3 جَب ہیرودیسؔ بادشاہ نے یہ بات سُنی تو وہ اَور اُس کے ساتھ سَب یروشلیمؔ کے لوگ گھبرا گیٔے۔ 4 اَور ہیرودیسؔ نے قوم کے سَب اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں، کو جمع کرکے اُن سے پُوچھا کہ حضرت المسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہئے۔ 5 اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یہُودیؔہ کے بیت لحمؔ میں، کیونکہ نبی کی مَعرفت یُوں لِکھّا گیا ہے:
7 تَب ہیرودیسؔ نے مجُوسیوں کو چُپکے سے بُلاکر اُن سے سِتارے کے نموُدار ہونے کا ٹھیک وقت دریافت کیا۔ 8 اَور اُنہیں یہ کہہ کر بیت لحمؔ بھیجا، ”جاؤ اُس بچّے کا ٹھیک ٹھیک پتہ کرو اَور جَب وہ تُمہیں مِل جائے تو مُجھے بھی خبر دو تاکہ میں بھی جا کر اُسے سَجدہ کروں۔“
9 وہ بادشاہ کی بات سُن کر روانہ ہُوئے اَور وہ ستارہ جو اُنہیں مشرق میں دِکھائی دیا تھا، اُن کے آگے آگے چلنے لگا یہاں تک کہ اُس جگہ کے اُوپر جا ٹھہرا جہاں وہ بچّہ مَوجُود تھا۔ 10 سِتارے، کو دیکھ کر اُنہیں بڑی خُوشی ہُوئی۔ 11 تَب وہ اُس گھر میں داخل ہُوئے اَور بچّے کو اُس کی ماں حضرت مریمؔ کے پاس جا کر اُن کے آگے جھک کر سَجدہ کیا اَور اَپنے ڈِبّے کھول کر سونا، لوبان اَور مُر اُس کو نذر کیا۔ 12 اَور خواب میں ہیرودیسؔ کے پاس پھر نہ جانے کی ہدایت پا کر وہ کسی دُوسرے راستے سے اَپنے مُلک واپس چلے گیٔے۔
14 چنانچہ وہ اُٹھے اَور بچّے اَور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر راتوں رات مِصر کو روانہ ہو گیٔے، 15 اَور ہیرودیسؔ کی وفات تک وہیں رہے تاکہ جو بات خُداوؔند نے نبی کی مَعرفت کہی تھی وہ پُوری ہو جائے: ”میں اَپنے بیٹے کو مِصر سے بُلایا۔“[c]
16 جَب ہیرودیسؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ مجُوسیوں نے اُس کے ساتھ دغابازی کی ہے، تو اُسے بہت غُصّہ آیا، اَور مجُوسیوں سے مِلی اِطّلاع کے مُطابق اُس نے بیت لحمؔ اَور اُس کی سَب سرحدوں کے اَندر سپاہی بھیج کر تمام لڑکوں کو جو دو سال یا اُس سے کم عمر کے تھے، قتل کروا دیا۔ 17 اِس طرح یرمیاہؔ نبی کی پیشن گوئی پُوری ہُوئی:
21 لہٰذا حضرت یُوسیفؔ اُٹھے اَور بچّے اَور اُس کی ماں کو لے کر اِسرائیلؔ کے مُلک میں لَوٹ آئے۔ 22 مگر یہ سُن کر کہ اَرخِلاؤسؔ اَپنے باپ ہیرودیسؔ کی جگہ پر یہُودیؔہ میں بادشاہی کر رہاہے، تو یُوسیفؔ وہاں جانے سے ڈرے اَور خواب میں ہدایت پا کر صُوبہ گلِیل کے علاقہ کو روانہ ہویٔے۔ 23 وہاں پہُنچ کر ناصرتؔ نام ایک شہر میں رہنے لگے تاکہ جو بات نبیوں کی مَعرفت کہی گئی تھی وہ پُوری ہو: وہ ناصری کہلائے گا۔
<- متّی 1متّی 3 ->
Languages