4 جَب یِسوعؔ اُن سے کلام کر چُکے تو آپ نے شمعُونؔ سے کہا، ”کشتی کو گہرے پانی میں لے چل اَور تُم مچھلیاں پکڑنے کے لیٔے اَپنے جال ڈالو۔“
5 شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”اَے مالک، ہم نے ساری رات محنت کی لیکن کُچھ ہاتھ نہ آیا، لیکن آپ کے کہنے پر، جال ڈالتا ہُوں۔“
6 چنانچہ اُنہُوں نے جال ڈالے اَور مچھلیوں کااِتنا بڑا غول گھیرلیا کہ اُن کے جال پھٹنے لگے۔ 7 تَب اُنہُوں نے دُوسری کشتی والے ساتھیوں کو اِشارہ کیا کہ آؤ اَور ہماری مدد کرو۔ پس وہ آئے اَور دونوں کشتیوں کو مچھلیوں سے اِس قدر بھر دیا کہ وہ ڈُوبنے لگیں۔
8 شمعُونؔ پطرس نے یہ دیکھا تو، وہ یِسوعؔ کے پاؤں پر گِر کر کہنے لگے، ”اَے خُداوؔند؛ میں گُنہگار آدمی ہُوں۔ آپ میرے پاس سے چلے جائیے!“ 9 وجہ یہ تھی کہ وہ اَور اُن کے ساتھی مچھلیوں کے اِتنے بڑے شِکار کے سبب حیرت زدہ تھے۔ 10 یہی حال زبدیؔ کے بیٹوں، یعقوب اَور یُوحنّا کا بھی تھا جو شمعُونؔ کے ساتھی تھے۔
13 اَور یِسوعؔ نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور کہا، ”میں چاہتا ہُوں، تُو پاک صَاف ہو جا!“ اَور اُسی وقت اُس نے کوڑھ سے شفا پائی۔
14 تَب یِسوعؔ نے اُسے تاکید کی، ”کسی سے کُچھ نہ کہنا، بَلکہ سیدھا کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھا اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جا جو حضرت مَوشہ نے تمہارے پاک صَاف ہونے کے لیٔے مُقرّر کی ہیں، تاکہ لوگوں کے سامنے گواہی ہو۔“
15 لیکن یِسوعؔ کے بارے میں سَب کو خبر ہو گئی اَور لوگ کثرت سے جمع ہونے لگے تاکہ حُضُور کی تعلیم سُنیں اَور اَپنی بیماریوں سے شفا پائیں۔ 16 لیکن آپ اکثر غَیر آباد مقاموں میں چلے جاتے اَور دعا کیا کرتے تھے۔
20 آپ نے اُن کا ایمان دیکھ کر کہا، ”دوست! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔“
21 شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی سوچنے لگے، ”یہ آدمی کون ہے جو کُفر بَکتا ہے۔ خُدا کے سِوا کون گُناہ مُعاف کر سَکتا ہے؟“
22 یِسوعؔ کو اُن کے خیالات مَعلُوم ہو گئے کی ”وہ اَپنے دِلوں میں کیا سوچ رہے ہیں؟ تَب آپ نے جَواب میں اُن سے پُوچھا، تُم اَپنے دِلوں میں اَیسی باتیں کیوں سوچتے ہو؟ 23 یہ کہنا زِیادہ آسان ہے: ’تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے،‘ یا ’یہ کہنا کہ اُٹھ اَور چل پھر‘؟ 24 لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ حُضُور نے مفلُوج سے کہا، ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“ 25 وہ اُن کے سامنے اُسی وقت اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اَور جِس بچھونے پر وہ پڑا تھا اُسے اُٹھاکر خُدا کی تمجید کرتا ہُوا اَپنے گھر چلا گیا۔ 26 وہ سَب حیران رہ گیٔے اَور خُدا کی تمجید کرنے لگے۔ اَور سَب پر خوف طاری ہو گیا اَور وہ کہنے لگے، ”کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکھی ہیں۔“
29 پھر لیوی نے اَپنے گھر میں یِسوعؔ کے لیٔے ایک بڑی ضیافت ترتیب دی اَور وہاں محصُول لینے والوں اَور دُوسرے لوگوں کا جو ضیافت میں شریک تھے بڑا مجمع تھا۔ 30 لیکن فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو فرِیسی فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کے شاگردوں سے شکایت کرکے کہنے لگے، ”تُم محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتے پیتے ہو؟“
31 یِسوعؔ نے جَواب میں اُن سے کہا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔ 32 میں راستبازوں کو نہیں بَلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کرنے کے لیٔے بُلانے آیا ہُوں۔“
34 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا تُم دُلہا کی مَوجُودگی میں؛ براتیِوں سے روزہ رکھوا سکتے ہو ہرگز نہیں۔ 35 لیکن وہ دِن آئیں گے جَب دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا؛ تَب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھیں گے۔“
36 اَور یِسوعؔ نے اُن سے یہ تمثیل بھی کہی: ”نئی پوشاک کو پھاڑ کر اُس کا پیوند پُرانی پوشاک پر کویٔی نہیں لگاتا ورنہ، نئی بھی پھٹے گی اَور اُس کا پیوند پُرانی پوشاک سے میل بھی نہ کھائے گا۔ 37 تازہ انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس نئے انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی، شِیرہ بھی بہہ جائے گا اَور مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ 38 بَلکہ، نئے انگوری شِیرے کو نئی مَشکوں میں بھرنا چاہئے۔ 39 پُرانا شِیرہ پی کر نئے کی خواہش کویٔی نہیں کرتا، کیونکہ وہ کہتاہے کہ ’پُرانی ہی خُوب ہے۔‘ “
<- لُوقا 4لُوقا 6 ->- a گنیسرتؔ یا اِسے گلِیل کی جھیل بھی کہتے ہیں۔
Languages