوشافاطؔ کی سلطنت میں اَمن قائِم رہا کیونکہ اُن کے خُدا نے اُسے چاروں طرف سے سلامتی بخشی تھی۔
34 یہوشافاطؔ کے دَورِ حُکومت کے دیگر واقعات شروع سے لے کر آخِر تک یِہُو بِن حنانیؔ کی تاریخ میں درج ہیں جو اِسرائیل کے بادشاہوں کی کِتاب میں درج ہے۔
35 اِس کے کچھ عرصے بعد شاہِ یہُودیؔہ یہوشافاطؔ نے اِسرائیل کے بادشاہ احزیاہؔ سے جو بڑا بدکار تھا اِتّحاد کر لیا۔ 36 اَور اُس کے ساتھ مِل کر ایک تجارتی بحری جہاز تعمیر کرنے کو راضی ہُوئے تاکہ ترشیشؔ سے مال منگوایا جائے۔ جَب بڑے بحری جہاز عضیُون گیبر میں تعمیر ہوکر تیّار ہو گیٔے۔ 37 تَب الیعزرؔ بِن دُوداواہوؔ نے جو مریشہؔ کا تھا یہوشافاطؔ کے خِلاف یہ کہتے ہُوئے نبُوّت کی، ”چونکہ آپ نے احزیاہؔ سے اِتّحاد کیا ہے اِس لیٔے یَاہوِہ تمہارے اِرادوں کو خاک میں مِلا دیں گے۔“ پس وہ جہاز تباہ ہو گئے اَور ترشیشؔ کے لیٔے روانہ نہ ہو سکے۔
<- 2 تواریخ 192 تواریخ 21 ->- a وادی براکاہؔ مُراد وادی حَمد
Languages