4 جَب اِتنا بڑا ہُجوم جمع ہو گیا اَور ہر شہر سے لوگ یِسوعؔ کے پاس چلے آتے تھے تو آپ نے یہ تمثیل سُنایٔی: 5 ”ایک بیج بونے والا بیج بونے نِکلا۔ بوتے وقت کُچھ بیج، راہ کے کنارے، گِرے اَور اُسے روندا گیا اَور چڑیوں نے آکر اُنہیں چُگ لیا۔ 6 کُچھ چٹّان پر گِرے اَور اُگتے ہی سُوکھ گیٔے کیونکہ اُنہیں نَمی نہ مِلی۔ 7 کُچھ جھاڑیوں میں گِرے اَور جھاڑیوں کے ساتھ بڑھے لیکن جھاڑیوں نے پھیل کر اُنہیں بڑھنے سے روک دیا۔ 8 اَور کُچھ اَچھّی زمین پر گِرے اَور اُگ گیٔے، اَور بڑھ کر سَو گُنا پھل لایٔے۔“
9 یِسوعؔ کے شاگردوں نے آپ سے پُوچھا کہ اِس تمثیل کا مطلب کیا ہے؟ 10 آپ نے فرمایا، ”تُمہیں تو خُدا کی بادشاہی کے رازوں کو سمجھنے کی قابلیّت دی گئی ہے، لیکن دُوسروں کو یہ باتیں تمثیلوں میں بَیان کی جاتی ہیں، کیونکہ،
11 ”اِس تمثیل کا مطلب یہ ہے: بیج خُدا کا کلام ہے۔ 12 راہ کے کنارے والے وہ ہیں جو سُنتے تو ہیں لیکن شیطان آتا ہے اَور اُن کے دِلوں سے کلام کو نکال لے جاتا ہے، اَیسا نہ ہو کہ وہ ایمان لائیں اَور نَجات پائیں۔ 13 چٹّان پر کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر اُسے خُوشی سے قبُول کرتے ہیں لیکن کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑتا۔ وہ کُچھ عرصہ تک تو اَپنے ایمان پر قائِم رہتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت پَسپا ہو جاتے ہیں۔ 14 اَور جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن رفتہ رفتہ زندگی کی فِکروں، دولت اَور عیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اَور اُن کا پھل پک نہیں پاتا۔ 15 اَچھّی زمین والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُن کر اُسے اَپنے عُمدہ اَور نیک دِل میں، مضبُوطی سے سنبھالے رہتے ہیں، اَور صبر سے پھل لاتے ہیں۔
21 لیکن حُضُور نے جَواب میں کہا، ”میری ماں اَور میرے بھایٔی تو وہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے ہیں اَور اُس پر عَمل کرتے ہیں۔“
24 شاگردوں نے یِسوعؔ کے پاس آکر اُنہیں جگایا اَور کہا، ”آقا، آقا! ہم تو ڈُوبے جا رہے ہیں!“
30 یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا، ”تیرا نام کیا ہے؟“
32 وہاں پہاڑ پر سُؤروں کا ایک بڑا غول چَر رہاتھا۔ اُن بدرُوحوں نے یِسوعؔ سے اِلتجا کرکے کہا کہ ہمیں اُن میں داخل ہو جانے دیں، اَور حُضُور نے اُنہیں جانے دیا۔ 33 چنانچہ بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سُؤروں میں داخل ہو گئیں اَور اُس غول کے سارے سُؤر ڈھلان سے جھیل کی طرف لپکے اَور ڈُوب مَرے۔
34 یہ ماجرا دیکھ کر سُؤر چَرانے والے بھاگ کھڑے ہویٔے اَور اُنہُوں نے شہر اَور دیہات میں اِس بات کی خبر پہُنچائی۔ 35 لوگ اِس ماجرے کو دیکھنے نکلے اَور یِسوعؔ کے پاس آئے۔ جَب اُنہُوں نے اُس آدمی کو جِس میں سے بدرُوحیں نکلی تھیں، کپڑے پہنے اَور ہوش میں یِسوعؔ کے پاؤں کے پاس بیٹھے دیکھا تو خوفزدہ رہ گیٔے۔ 36 اِس واقعہ کے دیکھنے والوں نے اُنہیں بتایا کہ وہ آدمی جِس میں بدرُوحیں تھیں کس طرح اَچھّا ہُوا۔ 37 چونکہ گِراسینیوں کے آس پاس کے علاقہ کے سارے باشِندے دہشت زدہ ہو گئے تھے اِس لیٔے یِسوعؔ سے مِنّت کی کہ آپ ہمارے پاس سے چلے جایٔیں۔ لہٰذا وہ کشتی میں سوار ہوکر واپس جانے لگے۔
38 اَور اُس آدمی نے جِس میں سے بدرُوحیں نکلی تھیں یِسوعؔ کی مِنّت کی کہ مُجھے اَپنے ہی ساتھ رہنے دیں۔ لیکن یِسوعؔ نے اُسے رخصت کرکے کہا، 39 ”اَپنے گھر لَوٹ جا اَور لوگوں کو بتا کہ خُدا نے تیرے لیٔے کیا کُچھ کیا ہے۔“ چنانچہ وہ وہاں سے چلا گیا اَور سارے شہر میں اُن مہربانیوں کا جو یِسوعؔ نے اُس پر کی تھیں، چَرچا کرنے لگا۔
45 اِس پر یِسوعؔ نے کہا، ”مُجھے کس نے چھُوا ہے؟“
46 لیکن یِسوعؔ نے کہا، ”کسی نے مُجھے ضروُر چھُوا ہے؛ کیونکہ مُجھے پتہ ہے کہ مُجھ میں سے قُوّت نکلی ہے۔“
47 وہ عورت یہ دیکھ کر کہ وہ یِسوعؔ سے چھِپ نہیں سکتی، کانپتی ہویٔی سامنے آئی اَور اُن کے قدموں میں گِر پڑی۔ لوگوں کے سامنے بتانے لگی کہ اُس نے کس غرض سے یِسوعؔ کو چھُوا تھا اَور وہ کس طرح چھُوتے ہی شفایاب ہو گئی تھی۔ 48 یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”بیٹی! تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو!“
49 وہ یہ کہنے بھی نہ پایٔے تھے کہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کسی نے آکر کہا، ”تیری بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیں۔“
50 لیکن یہ سُن کر یِسوعؔ نے یائیرؔ سے کہا، ”ڈر مت؛ صِرف ایمان رکھ، وہ بچ جائے گی۔“
51 جَب وہ یائیرؔ کے گھر میں داخل ہویٔے تو یِسوعؔ نے پطرس، یُوحنّا اَور یعقوب اَور لڑکی کے والدین کے سِوا کسی اَور کو اَندر نہ جانے دیا۔ 52 سَب لوگ لڑکی کے لیٔے رو پیٹ رہے تھے۔ لیکن یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”رونا پیٹنا بند کرو، لڑکی مَری نہیں بَلکہ سَو رہی ہے۔“
53 اِس پر وہ یِسوعؔ کی ہنسی اُڑانے لگے کیونکہ اُنہیں مَعلُوم تھا کہ لڑکی مَر چُکی ہے۔ 54 لیکن حُضُور نے لڑکی کا ہاتھ پکڑکر کہا، ”میری بیٹی اُٹھ!“ 55 اُس کی رُوح لَوٹ آئی اَور وہ فوراً اُٹھ بیٹھی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔ 56 اُس لڑکی کے والدین حیران رہ گیٔے۔ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ جو کُچھ ہُواہے اُس کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔
<- لُوقا 7لُوقا 9 ->
Languages