4 بادشاہ نے فرمایا، ”تُو کیا چاہتاہے؟“
6 تَب بادشاہ نے جَب کہ ملِکہ بھی اُس کے پاس میں بیٹھی ہُوئی تھی مُجھ سے پُوچھا، ”تیرا سفر کتنی مُدّت کا ہوگا اَور تُو کب واپس آئے گا؟“ بادشاہ مُجھے بھیجنے کے لیٔے رضامند ہو گیا۔ پس مَیں نے اُسے اَپنے رخصت ہونے کی تاریخ بتا دی۔
7 مَیں نے یہ بھی کہا، ”اگر بادشاہ کو پسند آئے تو مُجھے دریائے فراتؔ کے پار کے صُوبہ داروں کے نام لِکھ کر فرمان دیں تاکہ وہ مُجھے آپ کی ریاست سے ہوکر یہُوداہؔ پہُنچنے تک مُجھے حِفاظت سے گزر جانے دیں۔ 8 اَور شاہی جنگل کے مُحافظ آسفؔ کے نام بھی مُجھے فرمان دیا جائے تاکہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں، شہر کی فصیل کے دروازوں اَور میری رہائش گاہ کی چھت کے لیٔے شہتیر بنانے کی لکڑیاں پہُنچائیں؟“ چونکہ میرے خُدا کا مہربان ہاتھ مُجھ پر تھا بادشاہ نے مُجھے فرمان عطا فرمائے۔ 9 چنانچہ مَیں نے دریائے فراتؔ کے پار کے صُوبہ داروں کے پاس جا کر اُنہیں بادشاہ کے فرمان دئیے۔ بادشاہ نے فَوجی افسروں اَور سواروں کو بھی میرے ساتھ بھیجا تھا۔
10 جَب سنبلّطؔ حُورونی اَور طُوبیاہؔ عمُّونی اہلکار نے سُنا کہ کویٔی اِنسان اِسرائیلیوں کی فلاح و بہبُود کے لیٔے کام کرنے آیا ہے تو وہ بڑے برہم ہُوئے۔
13 رات کے وقت وادی کے پھاٹک سے باہر نکل کر میں چشمہ شُغال[a] اَور گوبر کے پھاٹک کو گیا اَور یروشلیمؔ کی فصیل کو جو توڑ دی گئی تھی اَور اُس کے پھاٹکوں کو جو آگ سے جَلا دئیے گیٔے تھے دیکھا۔ 14 پھر مَیں چشمہ کے پھاٹک اَور بادشاہ کے تالاب کی طرف آگے بڑھ گیا۔ لیکن وہاں اُس جانور کے لیٔے جِس پر میں سوار تھا گزرنے کے لیٔے جگہ نہ تھی۔ 15 اِس لیٔے میں رات کے وقت فصیل کا مُعائنہ کرتے ہُوئے وادی کی طرف گیا۔ پھر مَیں مُڑا اَور وادی کے پھاٹک سے داخل ہوکر واپس اَندر آ گیا۔ 16 اَور حُکاّم کو مَعلُوم بھی نہ ہُوا کہ میں کہاں گیا تھا اَور کیا کر رہاتھا کیونکہ ابھی تک مَیں نے یہُودیوں، کاہِنوں، اُمرا، حُکاّم یا دُوسرے کام کرنے والے اَشخاص میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔
17 پھر مَیں نے اُنہیں کہا، ”تُم دیکھتے ہو کہ ہم کیسی مُصیبت میں ہیں یعنی یروشلیمؔ کھنڈر بَن چُکاہے اَور اُس کے پھاٹک آگ سے جَلا دئیے گیٔے ہیں۔ آؤ ہم یروشلیمؔ کی فصیل کو دوبارہ تعمیر کریں تاکہ آئندہ ذِلّت سے بچے رہیں۔“ 18 مَیں نے اُنہیں اَپنے اُوپر خُدا کے مہربان ہاتھ کے متعلّق بھی بتایا اَور یہ بھی بتایا کہ بادشاہ نے مُجھ سے کیا کیا باتیں کہی تھیں۔
19 لیکن جَب سنبلّطؔ حُورونی، طُوبیاہؔ عمُّونی اہلکار اَور گیشمؔ عربی نے یہ سُنا تو اُنہُوں نے ہمارا مذاق اُڑایا اَور بڑی حقارت سے کہنے لگے، ”یہ کیا ہے جو تُم کر رہے ہو؟ کیا تُم بادشاہ کے خِلاف بغاوت کر رہے ہو؟“
20 مَیں نے اُنہیں جَواب میں کہا، ”آسمان کا خُدا ہمیں کامیابی بخشےگا۔ ہم جو اُن کے خادِم ہیں دوبارہ تعمیر شروع کریں گے۔ لیکن جہاں تک تمہارا تعلّق ہے، اِس کام میں تمہارا کویٔی حِصّہ نہیں، نہ ہی تمہارا کویٔی حق ہے نہ ہی یروشلیمؔ میں تمہاری کویٔی یادگار ہے۔“
<- نحمیاہ 1نحمیاہ 3 ->- a شُغال یعنی چشمہ گیدڑ
Languages