2 مُوآبی رُوتؔ نے نعومیؔ سے کہا: ”مُجھے اِجازت دے کہ میں کھیتوں میں جاؤں اَور جِس کسی کی بھی مُجھ پر نظرِ عنایت ہو اُس کے پیچھے پیچھے گری ہوئی بالیں چُننے لگوں۔“
4 اُسی دَوران بُوعزؔ بیت لحمؔ سے آ گیا۔ اُس نے فصل کاٹنے والوں سے کہا: ”یَاہوِہ تمہارے ساتھ ہو!“
5 بُوعزؔ نے اَپنے داروغہ سے جو کاٹنے والوں کا نِگران تھا، ”دریافت کیا یہ نوجوان خاتُون کون ہے؟“
6 داروغہ نے جَواب دیا، ”یہ وہ مُوآبی خاتُون ہے جو نعومیؔ کے ساتھ مُوآب کے مُلک سے آئی ہے۔ 7 اُس نے مُجھ سے اِلتجا کی تھی، ’میں اُسے کاٹنے والوں کے پیچھے پُولوں کے بیچ گری ہُوئی بالیں چُن کر جمع کرنے دُوں۔‘ چنانچہ وہ کھیت میں گئی اَور صُبح سے اَب تک لگاتار کام کر رہی ہے۔ ہاں تھوڑے وقفہ کے لیٔے اُس نے ڈیرے میں ضروُر آرام کیا تھا۔“
8 اِس پر بُوعزؔ نے رُوتؔ سے کہا: ”میری بیٹی میری بات سُن! اَب کسی دُوسرے کھیت میں بالیں چُننے مت جانا۔ میری خادِماؤں کے ساتھ یہیں رہنا۔ 9 اُس کھیت پر جہاں فصل کاٹی جا رہی ہے نظر رکھنا اَور لڑکیوں کے پیچھے پیچھے رہنا۔ مَیں نے لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ تُجھے کویٔی نہ چھیڑے۔ اَور جَب تُجھے پیاس لگے تو جا کر اُن صُراحیوں میں سے پانی پی لینا جو میرے خادِموں نے بھر کر رکھی ہیں۔“
10 تَب رُوتؔ سَر جھُکا کر آداب بجا لائی اَور کہنے لگی، ”کیا وجہ ہے کہ تُم مُجھ پردیسن پر اِس قدر مہربانی کر رہےہو؟“
11 بُوعزؔ نے کہا: ”تُم نے اَپنے خَاوند کی موت کے بعد اَپنی ساس کے ساتھ جو سلُوک کیا وہ مُجھے اَچھّی طرح مَعلُوم ہے اَور مَیں یہ بھی جانتا ہُوں کہ تُم کس طرح اَپنے ماں باپ اَور اَپنے وطن کو چھوڑکر اُن لوگوں کے درمیان رہنے کو آئی جنہیں تُم پہلے جانتی بھی نہ تھی۔ 12 یَاہوِہ تُجھے تیرے نیک اعمال کا صِلہ دے اَور اِسرائیل کا خُدا جِس کے سایہ میں تُم پناہ لینے آئی ہے تُجھے اَپنی بخششوں سے مالا مال کر دے۔“
13 اُس نے کہا: ”میرے آقا! مُجھ پر تمہاری نظرِکرم رہے اَور حالانکہ مَیں تمہاری خادِماؤں میں بھی کسی کی برابری کے لائق نہیں تو بھی تُم نے لونڈی سے شفقت بھری باتیں کرکے اُسے تسلّی دی۔“
14 کھانے کے وقت بُوعزؔ نے اُس سے کہا، ”آؤ، کچھ روٹی کھالو اَور اَپنا نوالہ سِرکہ میں بھگو لو۔“
17 چنانچہ رُوتؔ شام تک کھیت میں بالیں چُنتی رہی۔ پھر اُس نے جو کچھ چُنا تھا اُسے پھٹکا اَور اُس میں سے تقریباً ایک ایفہ[a] کے برابر جَو نکلے۔ 18 جو کچھ اُس نے جمع کیا تھا وہ اُسے اُٹھاکر شہر لے گئی اَور اَپنی ساس کو دِکھایا۔ رُوتؔ نے وہ بھُنا ہُوا اناج بھی جو اُس نے پیٹ بھر کر کھانے کے بعد بچا لیا تھا نکالا اَور اُسے دے دیا۔
19 اُس کی ساس نے اُس سے پُوچھا: ”آج تُم نے کہاں بالیں چُنیں اَور کہاں کام کیا؟ مُبارک ہے وہ آدمی جِس نے تُجھ پر مہربانی کی!“
20 نعومیؔ نے اَپنی بہُو سے کہا، ”یَاہوِہ اُسے برکت دے!“ پھر یہ بھی کہا ”اُس نے زندوں اَور مُردوں دونوں پر مہربانی کی۔ وہ آدمی ہمارا قریبی سرپرست رشتہ دار ہے اَور ہمارے عزیزوں اَور مُربّیوں[b] میں سے ہے۔“
21 تَب مُوآبی رُوتؔ نے کہا، ”اُس نے مُجھ سے یہ بھی کہا، ’جَب تک اُس کے مزدُور اُس کی ساری فصل کاٹ نہ لیں میں اُن کے ساتھ رہُوں۔‘ “
22 نعومیؔ نے اَپنی بہُو رُوتؔ سے کہا: ”میری بیٹی یہ تیرے حق میں اَچھّا ہوگا کہ تُم اُسی کی خادِماؤں کے ساتھ جائے کیونکہ ہو سَکتا ہے کہ کسی اَور کے کھیت میں تُجھے نُقصان پہُنچے۔“
23 چنانچہ رُوتؔ جَو اَور گیہُوں کی ساری فصل کٹنے تک بُوعزؔ کی خادِماؤں کے ساتھ رہ کر بالیں چُنتی رہی اَور اَپنی ساس کے پاس رہتی تھی۔
<- رُوتؔ 1رُوتؔ 3 ->
Languages