1 اِس کے بعد مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا۔ وہ بڑا صاحبِ اِختیار تھا۔ اَور اُس کے جلال سے ساری زمین رَوشن ہو گئی۔ 2 اُس نے بُلند آواز سے اعلان کیا،
کیونکہ اُس کی عدالت کرنے والا خُداوؔند خُدا زورآور ہے۔
بابیل کی تباہی پر تین گُنا افسوس
9 ”جَب رُوئے زمین کے بادشاہ جنہوں نے اُس کے ساتھ زنا کیا اَور اُس کی عیّاشی میں شریک ہویٔے تھے، اُس کے جلنے کا دُھواں دیکھیں گے تو روئیں گے اَور اُس پر ماتم کریں گے۔“ 10 اَور اُس کے عذاب سے دہشت زدہ ہوکر دُور جا کھڑے ہوں گے اَور کہیں گے،
” ’افسوس، افسوس، اَے عظیم شہر،
اَے بابیل، اَے شہر قُوّت!
گھڑی بھر میں ہی تُجھے سزا مِل گئی!‘
11 ”رُوئے زمین کے تاجران اُس پر روئیں گے اَور ماتم کریں گے کیونکہ اُن کا مال اَب کویٔی نہیں خریدتا: 12 جو سونے، چاندی، جواہر، موتیوں اَور مہین کتانی، اَرغوانی، ریشمی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے، ہر طرح کی خُوشبودار لکڑیاں، ہاتھی دانت کی بنی ہُوئی چیزیں، اَور نہایت بیش قیمتی لکڑی، پیتل، لوہے اَور سنگِ مرمر کی قِسم قِسم کی چیزیں، 13 دارچینی، مَسالوں، عُود، مُر، لوبان، مَے، زَیتُون کا تیل، بہترین مَیدہ اَور گندُم، مویشیوں، بھیڑوں، گھوڑوں، گاڑیوں، اَور اِنسانوں کو جنہیں غُلاموں کی مانند بیچا جاتا تھا، اُن کا کویٔی خریدار نہ رہا۔
14 ”زمین کے تاجران شہر عظیم بابیل سے کہیں گے، ’تمہارے دِل پسند میوے اَب تمہارے پاس سے دُورہو گیٔے۔ اَور تمہاری تمام شان و شوکت اَور لذیذ چیزیں تمہارے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اَب وہ تُمہیں کبھی حاصل نہ ہوں گی۔‘ 15 اِن چیزوں کے تاجران جو اُسے بیچ کر دولتمند بَن گیٔے تھے، اُس کے عذاب سے دہشت زدہ ہوکر دُور کھڑے ہوکر روئیں گے اَور ماتم کریں گے 16 اَور چِلّاکر کہیں گے،
” ’افسوس، افسوس، وہ عظیم شہر،
جو مہین کتانی، اَرغوانی اَور قِرمزی کپڑے پہنے ہویٔے تھا،
اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھا!
17 گھڑی بھر میں ہی اُس کی اِتنی بڑی دولت برباد ہو گئی!‘
”سَب بحری جہاز کے کپتان، جہازوں کے مُسافر، ملّاح اَور تمام سمُندری مزدُور سَب دُور کھڑے ہوکر، 18 اُس شہر کے جلنے کا دُھواں دیکھیں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ’کیا کبھی کویٔی اِتنا بڑا شہر اِس عظیم شہر کی مانند مَوجُود تھا؟‘ 19 وہ اَپنے سَروں پر خاک ڈالیں گے اَور رو رو کر ماتم کریں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے،
” ’افسوس، افسوس، اَے عظیم شہر!
جِس کی دولت سے تمام بحری جہازوں کے مالک،
مالدار ہو گیٔے،
گھڑی ہی بھر میں وہ شہر تباہ کر دیا گیا!‘
20 ”اَے آسمانوں اُس پر خُوشی مناؤ!
اَے مُقدّسین! اُس پر خُوشی مناؤ!
اَے رسولوں اَور نبیوں! اُس کی تباہی پر خُوشی مناؤ!
کیونکہ خُدا نے اُسے تمہارے ساتھ،
کی ہوئی بدسلُوکی کی سزا اُسے دے دی ہے۔“
عظیم شہر بابیل کا آخِری اَنجام
21 پھر ایک اَور فرشتہ نے بڑی چکّی کے پاٹ کی مانند ایک پتّھر اُٹھایا اَور یہ کہہ کر اُسے سمُندر میں پھینک دیا،
”بابیل کا عظیم شہر بھی
اِسی طرح زور سے گرایا جائے گا،
اَور پھر اُس کا کبھی پتا نہ چلے گا۔“
22 اَور بربط نوازوں، گاَنے والوں، بانسری نوازوں
اَور نرسنگا پھُونکنے والوں کی آواز تُجھ میں پھر کبھی سُنایٔی نہ دے گی۔
اَور کسی پیشہ کا کویٔی کاریگر
تُجھ میں پھر کبھی نہ پایا جائے گا۔
اَور چکّی کی آواز
تُجھ میں پھر کبھی سُنایٔی نہ دے گی۔
23 اَور چراغ کی رَوشنی
تُجھ میں پھر کبھی نہ چمکے گی۔
اَور دُلہا اَور دُلہن کی آوازیں
کبھی تُجھ میں سُنایٔی نہ دیں گی۔
کیونکہ تمہارے تاجران دُنیا کے سَب سے بڑے لوگ تھے۔
اَور تیری جادُوگری سے سَب قومیں گُمراہ ہو گئیں۔
24 ”اَور نبیوں، اَور خُدا کے مُقدّسین اَور زمین کے سارے مقتولوں کا خُون،