6 شَریعت کے بعض عالِم وہاں بیٹھے تھے، وہ دِل میں یہ سوچنے لگے، 7 ”یہ شخص اَیسا کیوں کہتاہے؟ یہ تو کُفر ہے! خُدا کے سِوا کون گُناہ مُعاف کر سَکتا ہے؟“
8 یِسوعؔ نے فوراً ہی اَپنی رُوح سے اُسی وقت مَعلُوم کرکے کہ وہ اَپنے دِلوں میں کیا کُچھ سوچ رہے ہیں، اَور یِسوعؔ نے اُن لوگوں سے کہا، ”تُم اَپنے دِلوں میں اَیسی باتیں کیوں سوچتے ہو؟ 9 کیا مفلُوج سے یہ کہنا آسان ہے، ’تمہارے گُناہ مُعاف ہویٔے‘ یا یہ کہنا، ’اُٹھو! اَپنے بچھونے کو اُٹھاکر چلے جاؤ‘؟ 10 لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ[b] کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ یِسوعؔ نے مفلُوج سے کہا، 11 ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“ 12 وہ آدمی اُٹھا، اَور اُسی گھڑی اَپنے بچھونے کو اُٹھاکر سَب کے سامنے وہاں سے چلا گیا۔ چنانچہ وہ سَب حیران رہ گیٔے اَور خُدا کی تعریف کرتے ہویٔے، کہنے لگے، ”ہم نے اَیسا کبھی نہیں دیکھا!“
15 یِسوعؔ لیوی کے گھر، میں کھانا کھانے بیٹھے، تو کیٔی محصُول لینے والے اَور گُنہگار لوگ یِسوعؔ اَور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گئے، اَیسے بہت سے لوگ یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے تھے۔ 16 شَریعت کے عالِم جو فرِیسی[c] فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کو گُنہگاروں اَور محصُول لینے والوں کے ساتھ کھاتے دیکھا، تو فریسیوں نے شاگردوں سے پُوچھا: ”یہ محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“
17 یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُن کو جَواب دیا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں، بَلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔“
19 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا براتی دُلہا کی مَوجُودگی میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ جَب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے وہ روزے نہیں رکھ سکتے۔ 20 لیکن وہ دِن آئے گا کہ دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا، تَب وہ روزہ رکھیں گے۔
21 ”پُرانی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند کویٔی نہیں لگاتا اَور اگر اَیسا کرتا ہے، تو نیا کپڑا اُس پُرانی پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لے گا، اَور پوشاک زِیادہ پھٹ جائے گی۔ 22 نئے انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی اَور انگوری شِیرے کے ساتھ مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ لہٰذا نئے انگوری شِیرے کو، نئی مَشکوں ہی میں بھرنا چاہئے۔“
25 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ جَب حضرت داویؔد اَور اُن کے ساتھیوں کو بھُوک کے باعث کھانے کی ضروُرت تھی تو اُنہُوں نے کیا کیا؟ 26 اعلیٰ کاہِن ابیاترؔ کے زمانہ میں، حضرت داویؔد خُدا کے گھر میں داخل ہویٔے اَور نذر کی ہویٔی روٹیاں کھایٔیں اَیسی روٹیوں کا کھانا کاہِنوں کے سِوائے کسی اَور کے لیٔے روا نہیں تھا۔ اَور اُنہُوں نے خُود بھی کھایٔیں اَور اَپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھانے کو دیں۔“
27 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”سَبت اِنسان کے لیٔے بنایا گیا تھا، نہ کہ اِنسان سَبت کے لیٔے۔ 28 پس اِبن آدمؔ سَبت کا بھی مالک ہے۔“
<- مرقُس 1مرقُس 3 ->
Languages