4 چنانچہ وہ گیٔے اَور اُنہُوں نے گدھی کے بچّے کو سامنے گلی میں، ایک دروازہ کے پاس بندھا ہُوا پایا۔ جَب وہ گدھی کے بچّے کو کھول رہے تھے، 5 تو کُچھ لوگ جو وہاں کھڑے تھے شاگردوں سے پُوچھنے لگے، ”اِس گدھے کو کیوں کھول رہے ہو؟“ 6 شاگردوں نے وُہی کہا جو یِسوعؔ نے اُنہیں کہاتھا، لہٰذا اُنہُوں نے شاگردوں کو جانے دیا۔ 7 تَب وہ گدھے کے بچّے کو یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور اَپنے کپڑے اُس پر ڈال دئیے، اَور وہ اُس پر سوارہوگئے۔ 8 کیٔی لوگوں نے راستے میں، اَپنے کپڑے بچھا دئیے اَور بعض نے درختوں سے ہری ڈالیاں کاٹ کر پھیلا دیں۔ 9 لوگ جو یِسوعؔ کے آگے آگے اَور پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نعرے لگانے لگے،
11 یروشلیمؔ شہر میں داخل ہوتے ہی یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں تشریف لے گیٔے۔ اَور وہاں کی ہر چیز کو غور سے دیکھا، چونکہ شام ہو چُکی تھی، اِس لیٔے وہ بَارہ شاگردوں کے ساتھ واپس بیت عنیّاہ چلےگئے۔
15 جَب وہ یروشلیمؔ پہُنچے تو، یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں، 16 اَور کسی کو کویٔی سامان لے کر بیت المُقدّس کے احاطہ میں سے گزرنے نہ دیا۔ 17 پھر یِسوعؔ نے تعلیم دیتے ہویٔے، فرمایا، ”کیا کِتاب مُقدّس میں یہ نہیں لِکھّا: ’میرا گھر سَب قوموں کے لیٔے دعا کا گھر کہلائے گا‘[b]؟ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘[c]“
18 جَب اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں نے یہ باتیں سُنیں تو وہ آپ کو ہلاک کرنے کا موقع ڈھونڈنے لگے، لیکن وہ یِسوعؔ کے خِلاف اَیسا قدم اُٹھانے سے ڈرتے بھی تھے، کیونکہ سارا ہُجوم اُن کی تعلیم سے نہایت حیران تھے۔
19 جَب شام ہویٔی، حُضُور اَپنے شاگردوں کے ساتھ شہر سے باہر چلےگئے۔
20 اگلی صُبح جَب، وہ اُدھر سے گزرے، اُنہُوں نے دیکھا کہ اَنجیر کا درخت جڑ تک سُوکھا ہُواہے۔ 21 پطرس کو یِسوعؔ کی بات یاد آئی اَور وہ کہنے لگے، ”ربّی، دیکھئے! اَنجیر کا وہ درخت جِس پر آپ نے لعنت بھیجی تھی، سُوکھ گیا ہے!“
22 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”خُدا پر ایمان رکھو، 23 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اگر کویٔی اِس پہاڑ سے کہے، ’اَپنی جگہ سے اُکھڑ جا اَور سمُندر میں جا گِر،‘ اَور اَپنے دِل میں شک نہ کرے بَلکہ یقین رکھے کہ جو کچھ وہ کہتاہے وہ ہو جائے گا، تو اُس کے لیٔے وَہی ہو جائے گا۔ 24 لہٰذا میں تُم سے کہتا ہُوں، تُم دعا میں جو کُچھ مانگتے ہو، یقین رکھو کہ تُم نے پا لیا، تو تُمہیں وہ مِل جائے گا۔ 25 جَب تُم دعا کے لیٔے کھڑے ہوتے ہو، اَور تُمہیں کسی سے کُچھ شکایت ہو تو، اُسے مُعاف کر دو، تاکہ تمہارا آسمانی باپ بھی تمہارے گُناہ مُعاف کر دے۔ 26 اگر تُم مُعاف نہ کروگے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تمہارے گُناہ مُعاف نہ کرےگا۔“[d]
29 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”میں بھی تُم سے ایک بات پُوچھتا ہُوں۔ اگر تُم اُس کا جَواب دوگے، تو میں بھی بتاؤں گا کہ میں یہ کام کِس کے اِختیار سے کرتا ہُوں۔ 30 مُجھے یہ بتاؤ! یُوحنّا کا پاک غُسل خُدا کی طرف سے تھا یا اِنسان کی طرف سے؟“
31 وہ آپَس میں بحث کرنے لگے، ”اگر ہم کہیں، ’وہ آسمان کی طرف سے تھا،‘ تو وہ کہیں گے، ’پھر تُم نے اُس کا یقین کیوں نہ کیا؟‘ 32 اَور اگر کہیں، ’اِنسان کی طرف سے‘ “ (تو عوام کا خوف تھا، کیونکہ وہ حضرت یُوحنّا کو واقعی نبی مانتے تھے۔)
33 لہٰذا اُنہُوں نے آپ کو جَواب دیا، ”ہم نہیں جانتے۔“
Languages