3 تَب اہم کاہِنوں اَور قوم کے بُزرگوں نے اعلیٰ کاہِن کائِفؔا کی حویلی میں جمع ہوکر، 4 مشورہ کیا کہ یِسوعؔ کو فریب سے پکڑ لیں اَور قتل کر دیں۔ 5 اُنہُوں نے کہا، ”مگر عید کے دَوران نہیں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ لوگوں میں ہنگامہ برپا ہو جائے۔“
8 شاگرد یہ دیکھ کر بہت خفا ہُوئے اَور کہنے لگے، ”عِطر کو ضائع کرنے کی کیا ضروُرت تھی؟ 9 اگر اِسے بیچا جاتا تو بڑی قیمت ہاتھ آتی جسے غریبوں میں تقسیم کیا جا سَکتا تھا۔“
10 یِسوعؔ نے یہ جان کر اُن سے فرمایا، ”تُم اِس خاتُون کو کیوں پریشان کر رہے ہو؟ اِس نے تو میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔ 11 کیونکہ غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے،[a] لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔ 12 اَور اِس نے تو پہلے ہی سے میری تدفین کی تیّاری کے لیٔے میرے جِسم کو عِطر سے مَسح کر دیا ہے۔ 13 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ ساری دُنیا میں جہاں کہیں انجیل کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس خاتُون کی یادگاری میں اِس کے اِس کام کا ذِکر بھی کیا جائے گا۔“
18 حُضُور نے جَواب دیا، ”شہر میں فُلاں شخص کے پاس جاؤ اَور کہو، ’اُستاد فرماتے ہیں کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ میں اَپنے شاگردوں کے ساتھ تمہارے گھر میں عیدِفسح مناؤں گا۔‘ “ 19 پس جَیسا یِسوعؔ نے شاگردوں کو حُکم دیا تھا، اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا اَور عیدِفسح کا کھانا تیّار کیا۔
20 جَب شام ہُوئی تو یِسوعؔ اَپنے بَارہ شاگردوں کے ساتھ دسترخوان پر کھانا کھانے بیٹھے۔ 21 اَور کھاتے وقت حُضُور نے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے ایک مُجھے پکڑوائے گا۔“
22 شاگردوں کو بڑا رنج پہُنچا اَور وہ باری باری آپ سے پُوچھنے لگے، ”خُداوؔند! کیا وہ میں تو نہیں ہُوں؟“
23 حُضُور نے جَواب دیا، ”جو شخص میرے ساتھ تھالی میں کھا رہاہے وُہی مُجھے پکڑوائے گا۔ 24 اِبن آدمؔ تو جَیسا اُس کے حق میں لِکھّا ہُواہے۔ لیکن اُس شخص پر افسوس جو اِبن آدمؔ کو پکڑواتا ہے! اُس کے لیٔے بہتر تھا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا۔“
25 تَب یہُوداہؔ جو اُسے پکڑوانے کو تھا، بول اُٹھا، ”ربّی! کیا وہ میں تو نہیں؟“
26 جَب وہ کھا ہی رہے تھے، یِسوعؔ نے روٹی لی، اَور خُدا کا شُکر کرکے، اُس کے ٹکڑے کیٔے اَور شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا، ”اِسے لو اَور کھاؤ؛ یہ میرا بَدن ہے۔“
27 پھر آپ نے پیالہ لیا، اَور خُدا کا شُکر کرکے، شاگردوں کو دیا اَور کہا، ”تُم سَب اِس میں سے پیو۔ 28 یہ میرا عہد کا وہ خُون ہے جو بہتیروں کے گُناہوں کی مُعافی کے لیٔے بہایا جاتا ہے۔ 29 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ میں یہ انگور کا شِیرہ پھر کبھی نہ پیوں گا جَب تک کہ میں اَپنے آسمانی باپ کی بادشاہی میں تمہارے ساتھ نیا نہ پیوں۔“
30 تَب اُنہُوں نے ایک نغمہ گایا، اَور وہاں سے کوہِ زَیتُون پر چلے گیٔے۔
33 پطرس نے جَواب دیا، ”خواہ آپ کی وجہ سے سَب لڑکھڑا جایٔیں، لیکن مَیں کبھی ٹھوکر نہیں کھاؤں گا۔“
34 یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ آج اِسی رات، اِس سے پہلے کہ مُرغ بانگ دے تُم تین دفعہ میرا اِنکار کروگے۔“
35 لیکن پطرس نے کہا، ”اگر آپ کے ساتھ مُجھے مَرنا بھی پڑے، تَب بھی آپ کا اِنکار نہ کروں گا۔“ اَور باقی شاگردوں نے بھی یہی دہرایا۔
39 پھر ذرا آگے جا کر اَور مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر حُضُور یُوں دعا کرنے لگے، ”اَے میرے باپ! اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مُجھ سے ٹل جائے، پھر بھی جو میں چاہتا ہُوں وہ نہیں لیکن جو آپ چاہتے ہیں وَیسا ہی ہو۔“
40 جَب وہ شاگردوں کے پاس واپس آئے تو اُنہیں سوتے پایا۔ اَور پطرس سے کہا، ”کیا تُم ایک گھنٹہ بھی میرے ساتھ جاگ نہ سکے؟ 41 جاگتے اَور دعا کرتے رہو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو۔ رُوح تو آمادہ ہے، مگر جِسم کمزور ہے۔“
42 پھر یِسوعؔ نے دوبارہ جا کر یُوں دعا کی، ”اَے میرے باپ! اگر یہ پیالہ میرے پیئے بغیر نہیں ٹل سَکتا تو آپ کی مرضی پُوری ہو۔“
43 اَور جَب آپ واپس آئے تو شاگردوں کو پھر سے سوتے پایا کیونکہ اُن کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں۔ 44 لہٰذا یِسوعؔ اُنہیں چھوڑکر چلے گیٔے اَور تیسری دفعہ وُہی دعا کی جو پہلے کی تھی۔
45 اِس کے بعد شاگردوں کے پاس واپس آکر اُن سے کہنے لگے، ”کیا تُم ابھی تک راحت کی نیند سو رہے ہو؟ بس کرو، دیکھو! وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ اِبن آدمؔ گُنہگاروں کے حوالہ کیا جائے۔ 46 اُٹھو! آؤ چلیں! دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہُنچا ہے!“
50 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”دوست! جِس کام کے لیٔے تُم آئے ہو، اُسے پُورا کر لو۔“[c]
52 یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”اَپنی تلوار کو مِیان میں رکھ لے کیونکہ جو تلوار چلاتے ہیں، وہ تلوار ہی سے ہلاک ہوں گے۔ 53 کیا تُجھے پتہ نہیں کہ میں اَپنے باپ سے مِنّت کر سَکتا ہُوں اَور وہ اِسی وقت فرشتوں کے بَارہ لشکر[d] سے بھی زِیادہ میرے پاس بھیج دے گا؟ 54 لیکن پھر کِتاب مُقدّس کی وہ باتیں کیسے پُوری ہوں گی جِن میں لِکھّا ہے کہ یہ سَب اِسی طرح پُورا ہونا ضروُری ہے؟“
55 پھر یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا، ”کیا میں کویٔی ڈاکُو ہُوں کہ تُم تلواریں اَور لاٹھیاں لے کر مُجھے پکڑنے آئے ہو؟ میں ہر روز بیت المُقدّس میں بیٹھ کر تعلیم دیا کرتا تھا، تَب تو تُم نے مُجھے گِرفتار نہیں کیا۔ 56 لیکن یہ سَب کُچھ اِس لیٔے ہُوا کہ کِتاب مُقدّس میں نبیوں کی لکھی ہُوئی باتیں پُوری ہو جایٔیں۔“ تَب سارے شاگرد حُضُور کو چھوڑکر چلے گیٔے۔
59 اہم کاہِن اَور عدالتِ عالیہ کے سَب اَرکان اَیسی جھُوٹی گواہی کی تلاش میں تھے جِس کی بِنا پر اہم کاہِن یِسوعؔ کو قتل کروا سکیں۔ 60 مگر کُچھ نہ پا سکے، حالانکہ کیٔی جھُوٹے گواہ پیش بھی ہُوئے۔
62 تَب اعلیٰ کاہِن اُن کے بیچ میں کھڑے ہوکر یِسوعؔ سے پُوچھنے لگا، ”کیا تیرے پاس کویٔی جَواب نہیں؟ یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دے رہے ہیں؟“ 63 مگر یِسوعؔ خاموش رہے۔
64 یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم نے خُود ہی کہہ دیا ہے، پھر بھی میں تُم سَب کو بتاتا ہُوں کہ آئندہ تُم اِبن آدمؔ کو قادرمُطلق کی داہنی طرف بیٹھا اَور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھوگے۔“[e]
65 تَب اعلیٰ کاہِن نے اَپنے کپڑے پھاڑ کر کہا، ”اِس نے کُفر بکا ہے! اَب ہمیں گواہوں کی کیا ضروُرت ہے؟ تُم نے ابھی ابھی اِس کا کُفر سُنا ہے۔ 66 تمہاری کیا رائے ہے؟“
67 اِس پر آپ کے مُنہ پر تھُوکا، آپ کے مُکّے مارے اَور بعض نے طمانچے مار کر کہا، 68 ”اَے المسیح، اگر تو نبی ہے تو نبُوّت کر، تُجھے کِس نے مارا؟“
70 لیکن پطرس نے سَب کے سامنے اِنکار کیا اَور کہا، ”پتا نہیں تُو کیا کہہ رہی ہے؟“
71 تَب وہ باہر پھاٹک کی طرف گیٔے جہاں ایک اَور لونڈی نے پطرس کو دیکھ کر اُن لوگوں سے جو وہاں تھے کہا، ”یہ آدمی بھی یِسوعؔ ناصری کے ساتھ تھا۔“
72 پطرس نے قَسم کھا کر پھر اِنکار کرتے ہویٔے کہا: ”میں تو اِس آدمی کو جانتا تک نہیں!“
73 کُچھ دیر بعد وہ لوگ جو وہاں کھڑے تھے پطرس کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”یقیناً تُو بھی اُن ہی میں سے ایک ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی یہی ظاہر ہوتاہے۔“
74 تَب پطرس خُود پر لعنت بھیجنے لگا اَور قَسمیں کھا کر کہنے لگا، ”میں اِس آدمی سے واقف نہیں ہُوں۔“
Languages