9 اُنہُوں نے پُوچھا، ”آپ کہاں چاہتے ہَیں کہ ہم فسح کا کھانا تیّار کریں؟“
10 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”شہر میں داخل ہوتے ہی تُمہیں ایک آدمی ملے گا جو پانی کا گھڑا لے جا رہا ہوگا۔ اُس کے پیچھے جانا اَور جِس گھر میں وہ داخل ہو 11 اُس گھر کے مالک سے کہنا، ’اُستاد نے پُوچھا ہے: وہ مہمان خانہ کہاں ہے، جہاں میں اَپنے شاگردوں کے ساتھ عیدِفسح کا کھانا کھا سکوں؟‘ 12 وہ تُمہیں ایک بڑا سا کمرہ اُوپر لے جا کر دِکھائے گا جو ہر طرح سے آراستہ ہوگا۔ وہیں ہمارے لیٔے تیّاری کرنا۔“
13 اُنہُوں نے جا کر سَب کُچھ وَیسا ہی پایا جَیسا یِسوعؔ نے اُنہیں بتایا تھا پھر عیدِفسح کا کھانا تیّار کیا۔
14 جَب کھانے کا وقت آیا تو یِسوعؔ اَور اُن کے رسول دسترخوان کے اِردگرد کھانا کھانے بیٹھ گیٔے۔ 15 اَور آپ نے اُن سے کہا، ”میری بڑی آرزُو تھی کہ اَپنے دُکھ اُٹھانے سے پہلے عیدِفسح کا یہ کھانا تمہارے ساتھ کھاؤں۔ 16 کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ آئندہ میں اِسے اُس وقت تک نہ کھاؤں گا جَب تک کہ خُدا کی بادشاہی میں اِس کا مقصد پُورا نہ ہو جائے۔“
17 پھر یِسوعؔ نے پیالہ لیا، اَور خُدا کا شُکر اَدا کرکے کہا، ”اِسے لو اَور آپَس میں بانٹ لو۔ 18 کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ میں انگور کا شِیرہ تَب تک نہیں پیوں گا جَب تک کہ خُدا کی بادشاہی آ نہ جائے۔“[a]
19 پھر آپ نے روٹی لی اَور خُدا کا شُکر کرکے اُس کے ٹکڑے کیٔے، اَور شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا، ”یہ میرا بَدن ہے جو تمہارے لیٔے دیا جاتا ہے، میری یادگاری کے لیٔے یہی کیا کرو۔“
20 اِسی طرح کھانے کے بعد یِسوعؔ نے پیالہ لیا، اَور یہ کہہ کر دیا، ”یہ پیالہ میرے خُون میں نیا عہد ہے جو تمہارے لیٔے بہایا جاتا ہے۔ 21 مگر مُجھے گِرفتار کرانے والے کا ہاتھ میرے ساتھ دسترخوان پر ہے۔ 22 اِبن آدمؔ تو جا ہی رہاہے جَیسا کہ اُس کے لیٔے پہلے سے مُقرّر ہو چُکاہے لیکن اُس آدمی پر افسوس جو مُجھے دھوکا دیتاہے!“ 23 یہ سُن کر وہ آپَس میں پُوچھنے لگے کہ ہم میں اَیسا کون ہے جو یہ کام کرےگا؟
24 شاگردوں میں اِس بات پر آپَس میں بحث ہونے لگی کہ اُن میں کون سَب سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔ 25 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”غَیریہُودیوں پر اُن کے حُکمراں حُکمرانی کرتے ہیں اَورجو اِختیار والے ہیں وہ مُحسِن کَہلاتے ہیں۔ 26 لیکن تُمہیں اُن کے جَیسا نہیں ہوناہے، اِس کے بجائے، تُم میں جو سَب سے بڑا ہے وہ سَب سے چُھوٹے کی مانِند اَورجو حاکم ہے وہ خادِم کی مانِند ہو۔ 27 کیونکہ بڑا کون ہے؟ وہ جو دسترخوان پر بیٹھا ہے یا وہ ہے جو خدمت کرتا ہے؟ کیا وہ بڑا نہیں ہے جو دسترخوان پر بیٹھا ہے؟ لیکن مَیں تو تمہارے بیچ میں ایک خادِم کی مانِند ہُوں۔ 28 مگر تُم وہ جو میری آزمائشوں میں برابر میرے ساتھ کھڑے رہے ہو۔ 29 جَیسے میرے باپ نے مُجھے ایک سلطنت عطا کی ہے، وَیسے ہی میں بھی تُمہیں ایک سلطنت عطا کرتا ہُوں۔ 30 تاکہ تُم میری سلطنت میں میرے دسترخوان سے کھاؤ اَور پیو اَور تُم شاہی تختوں پر بیٹھ کر اِسرائیلؔ کے بَارہ قبیلوں کا اِنصاف کروگے۔
31 ”شمعُونؔ! شمعُونؔ! شیطان نے تُم سبھی کو گندُم کی طرح پھٹکنے کی اِجازت مانگی ہے۔ 32 لیکن شمعُونؔ، کہ مَیں نے تمہارے لیٔے شِدّت سے دعا کی ہے کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اَور جَب تو تَوبہ کر چُکے تو اَپنے بھائیوں کے ایمان کو مضبُوط کرنا۔“
33 پطرس نے آپ سے کہا، ”اَے خُداوؔند، آپ کے ساتھ تو میں قَید ہونے اَور مَرنے کو بھی تیّار ہُوں۔“
34 لیکن یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے پطرس! میں تُم سے کہتا ہُوں، آج اِس سے پہلے کہ مُرغ بانگ دے تُم تین دفعہ میرا اِنکار کروگے کہ تُم مُجھے جانتے تک نہیں۔“
35 اُس کے بعد یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”جَب مَیں نے تُمہیں بٹوے، تھیلی اَور جُوتوں کے بغیر بھیجا تھا تو کیا تُم کسی چیز کے مُحتاج ہویٔے تھے؟“
36 آپ نے اُن سے فرمایا، ”مگر اَب جِس کے پاس بٹوا ہو وہ اُسے ساتھ رکھ لے اَور اِسی طرح تھیلی بھی اَور جِس کے پاس تلوار نہ ہو وہ اَپنے کپڑے بیچ کر تلوار خرید لے۔ 37 کیونکہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ’اُسے بدکاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا‘[b] اَور مَیں تُم کو بتاتا ہُوں کہ یہ بات میرے حق میں پُورا ہونا لازمی ہے۔ ہاں، جو کُچھ میرے بارے میں لِکھّا ہُواہے وہ پُورا ہونا ہی ہے۔“
38 شاگردوں نے کہا، ”اَے خُداوؔند، دیکھئے، یہاں دو تلواریں ہیں۔“
45 جَب وہ دعا سے فارغ ہوکر کھڑے ہویٔے، اَور شاگردوں کے پاس واپس آئے، تو اُنہیں اُداسی کے سبب، سوتے پایا۔ 46 اَور اُن سے پُوچھا، ”تُم کیوں سو رہے؟ اُٹھ کر دعا کرو تاکہ تُم آزمائش میں نہ پڑو۔“
49 جَب یِسوعؔ کے ساتھیوں نے یہ ماجرا دیکھا تو کہا، ”اَے خُداوؔند، کیا ہم تلوار چلائیں؟“ 50 اَور اُن میں سے ایک نے اعلیٰ کاہِن کے خادِم پر تلوار چلا کر، اُس کا داہنا کان اُڑا دیا۔
51 ”بس کرو! بہت ہو چُکا!“ اِس پر یِسوعؔ نے کہا، اَور آپ نے اُس کے کان کو چھُو کر اَچھّا کر دیا۔
52 تَب یِسوعؔ نے اہم کاہِنوں، بیت المُقدّس کے سپاہیوں، اَور بُزرگوں سے جو آپ کو گِرفتار کرنے آئےتھے، سے کہا، ”کیا تُم تلواریں اَور لاٹھیاں لے کر کسی بغاوت کرنے والے کو پکڑنے نکلے ہو؟ 53 جَب مَیں ہر روز بیت المُقدّس کے صحنوں میں تمہارے ساتھ ہوتا تھا، تو تُم نے مُجھ پر ہاتھ نہ ڈالا لیکن یہ تمہارے اَور تاریکی کے اِختیار کا وقت ہے۔“
57 مگر پطرس نے اِنکار کرکے کہا، ”اَے عورت میں اُسے نہیں جانتا۔“
58 تھوڑی دیر بعد کسی اَور نے اُسے دیکھ کر کہا، ”تُو بھی اُن ہی میں سے ایک ہے۔“
59 تقریباً ایک گھنٹہ بعد کسی اَور نے بڑے یقین سے کہا، ”یہ آدمی بِلا شک اُن کے ساتھ تھا، کیونکہ یہ بھی تو گلِیلی ہے۔“
60 لیکن پطرس نے کہا، ”جَناب، میں نہیں جانتا کہ تُم کیا بول رہے ہو!“ وہ ابھی کہہ ہی رہاتھا کہ مُرغ نے بانگ دے دی۔ 61 اَور خُداوؔند نے مُڑ کر پطرس کو سیدھے دیکھا اَور پطرس کو خُداوؔند کی وہ بات یاد آئی جو آپ نے پطرس سے کہی تھی: ”آج مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے، تُو تین بار میرا اِنکار کرےگا۔“ 62 اَور وہ باہر جا کر زار زار رُویا۔
70 اِس پر وہ سَب بول اُٹھے، ”کہ کیا آپ ہی خُدا کے بیٹے ہیں؟“
71 اُنہُوں نے کہا، ”اَب ہمیں اَور گواہی کی کیا ضروُرت ہے؟ کیونکہ ہم نے اُسی کے مُنہ سے اِس بات کو سُن لیا ہے۔“
<- لُوقا 21لُوقا 23 ->
Languages