5 تَب داویؔد نے مِصر کے دریا شیحُورؔ سے لے کر لیبو حماتؔ تک تمام اِسرائیلیوں کو جمع کیا تاکہ خُدا کے عہد کے صندُوق کو قِریت یعریمؔ سے لے آئیں۔ 6 اَور داویؔد اَور اُس کے ساتھ تمام اِسرائیلی بعلہؔ یعنی قِریت یعریمؔ کو جو یہُوداہؔ میں ہے گیٔے تاکہ یَاہوِہ خُدا کے عہد کے صندُوق کو وہاں سے لے آئیں جو وہاں کروبیوں کے درمیان تخت نشین یَاہوِہ کے نام سے مشہُور ہے۔
7 اَور وہ خُدا کے صندُوق کو ابینادابؔ کے گھر سے ایک نئی بَیل گاڑی پر رکھ کر باہر نکلے جسے عُزّاہ اَور اخیوؔ ہانک رہے تھے۔ 8 اَور داویؔد اَور تمام بنی اِسرائیل خُدا کے حُضُور خُوب زور زور سے نغمہ گاتے اَور بربط، سِتار، دف، جھانجھ بجاتے اَور نرسنگے پھُونکتے ہُوئے چلے آتے تھے۔
9 جَب وہ کیدونؔ کے کھلیان پر پہُنچے تو عُزّاہ نے صندُوق کو سنبھالنے کے لیٔے اَپنا ہاتھ بڑھایا کیونکہ بَیلوں نے ٹھوکر کھائی تھی۔ 10 تَب یَاہوِہ کا قہر عُزّاہ پر بھڑکا اَور یَاہوِہ نے اُسے مار ڈالا۔ کیونکہ اُس نے صندُوق کو ہاتھ لگا کر غلطی کی تھی اِس لیٔے وہ وہیں خُدا کے حُضُور مَر گیا۔
11 داویؔد اِس بات سے بڑا غمگین ہُوا کیونکہ یَاہوِہ کا قہر عُزّاہ کے خِلاف بھڑکا تھا لہٰذا وہ جگہ آج تک پیریزؔ عُزّاہ[a] کہلاتی ہے۔
12 اُس دِن داویؔد خُدا سے ڈر گئے اَور کہنے لگے کہ، ”میں خُدا کے عہد کے صندُوق کو اَپنے یہاں کیسے لاؤں؟“ 13 چنانچہ داویؔد خُدا کے عہد کے صندُوق کو اَپنے یہاں شہر داویؔد میں نہ لائے بَلکہ اُسے باہر ہی باہر گِتّی عوبیدؔ اِدُوم کے گھر لے گئے۔ 14 پس خُدا کے عہد کا صندُوق عوبیدؔ اِدُوم کے گھرانے کے ساتھ اُس گھر میں تین مہینے تک رکھا رہا اَور یَاہوِہ نے عوبیدؔ اِدُوم کے گھرانے اَور اُس کی ساری چیزوں کو برکت دی۔
<- 1 تواریخ 121 تواریخ 14 ->- a پیریزؔ عُزّاہ عُزّاؔ کا قہر بھڑکا
Languages