3 یروشلیمؔ میں داویؔد نے اَور بیویاں بیاہ لیں اَور اِس طرح وہ کیٔی بیٹوں اَور بیٹیوں کا باپ بَن گئے۔ 4 وہاں یروشلیمؔ میں اُن کے جو بچّے پیدا ہُوئے اُن کے نام یہ ہیں: شَمّوعؔ، شوبابؔ، ناتنؔ اَور شُلومونؔ، 5 اِبحارؔ، الِیشُوعؔ، الیپلطؔ، 6 نوگاہؔ، نِفیگ، یافیعؔ، 7 اِلیشمعؔ، بیعلیادعؔ[a] اَور الیفلطؔ۔
11 اِس لئے داویؔد اَور اُس کے جَوان بَعل پراضیمؔ کو گئے اَور وہاں اُس نے اُنہیں شِکست دی اَور کہا، ”جَیسے اَچانک سیلاب کا پانی پھوٹ کر بہہ نکلتا ہے، وَیسے ہی خُدا نے میرے ہاتھ سے میرے دُشمنوں کو پھاڑ ڈالا ہے۔“ اِس لیٔے وہ جگہ بَعل پراضیمؔ[b] کہلائی۔ 12 فلسطینی اَپنے معبُود وہاں چھوڑ گیٔے تھے جنہیں داویؔد کے حُکم سے آگ کے سُپرد کیا گیا۔
13 فلسطینی ایک دفعہ پھر آئے اَور اُس وادی میں داخل ہو گئے۔ 14 داویؔد نے خُدا سے پھر پُوچھا اَور خُدا نے اُسے جَواب دیا، ”تُم اُن کا پیچھا کرنے کے بجائے کَترا کر آگے نکل جانا اَور بید کے درختوں کے سامنے سے اُن پر حملہ کرنا۔ 15 اَور جُوں ہی تُم بید کے درختوں کی پھُنگیوں میں قدموں کی آواز سُنو تو جلدی سے حرکت میں آجانا تاکہ وہ سمجھ لیں کہ یَاہوِہ فلسطینیوں کی فَوج کو مارنے کے لیٔے تمہارے آگے گئے ہیں۔“ 16 اَور داویؔد نے جَیسا خُدا نے اُسے فرمایا تھا کیا اَور وہ اَور اُس کے جَوان فلسطینیوں کی فَوج کو گِبعونؔ سے گِزرؔ تک قتل کرتے چلے گیٔے۔
17 داویؔد کی شہرت سَب مُلکوں میں پھیل گئی اَور یَاہوِہ نے سَب قوموں پر اُس کا خوف بِٹھا دیا۔
<- 1 تواریخ 131 تواریخ 15 ->
Languages