2 پِیلاطُسؔ نے آپ سے پُوچھا، ”کیا آپ یہُودیوں کے بادشاہ ہیں؟“
3 اہم کاہِن آپ پر طرح طرح کے اِلزام لگانے لگے۔ 4 لہٰذا پِیلاطُسؔ نے آپ سے دوبارہ پُوچھا، ”آپ نے کویٔی جَواب نہیں دیا؟ دیکھئے یہ لوگ آپ پر کتنے اِلزام پر اِلزام لگا رہے ہیں۔“
5 پھر بھی یِسوعؔ نے کویٔی جَواب نہیں دیا، اَور اِس پر پِیلاطُسؔ کو بڑا تعجُّب ہُوا۔
6 اَور یہ دستور تھا کہ وہ عید کے موقع پر ایک اَیسے قَیدی کو رہا کر دیتا تھا جِس کی رِہائی کی لوگ مِنّت کرتے تھے۔ 7 بَراَبّؔا نامی ایک آدمی اُن باغیوں کے ساتھ قَید میں تھا جنہیں خُون کے اِلزام میں قَید کیا گیا تھا۔ 8 عوام ایک ہُجوم کی شکل میں پِیلاطُسؔ کے سامنے جمع ہو گئے اَور مِنّت کی کہ وہ اَپنے دستور کے مُطابق عَمل کرے۔
9 پِیلاطُسؔ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا تُم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیٔے یہُودیوں کے بادشاہ کو چھوڑ دُوں؟“ 10 کیونکہ پِیلاطُسؔ کو بخُوبی علم تھا کہ اہم کاہِنوں نے محض حَسد کی بنا پر یِسوعؔ کو اُس کے حوالہ کیا ہے۔ 11 تاہم اہم کاہِنوں نے ہُجوم کو اُکسایا کہ وہ پِیلاطُسؔ سے مِنّت کریں کہ یِسوعؔ کی جگہ بَراَبّؔا کو رہا کر دیا جائے۔
12 پِیلاطُسؔ نے لوگوں سے دُوسری مرتبہ پُوچھا، ”پھر میں یِسوعؔ کے ساتھ کیا کروں جسے تُم یہُودیوں کا بادشاہ کہتے ہو۔“
13 وہ چیخے، ”اِسے مصلُوب کرو۔“
14 آخِر کیوں؟ پِیلاطُسؔ نے اُن سے پُوچھا، ”یِسوعؔ نے کون سا جُرم کیا ہے؟“
15 پِیلاطُسؔ نے ہُجوم کو خُوش کرنے کی غرض سے اُن کی خاطِر بَراَبّؔا کو رِہا کر دیا۔ اَور یِسوعؔ کو کوڑے لگوا کر، اُن کے حوالہ کر دیا تاکہ حُضُور کو مصلُوب کیا جائے۔
25 جَب اُنہُوں نے حُضُور کو صلیب پر چڑھایاتھا تو صُبح کے نَو بج رہے تھے۔ 26 اَور اُنہُوں نے آپ کے سَر کے اُوپر اِلزام کی ایک تختی لگا دی جِس پر لِکھّا تھا:
27 اُنہُوں نے دو ڈاکوؤں کو بھی یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب کیا، ایک کو آپ کے داہنی طرف اَور دُوسرے کو بائیں طرف۔ 28 اِس طرح کِتاب مُقدّس کا یہ نوشتہ پُورا ہُوا کہ وہ بدکاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا۔[a] 29 وہاں سے گزرنے والے سَب لوگ سَر ہلا ہلا کر حُضُور کو لَعن طَعن کرتے اَور کہتے تھے، ”ارے بیت المُقدّس کو ڈھا کر تین دِن میں اِسے پھر سے بنانے والے، 30 اَب صلیب سے نیچے اُتر آ اَور اَپنے آپ کو بچا!“ 31 اِسی طرح اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم مِل کر آپَس میں یِسوعؔ کی ہنسی اُڑاتے ہویٔے کہتے تھے، ”اِس نے اَوروں کو بچایا، لیکن اَپنے آپ کو نہیں بچا سَکتا! 32 یہ المسیح، اِسرائیلؔ کا بادشاہ، اَب بھی صلیب پر سے نیچے اُتر آئے، تاکہ یہ دیکھ کر ہم ایمان لا سکیں۔“ دو ڈاکُو بھی جو یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے، وہ بھی حُضُور کو لَعن طَعن کر رہے تھے۔
35 جو لوگ پاس کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سُنا تو کہنے لگے، ”یہ تو ایلیّاہ کو پُکارتا ہے۔“
36 یہ سُن کر ایک شخص دَوڑا اَور اُس نے اِسفَنج کو سِرکہ میں ڈُبویا اَور اُسے سَرکنڈے پر رکھ کر یِسوعؔ کو چُسایا۔ اَور کہا، ”اَب اِسے تنہا چھوڑ دو۔ آؤ دیکھیں کہ ایلیّاہ اِسے صلیب سے نیچے اُتارنے آتے ہیں یا نہیں؟“
37 لیکن یِسوعؔ نے بڑے زور سے چِلّاکر اَپنی جان دے دی۔
38 اَور بیت المُقدّس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ 39 ایک فَوجی افسر، جو یِسوعؔ کے سامنے کھڑا تھا، یہ دیکھ کر کہ آپ نے کِس طرح جان دی ہے، وہ پُکار اُٹھا، ”یقیناً یہ شخص خُدا کا بیٹا تھا!“
40 کیٔی عورتیں دُور سے یہ سَب کُچھ دیکھ رہی تھیں۔ اُن میں مریمؔ مَگدلِینیؔ، چُھوٹے یعقوب اَور یُوسیفؔ کی ماں، مریمؔ اَور سلومؔی تھیں۔ 41 جَب حُضُور صُوبہ گلِیل میں تھے تُو یہ عورتیں آپ کی پیروکار تھیں اَور اُن کی خدمت کیا کرتی تھیں اَور اِس کے علاوہ کیٔی خواتین آپ کے ساتھ یروشلیمؔ سے آئی تھیں۔
Languages