3 ”پھر تقریباً تین گھنٹے بعد باہر نکل کر اُس نے اَوروں کو بازار میں بیکار کھڑے دیکھا۔ 4 اَور اُس نے اُن سے فرمایا، ’تُم بھی میرے انگوری باغ میں چلے جاؤ اَورجو مُناسب اُجرت ہے، میں تُمہیں دُوں گا۔‘ “ 5 پس وہ چلے گیٔے۔
7 ” ’ہمیں کسی نے کام پر نہیں لگایا،‘ اُنہُوں نے جَواب دیا۔
8 ”جَب شام ہُوئی تو انگوری باغ کے مالک نے اَپنے مُنیم سے کہا، ’مزدُوروں کو بُلاؤ اَور پچھلوں سے لے کر پہلوں تک کی اُن کی مزدُوری دے دو۔‘
9 ”جو ایک گھنٹہ دِن ڈھلنے سے پہلے لگائے گیٔے تھے وہ آئے اَور اُنہیں ایک ایک دینار مِلا۔ 10 جَب شروع کے مزدُوروں کی باری آئی تو اُنہُوں نے سوچا کہ ہمیں زِیادہ مزدُوری ملے گی۔ لیکن اُنہیں بھی ایک ایک دینار ہی مِلا۔ 11 جسے لے کر وہ زمین دار پر بُڑبُڑانے لگے کہ 12 ’اِن پچھلوں نے صِرف ایک گھنٹہ کام کیا ہے، اَور ہم نے دھوپ میں دِن بھر محنت کی ہے لیکن آپ نے اُنہیں ہمارے برابر کر دیا۔‘
13 ”لیکن مالک نے اُن میں سے ایک سے کہا، ’دوست! مَیں نے تیرے ساتھ کویٔی نااِنصافی نہیں کی ہے۔ کیا تیرے ساتھ مزدُوری کا ایک دینار طے نہیں ہُوا تھا؟ 14 لہٰذا جو تیرا ہے لے اَور چلتا بَن! یہ میری مرضی ہے کہ جِتنا تُجھے دے رہا ہُوں اُتنا ہی اِن پچھلوں کو بھی دُوں۔ 15 کیا مُجھے یہ حق نہیں کہ اَپنے مال سے جو چاہُوں سو کروں؟ یا کیا تُمہیں میری سخاوت تمہاری نظروں میں بُری لگ رہی ہے؟‘
16 ”پَس بہت سے جو آخِر ہیں وہ اوّل ہو جایٔیں گے اَورجو اوّل ہیں وہ آخِر۔“
21 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتی ہو؟“
22 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”تُم نہیں جانتے کہ کیا مانگ رہے ہو؟ کیا تُم وہ پیالہ پی سکتے ہو جو میں پینے پر ہُوں۔“
23 یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”تُم میرا پیالہ تو ضروُر پیوگے، لیکن یہ میرا کام نہیں کہ کسی کو اَپنی داہنے یا بائیں طرف بِٹھاؤں۔ مگر جِن کے لیٔے میرے باپ کی جانِب سے مُقرّر کیا جا چُکاہے، اُن ہی کے لیٔے ہے۔“
24 جَب باقی دس شاگردوں نے یہ سُنا تو وہ اُن دونوں بھائیوں پر خفا ہونے لگے۔ 25 مگر یِسوعؔ نے اُنہیں پاس بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”تُمہیں مَعلُوم ہے کہ اِس جہاں کے غَیریہُودیوں کے حُکمراں اُن پر حُکمرانی کرتے ہیں اَور اُن کے اُمرا اُن پر اِختیار جتاتے ہیں۔ 26 مگر تُم میں اَیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بَلکہ، تُم میں کوئی بڑا بننا چاہتاہے وہ تمہارا خادِم بنے، 27 اَور اگر تُم میں کویٔی سَب سے اُونچا درجہ حاصل کرنا چاہے وہ تمہارا غُلام بنے۔ 28 چنانچہ اِبن آدمؔ اِس لیٔے نہیں آیا کہ خدمت لے بَلکہ، اِس لیٔے کہ خدمت کرے، اَور اَپنی جان دے کر بہتیروں کو رِہائی بخشے۔“
31 ہُجوم نے اُسے ڈانٹا کہ خاموش ہو جاؤ، مگر وہ اَور بھی چِلّانے لگے، ”اَے خُداوؔند، اَے اِبن داویؔد! ہم پر رحم کیجئے!“
32 یِسوعؔ رُک گیٔے اَور اُنہیں بُلاکر پُوچھا، ”بتاؤ! مَیں تمہارے لیٔے کیا کروں؟“
33 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”خُداوؔند! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنکھیں کھُل جایٔیں۔“
34 یِسوعؔ نے رحم کھا کر اُن کی آنکھوں کو چھُوا اَور وہ فوراً دیکھنے لگے اَور یِسوعؔ کے کا پیروکار بن گئے۔
<- متّی 19متّی 21 ->- a ایک دینار قدیم زمانہ میں ایک دینار ایک دِن کی مزدُوری ہُوا کرتی تھی۔
Languages